والد نے 19 سالہ بیٹی کو نیند کی گولیاں دے کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
ہوش میں آنے کے بعد والد کو اپنے ساتھ دیکھ کر لڑکی کی خودکشی کی کوشش

نئی دہلی (سٹار نیوز آن لائن)بھارت میں والد نے بیٹی کو دوائی دینے کے بہانے نیند کی گولیاں دے کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔تفصیلات کے مطابق بھارت میں زیادتی کا ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں بنگلور میں 19 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے والد نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ملزم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے بیٹی کو بیماری کے دوران اصل دوائی دینے کے بجائے نیند کی گولیاں دی بعدازاں زیادتی کا نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی نے ٹوائلٹ صاف کرنے والا کیمیکل کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔تاہم متاثرہ لڑکی خود ہی پولیس اسٹیشن گئی اور ملزم والد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔والد کے خلاف درج درخواست میں لڑکی نے موقف اختیار کیا کہ اس کے والد نے کھانسی اور نزلہ کی دوائی کے بجائے اسے نیند کی گولیاں دی تھیں۔اگلی صبح اس نے اپنے والد کو اپنے ساتھ سوتا ہوا پایا۔

لڑکی کی شکایت پر عمل کرتے ہوئے پولیس اسے اسپتال لے گئی جہاں اس کا میڈیکل ٹیسٹ بھی کیا جائے گا۔جب کہ دوسری جانب ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور سوتیلی ماں کے کردار کی بھی چھان بین کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ملکی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 2007ء سے لے کر 2016ء کے دوران بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے ارتکاب میں 83 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ۔
عالمی بنک کی ایک اور رپورٹ کے مطاق اس صورتحال کے نتیجہ میں 2004ء سے 2012ء کے دوران دو کروڑ ملازمت پیشہ بھارتی خواتین جو نیویارک، لندن اور پیرس کی مجموعی آبادی کے برابر ہیں اپنی ملازمتوں کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو گئیں جو بھارتی معیشت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ میک کنسے گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ملکی بھارت میں 2025 ء تک ملکی معیشت میںخواتین کے بھرپور کردار سے جی ڈی پی میں 51.50 لاکھ کروٖڑ روپے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ بھارت میں اس وقت 27 فیصد خواتین ملازمت پیشہ ہیں ۔بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مارکیٹنگ ایگزیکٹو کی حیثیت سے کام کرنے والی خاتون نے بتایا کہ خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم نے انہیں شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے ۔