شہیدِ بدر سیدنا حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ

تحریر ۔۔ عبدالروف چوہدری

سیدنا حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ خزرج کے مشہور خاندان ”نجار“ سے تھا۔ آپ کے والد گرامی کا نام ”سراقہ“ جب کہ والدہ محترمہ کا نام ”ربیع بنت نضر“ تھا۔ اور ان کا شمار جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ معروف صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ماموں زاد بھائی تھے۔ والد گرامی ہجرت سے قبل ہی انتقال کرگئے تھے البتہ والدہ زندہ تھیں، والدہ کے ساتھ ہی مشرف بااسلام ہوئے۔

آپ رضی اللہ عنہ والدہ کے نہایت ہی اطاعت گزار اور فرماں بردار تھے، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ”ماں کے بارے میں نہایت نیکوکار تھے“۔

ان کے جوش ایمانی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی طرف جا رہے تھے کہ حارثہ سامنے آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حارثہ! صبح کیسی کی؟ عرض کرنے لگے یارسول اللہ اس طرح کہ سچا مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زرا سوچ کر کہو، ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے، عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے منہ پھیر لیا ہے، رات کو رواں اور دن کو تشنہ دہن رہتا ہوں (شاید اسے مراد رات بھر عبادت میں مشغول رہتا ہوں اور دن بھر روزہ رکھتا ہوں) اس وقت یہ حال ہے کہ اپنے کو عرش کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، جنتی کو جنت اور جہنمی کو جہنم میں جاتا ہوا دیکھ رہا ہوں، آپ میرے لیے شہادت کی دعا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی جس کے ثمرات بدر میں ظاہر ہوئے۔

ہوا کچھ یوں کہ آپ بدر میں شریک تھے، جس دن کوچ کا حکم ہوا تو سب سے پہلے گھوڑے پر سوار ہوکر نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نگران بنا رکھا تھا، ایک حوض پر پانی پی رہے تھے کہ حبان بن عرقہ نامی آدمی نے تیر مارا جس سے شہید ہوگئے، کہا جاتا ہے کہ انصار میں سب سے پہلے انہی کی شہادت ہوئی۔

جب بدر سے واپسی ہوئی تو ان کی والدہ محترمہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یارسول اللہ! حارثہ سے مجھے جس قدر محبت تھی آپ کو معلوم ہے، اگر وہ جنت میں گیا ہے تو صبر کروں گی ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا کہہ رہی ہو، جنت ایک نہیں بلکہ بکثرت ہیں اور حارثہ تو جنت الفردوس میں ہیں۔ ماں اس بشارت کو سن کر خوش ہوگئیں اور پکار اٹھیں ”واہ واہ حارثہ واہ“۔