ہیلپ ٹرسٹ ۔۔امید کی ایک کرن۔۔۔۔۔
{>بکھری سوچیں<} کالم نگار غلام شبیر منہاس
یہ بات سچ ھے کہ ہر شر کے پس منظر میں خیر کا بھی کوئی پہلو ضرور پوشیدہ ہوتا ھے۔ یہ میرے رب کی مصلحتیں ہیں جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ رات کے بعد صبح، گھپ اندھیرے کے بعد تازہ روشنی، ظلم کے بعد انصاف، راستوں کی تھکن کے بعد منزل کا حصول و سکون، ظلمت کے بعد نور اور جہالت کے بعد علم بحرحال آپکا منتظر ضرور ہوتا ھے۔ شرط سفر مسلسل ، جدوجہد و عزیمت اور مستقل مزاج ہونا ھے۔ ھماری زمین بہت زرخیز ھے اور یہاں متعدد بار ایسا ہوا ھے کہ محض ایک آدمی جہد مسلسل کے عزم سے لیس ہوکر تن تنہا نکلا اور پھر پوری قوم کیلئے ضرب المثل بن گیا۔حقیقی طور پر وہی لوگ باعث صد تحسین ہوا کرتے ہیں اور تاریخ اپنے کشادہ سینے میں انہی کو جگہ دیتی ھے جو بجائے شکوہ ظلمت شب کے اپنے حصے کا کوئی ایک چراغ روشن کردیتے ہیں۔
ایسا ہی کچھ اس وبائی امراض "کورونا" کے پھوٹ پڑنے کے بعد دیکھنے میں آیا۔ جہاں اس مرض نے لوگوں کے نظام زندگی کو درھم برھم کرکے رکھ دیا۔ سفید پوش لوگ فاقوں کا شکار ھونے لگے۔ معیشت کا پہیہ رک گیا اور لوگوں پہ زندگی بوجھ بن گئی تو اس بظاہر شر اور مصیبت کے پیچھے بھی جو ایک مثبت اور حوصلہ افزا پہلو نظر آیا وہ مختلف علاقائی رفاعی تنظیموں کا مستحق لوگوں کیلئے اپنی خدمات پیش کرنا تھا۔ یہ لوگ فوری طور پہ میدان عمل میں آئے اور پھر مشکل کی اس گھڑی میں دکھی انسانیت کیلئے ان سے جو ھو سکا انہوں نے کیا۔مگر اس سارے پس منظر میں جو ایک نام ابھر کے سامنے آیا اور جس نے پورے پاکستان میں بلا رنگ ونسل خدمات پیش کیں وہ "ہیلپ ٹرسٹ رجسٹرڈ پاکستان " تھا۔
یہ ٹرسٹ یوں تو 18۔2017ء میں رجسٹرڈ ھوا اور اپنی رفاعی سرگرمیاں شروع کیں مگر کورونا کے موجودہ وباعی بحران میں اس ٹرسٹ نے اپنا وجود منوایا اور قریبا 4 ماہ سے اس کے رضاکار میدان عمل میں لاچار و بے بس انسانیت کی خدمت کیلئے مصروف عمل ہیں۔ اس وباء کے بعد رفاعی کام کرنے والے احباب کو یقینی طور پہ یہ احساس شدت سے ہوا ھے کہ اس میدان میں ابھی تک بہت کچھ کرنے کی ضرورت ھے۔ بلاشبہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے دکھی انسانیت کو جس قدر مدد کی ضرورت ھے اس سے ھم ابھی کافی دور کھڑے ہیں۔ اسی احساس کے تحت ہی پچھلے دنوں ہیلپ ٹرسٹ کے چیئرمین جناب حافظ ملک مظہر ایڈوکیٹ صاحب نے اسلام آباد میں ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا۔ محسن عباسی سے چوھدری ظہیر صاحب تک اپنی تمام بورڈ آف گورننگ کی باڈی کو بٹھایا اور اس کام میں جدت لانے اور تیز تر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جس دن اسلام آباد میں یہ اجلاس طے تھا اس دن بھی ملک صاحب پنڈی گھیب، فتح جنگ، اٹک، جنڈ، کوھاٹ، بنوں، لوئردیر اور اپر دیر سمیت نصف خیبر پختون خواہ کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے سیدھے اجلاس میں پہنچے تھے۔ان کے چہرے پہ تھکن ضرور تھی مگر ان کاحوصلہ بھی جوان تھا اور ٹرسٹ کیلئے ملنے والا رسپانس پہ خوش بھی تھے۔ کل جب میری چیئرمین ہیلپ ٹرسٹ ملک مظہر جاوید ایڈوکیٹ صاحب سے فون پہ بات ہوئی تو وہ اسی وقت ایک لمبا سفر کرکے اسلام آباد پہنچے تھے۔۔انہوں نے بتایا کہ میں پچھلے دو دن سے کشمیر اور ھزارہ ڈویثزن کے تفصیلی دورہ پہ تھا۔ میں نے تفصیل اور رسپانس جاننا چاھا تو فرمانے لگے کہ میں نے ہری پور سے آغاز کیا۔ وھاں حنیف خان صاحب کی زیرسرپرستی ہیلپ ٹرسٹ کے رضاکاروں سے ملاقات کی اور حنیف خان صاحب کو لے کر ایبٹ آباد پہنچے جہاں جناب جمیل صاحب علامہ عبدالرزاق صاحب، ڈاکٹر ہارون صاحب، مفتی طارق صاحب اور غلام مرتضی صاحب سے ملاقات کی۔ اور جمیل صاحب کو ہیلپ ٹرسٹ ھزارہ ڈویثزن کا کنوینیئر منتخب کیا۔ یہاں ہی مفتی طارق صاحب نے ہیلپ ٹرسٹ کے یتیم بچوں کی کفالت کیلئے لانچ کیئے جانے والے پراجیکٹ " پرورش" کیلئے زمین بھی عطیہ کی۔ اور 26 جولائی کو فری میڈیکل کیمپ بھی لگانے کا اعلان کیا۔اس کے بعد یہ حضرات مانسہرہ پہنچے جہاں نذیر صاحب، عبدالواحد صاحب اور معززین علاقہ سے ملاقاتیں کیں۔ پھر یہاں سے گڑھی حبیب اللہ کیلئے عازم سفر ہوئے جہاں ہیلپ ٹرسٹ کے ایک انتہائی متحرک نوجوان نصیر عثمانی صاحب نے اھل علاقہ کو کثیر تعداد میں جمع کررکھا تھا۔ یہاں چونکہ پہلے سے بھی ٹرسٹ کام کررھا تھا سو نصیر عثمانی، ارشد صدیقی، سعید ھزاروی، خالد صاحب اور نذیر صاحب سے ٹرسٹ کی کارکردگی پہ تفصیلی بریفنگ لی گئی اور کام کو سراھا گیا۔ وقاص چودھری صاحب کو تحصیل بالاکوٹ کا کنوینیئر نامزد کیا گیا اور یہاں سے مظفرآباد کے سفر کا آغاز ہوا۔ مظفر آباد میں جناب مہتاب ایڈوکیٹ صاحب اور حماد بٹ صاحب سمیت معززین علاقہ سے ملے اور اتفاق رائے سے جناب حماد بٹ صاحب کو آزاد کشمیر کیلئے ہیلپ ٹرسٹ کا کنوینیئر مقرر کردیا گیا۔ وھاں سے بالاکوٹ کیلئے روانگی ہوئی جہاں میاں محمود الحسن صاحب اور میاں عطا الرحمان صاحب کے ساتھ اھل علاقہ کی کثیر تعداد نے استقبال کیا۔ وھاں بھی ہیلپ ٹرسٹ کے حوالہ سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔بالاکوٹ میں میاں عطا الرحمان صاحب کو کنوینیئر مقرر کیا گیا۔اس موقعہ پہ میاں جمیل الرحمان ایڈوکیٹ صاحب نے وکلاء سے ملاقات طے کررکھی تھی۔ان سے بھی سیر حاصل بات چیت کی گئی۔ یہاں سے ھم چھترپلین پہنچے جہاں سید یوسف شاہ صاحب نے ھمارے اس وفد کا استقبال کیا اور انھوں نے کوھستان اور بٹگرام سے بھی احباب کو بلا رکھا تھا۔ اس موقعہ پہ کوھستان کا کنوینیئر منتخب کیا گیا اور شاہ جی نے علی میڈیکل کلینک کو ہیلپ ٹرسٹ کے تحت کرنے کا اعلان کیا۔ الغرض آپکو کیا بتاوں۔ یقین کریں لوگوں میں رفاعی کاموں کا بڑا جذبہ موجود ھے اور وہ کام کرنا چاہتے ہیں بشرطیکہ انکو کوئی مناسب پلیٹ فارم مہیا ھو۔اور یہ کمی ہیلپ ٹرسٹ نے پوری کردی ھے۔
ہیلپ ٹرسٹ اس وقت ملک میں چھوٹے بڑے کئی پراجیکٹس کررھا ھے۔ تاھم ان کا جو مستقبل کا ایک بڑا منصوبہ ھے وہ "پرورش" کے نام سے یتیم اور بے سہارا بچوں کیلئے ھے۔ ان حضرات کا اس ضمن میں یہ موقف ھے کہ ھمارے معاشرے میں بہت سے زھین اور ہونہار بچے محض اس لیئے زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں کہ وہ یتیم اور غریب ہوتے ہیں۔ ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ زمانے کی ٹھوکروں پہ رکھ دیئے جاتے ہیں۔ ان بچوں کیلئے مستقل طور پر رھائش گاہیں، تعلیم وتربیت اور لباس و خوراک کا ٹرسٹ انتظام کرے گا۔ یہ بڑی ہی خوش آینئد بات ھے۔ کیونکہ ھم روزمرہ زندگی میں پھول جیسے بچوں کو محنت مزدوری کرتے اور مار کھاتے دیکھتے ہیں۔یہی بچے آگے چل کر جرائم کی وادیوں کا رخ بھی کرتے ہیں اور ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار بھی بنتے ہیں۔
ایک اور احسن کام جسکو بلاشبہ قابل تقلید عمل بھی کہا جاسکتا ھے وہ یہ ھے کہ اس بار ہیلپ ٹرسٹ نے وقف قربانی کا بھی اہتمام کیا ھے۔ پاکستان کے انتہائی غریب اور پسماندہ علاقوں کیساتھ ساتھ ہیلپ ٹرسٹ نے آپکی وقف قربانی کو شام اور برما کے ان مظلوم مسلمانوں تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ھے جن بے چاروں کو پورا سال حلال گوشت کا ایک لقمہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ بس آپ نے علاقہ منتخب کرنا ھے۔ اور اپنی حیثیت کے مطابق گائے یا بکرے کی قربانی کی رقم ہیلپ ٹرسٹ تک پہنچانی ھے۔ یہ ٹرسٹ عید سے پہلے تک آپکی اس رقم سے جانور خرید کر ان علاقوں تک پہنچا دے گا اور وھیں قربانی کرے گا۔ تا کہ اس بار آپکی قربانی کا گوشت خاندان کے گھروں میں ہی بانٹنے کی بجائے صحیح اور مستق افراد تک پہنچ سکے۔ میری زاتی رائے بھی یہی ھے کہ کورونا اور موجودہ صورتحال میں یہ ایک انتہائی احسن قدم ھے اور اسکی بھرپور حوصلہ افزائی ہونی چاییئے۔ آپ میں سے بھی اگر کوئی وقف قربانی کیساتھ ساتھ مستقبل میں اس ٹرسٹ کے شانہ بشانہ کام کرنے کی خواہش رکھتا ھے تو ان نمبرز پر رابطہ کرلیں۔03345112991۔
03345810160۔ 03345602223۔ 03453974586۔ بے شک انسانیت کی خدمت سے بڑا اور احسن کام اس دنیا میں کوئی نہیں ھے۔









