پاکستان پرست پرویز الٰہی اور معاملہ مندر کی تعمیر کا
منیارہ نور
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی
ایک دفعہ پھر ”عزیر بلوچ” کے نام کی ”گونج” اسمبلی سے لے کر میڈیا کے ٹاک شوز تک میں سنائی دے رہی ہے … پی ٹی آئی کے ایک وفاقی وزیر قومی اسمبلی میں عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی کی رپورٹ لہرا لہرا کر پیپلز پارٹی والوں کے لتےلیتے رہے ، یاد رہے کہ ”عزیر بلوچ” کسی مسجد کا امام، کسی مدرسے کا مولوی، کسی جہادی تنظیم کا مجاہد یا کسی خانقاہ کے مرشد کا نام نہیں … بلکہ یہ نام سیکولر پیپلز پارٹی کی روشن خیالی کا منہ بولتا ثبوت ہے … بہرحال اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاچکا اور یہ خاکسار بھی لکھ چکا، اس لئے اس موضوع کی آخری بات کہ عزیر بلوچ نے جن سینکڑوں حرماں نصیبوں کو قتل کیا، ان کو شائد اس دنیا میں انصاف نہ مل پائے کیونکہ… تحریک انصاف کا ”انصاف” بھی فقط مخالفین کو گندہ کرنے کیلئے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ لہرانے تک ہی محدود ہے۔
اس لئے دوسرے موضوع کی جانب بڑھتے ہیں… نریندر مودی کے ہندوستان سے ہندو ”ناری” نے پاکستان کے ”چمچوں” اور پاکستان ”پرستوں” کے نام ایک سندیسہ بھیجا تھا کہ ”بنے گا مودی راج میں مندر اسلام آباد میں” اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حق میں لبرل شدت پسند اور موم بتی مافیا دستر خوان کے راتب خور بعض نمک حرام مولوی زادے… تو پہلے ہی سے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے لیکن ہندوستانی ”ناری” نے جو گلوکاری اور ڈانس کرتے ہوئے انٹر ی ڈالی تو پاکستان ”پرستوں” پر اصل حقیقت کھلی کہ ہندوستانی مودی کے راج میں ہی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر بھی آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے… پھر ایک گجراتی پاکستان ”پرست” نے جرات سے کام لیتے ہوئے وڈیو بیان جاری کیا… اور کہا کہ ”پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا ، دارالحکومت اسلام آباد میں نیا مندر بنانا نہ صرف اسلام کی روح کے خلاف ہے… بلکہ یہ ریاست مدینہ کی بھی توہین ہے، فتح مکہ پر خاتم النبینۖ نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کے ساتھ بیت اللہ شریف میں موجود 360 بتوں کو توڑا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا… کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا, پاکستان پرست سپیکر… پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا جرات مندانہ بیان آر ایس ایس کے مندر بنائو ایجنڈے کے خلاف پہلا بھاری پتھر تھا کہ جس نے لبرل شدت پسند اور راتب خور مولوی زادوں کے اوسان ہی خطا کر دیئے… وہ اس انتظار میں تھے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر … کی مخالفت مولویوں کی طرف سے آئے گی تو وہ انہیں گالیاں دے کر غیر ملکی آقائوں سے اپنے ”راتب ” میں اضافہ کروالیں گے… لیکن یہاں تو چوہدر ی پرویز الٰہی مولویوں سے پہلے ہی میدان میں کود پڑے… اسلام اور پاکستان سے محبت عشق کی ایسی بازی ہے… کہ جسے لبرل شدت پسند اور راتب خور مولوی زادے سمجھ ہی نہیں سکتے … پھر کراچی میں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن جیسے اعتدال پسند علماء کرام نے اسلام آباد میں مندر بنائے جانے کے منصوبے… کو مسترد کرتے ہوئے بڑے جاندار سوالات اٹھائے، سوشل میڈیا پر تو اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے پہلے ہی سے کہرام مچا ہوا تھا … ابھی یہ سارا گھڑمس جاری تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مندر کی تعمیر کو رکو ا دیا۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے… معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی اور مشاورت حاصل کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں، اب لبرل، سیکولر شدت پسندوں کی طرف سے یہ کہا جارہاہے کہ 22کروڑ مسلمانوں اور اسلام کو ایک ”مندر” سے کیا خطرہ لاحق تھا… کہ جو علماء نے اس کی مخالفت شروع کر دی ، مجھے ان لبرل شدت پسندوں سے یہ کہنا ہے کہ اگر تم سب بھی بمعہ اہل و عیال ہندو برادری میں شامل ہو جائو … اسلام اور مسلمانوں کو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ ہم یہ سو چ کر خاموش ہو جائیں گے… کہ ”پہنچی وہاں پر خاک جہاں کا خمیر تھا” اسلام اللہ کا دین ہے … ابوجہل، ابو لہب، مرحب، قیصر و کسریٰ اسلام یا مسلمانوں کے لئے خطرہ نہ بن سکے… تو کسی ”مندر” یا ”مندر” کے حامی منافقین کی کیا حیثیت ہے؟ بات مگر اصول کی ہے … ایک سیکولر شدت پسند نے اپنی تحریر میں اسلام آباد میں ہندو آبادی… کی تعداد بڑھا چڑھا کر کئی ہزار لکھی ہے … ایسے لگتاہے کہ جیسے موصوف نے اپنے آپ اور اپنے شدت پسند دوستوں کا شمار بھی انہی میں کیا ہے، سوال یہ ہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی جس چیئرپرسن نسرین جلیل نے ہندو پنچائیت کی… درخواست پر اسلام آباد میں مندر، شمشان گھاٹ بنانے کی اجازت دی تھی اس ”چیئرپرسن” کا اس وقت قائد بدنام زمانہ قاتل اور غدار پاکستان… الطاف حسین تھا … محترمہ نسرین جلیل سے اب پوچھ لیا جائے کہ کیا و ہ الطاف حسین کو قاتل اور غدار تسلیم کرتی ہیں؟ یہ وہی الطاف حسین کہ جس کی جماعت ایم کیو ایم کے دامن پر ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے خون کے داغ دھبے لگے ہوئے ہیں۔
کوئی بتاسکتاہے کہ جب سے ”سینٹ” کا ادارہ معرض وجود میں آیا ہے تب سے لے کر آ ج تک سینٹ کی کسی قائمہ کمیٹی نے پاکستان میں کسی ”مسجد” کے پلاٹ اور مسجد کی تعمیر کیلئے بھی کبھی کوئی فیصلہ دیا؟ کیا آئین پاکستان میں صرف اقلیتوں اور لبرل شدت پسندوں کے حقوق ہی درج ہیں … مسلمانوں کاکوئی حق نہیں؟ چوہدری پرویز الٰہی نے جو یہ کہا ہے کہ خاتم النبین حضرت محمد کریمۖ نے حضرت سیدنا علی کو ساتھ ملا کر… بیت اللہ شریف کو360 بتوں سے پاک کیا تھا؟ بالکل درست ہے، مسلمان بت شکن کو کہا جاتا ہے… بت فروش اپنے ایمان کی خیر منائیں، یاد رہے کہ یہ خاکسار پاکستان میں بسنے والی ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق کا مکمل احترام کرتا ہے لیکن اسلام آباد میں حکومتی سطح پر مندر کی تعمیر کو آر ایس ایس ایجنڈے کا حصہ سمجھتا ہے، کیا وجہ ہے کہ کل تک جو اسلام آباد کی تاریخی اور قدیم مسجد… لال مسجد کو نعوذ باللہ ”مسجد ضرار” قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے تھے … آج لبرل شدت پسندوں کا بگڑا ہوا وہی ٹولہ ، اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حق میں تاویلیں گھڑتا ہوا نظر آرہا ہے ، ہندوئوں کے مندر تو کراچی سے لے کر کشمور بلکہ ملک بھر میں جہاں ہندو آبادی زیادہ تعداد میں موجود ہے۔۔۔72 سالوں سے قائم ہیں، کیا پشاور میں مندر نہیں ہے؟ بالکل ہے… لیکن ان ”مندروں” کی تعمیر کیلئے تو کسی نسرین جلیل کو فیصلے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تو پھر اسلام آباد میں ایسی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سوال کا جواب آئندہ کسی کالم میں دوں گا۔ (ان شاء اللہ)










