روح پرور نظارہ
( بکھری سوچیں )
کالم نگار غلام شبیر منہاس
مجھے اپنے آپکو سمجھانے میں کافی وقت لگا کہ یہ خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت ھے۔۔ایک ایسی ناقابل یقیں حقیقت جس کو کسی صورت جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ گو آئے روز درپیش حادثات اور ان پہ ڈالی جانے والی گرد میں ھم کمزور ایمان لوگ بھی اتنے اٹ چکے ہیں کہ اب کہیں سے کوئی مثبت خبر آئے تو دل یقین کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتا۔۔اس پہ دلائل مانگتا ھے۔۔جرح کرتا ھے۔۔مگر اس کو سمجھانا پڑتا ھے کہ۔۔زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ھے ساقی۔
86 سال بعد آج نماز جمعہ کے دن کے اس روح پرور نظارے کو بھی دل تسلیم کرنے سے قاصر تھا۔۔شاید اسکی وجہ اقتدار کو سب کچھ سمجھنے کر بے راہ روی کا شکار مسلم حکمران ہوں یا پھر مغرب کو خدا کا درجہ دے کر اسکو اپنے لیئے نفع نقصان کا مالک قرار دینے والے کمزور مسلم بادشاہ۔۔ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی بجائے راہ فرار اختیار کرنے والے کمزور دل سپاہ سالار ہوں یا غیر مسلم طاقتوں سے مرعوب ھو کر ان کے آگے لیٹ جانے والے ناعاقبت اندیش مسلم دنیا کے تخت و تاج کے مالک۔۔۔ سو اس جیسی کئی ایک وجوھات کی وجہ سے ہی دل نے اس سچ کو بھی تسلیم کرنے میں اچھی خاصی مزاحمت کی۔۔مگر یہ ایک حقیقت تھی۔جو چڑھتے سورج کیطرح پوری دنیا پہ آشکار ھو چکی ھے۔
قسطنطنیہ کی فتح کی علامت اور سلطنت عثمانیہ کے عروج کی نشانی استنبول میں واقع “آیا صوفیہ”جہاں آج 86 برس بعد ایک بار پھر اللہ اکبر کی صدایئں گونجیں گی۔ آج اس تاریخی مسجد میں نماز جمعہ کی ادایئگی کی جائے گی۔1934ء میں عجائب گھر بن جانے والی اس مسجد میں آج پھر مسلمانوں کی جبینیں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوگی۔
کمال اتاترک ۔۔۔جس نےسیکولر ترکی کی بنیاد رکھی۔۔ایک ایسا حکمران جس نے ترکی سے اسلام کی جڑوں کا اکھاڑ پھینکا۔۔اسی کمال اتاترک نے اپنے اقتدار کی ایک دہائی کے بعد اس مسجد کو جو کہ 1453ءمیں قسطنطنیہ کی عثمانی سلطنت میں شمولییت کے بعد آیا صوفیہ کے نام سےایک مسجد بن چکی تھی۔میوزیم میں تبدیل کردیا۔۔اس مسجد کو ابتداء میں 1931ء میں سیل کیا گیا۔اورپھر 3 سال بعد عجائب گھر میں تبدیل کردیا گیا۔ 86 سال تک ماضی کی یہ تاریخی مسجد میوزیم بنی رہی جس کو ترکی کے موجودہ صدر رجب طییب اردگان نے دوبارہ مسجد بنانے کا اعلان کیا جس پہ معاملہ ملک کی اعلی عدلیہ میں جا پہنچا۔ اور کچھ روز قبل ملک کی اعلی عدلیہ نے صدر کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو مسجد بنانے کے حق میں فیصلہ دیا۔ کل ترکی کے صدر نے اس میں جاری کام کا جائزہ لیا اور آج 86 سال بعد اس میں ایک بار پھر مسلمانوں کا جمع غفیر نماز جمعہ ادا کرے گا۔ صدر طییب نہ صرف خود بھی آج جمعہ کی نماز یہیں ادا کریئنگے بلکہ ملک کے اعلی اداروں کے 500 سربراہان کو بھی دعوت دی ھے۔ اس مسجد کیلئے تین امام اور پانچ موزن بھی تعینات کردیئے گئے ہیں۔مسجد میں اللہ۔۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے نام کنندہ کروائے گئے۔۔کل کا عجائب گھر آج روحانیت کا ایک مرکز بن چکا ھے۔
یہاں دو باتیں ہمیں نہیں بھولنی چاہیئں ۔۔پہلی یہ کہ جب یہ مسجد میوزیم تھی تو ترکی میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا یہ دوسرا میوزیم تھا۔ جہاں سیاح اسکو سالانہ 3.3 ملین کی تعداد میں دیکھنے آتے تھے۔ جو کہ ایک بڑا معاشی پیکج اور آمدن کا زریعہ تھا۔اور دوسری بات یہ کہ اس کو میوزیم سے دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کو روکنے کیلئے مغرب بے اپنا پورا زور لگایا مگر سلام ھے ترکی کے صدر اور عوام کو جنھوں نے ایک اصولی موقف لیا اور پھر نہ معیشت کو دیکھا اور نہ دباو کو کسی خاطر میں لائے اور آج اس خواب کو اقوام عالم کے سامنے شرمندہ تعبیر کردیا۔
خزاں کے اس موسم میں۔۔حبس کی اس فضاء میں۔۔ظلم و ستم کی ناو میں بہنے والی اس موجودہ دنیا میں۔۔ظلمت و تاریکی کے اس دور میں۔۔گھٹا ٹوپ اندھیروں کے اس گھنے جنگل میں۔۔عدم توازن اور کمزوروں کو دبا دینے والے اس موسم نامہربان میں۔۔طاقتوروں کے تحفظ میں بنی عالمی عدالتوں اور انکے مسلط کردہ خود ساختہ فصیلوں کے طوفان بلا میں۔۔آیا صوفیہ کا دوبارہ مسجد بننا ۔۔ایک تازہ ہوا کا جھونکا ھے۔۔ایک امید کی کرن ھے۔۔ایک روشنی کی نوید ھے۔۔یہ ایک پیغام ھے دنیا بھر میں موجود اربوں کھربوں کی مسلم آبادیوں۔۔فوجوں اور حکمرانوں کو۔۔کہ آپ اب بھی اللہ کا نام لیں اور عزیمیت کے راستوں کا انتخاب کریں تو ہوا و دریا اب بھی آپ ہی کے تابع ہونے کو بے قرار ہیں۔۔یہ فضایئں خود بخود مسخر ہوتی چلی جایئں گی۔۔فرشتے آپکے آج بھی ھم رکاب ہوں گے بس شرط بدر کی فضاء پیدا کرنے کی ھے۔۔
دنیا میں قبلہ اول سمیت ان گنت مساجد ہیں جو آپکی راہ دیکھ رہی ہیں۔جہاں آج بھی اصطبل اور شراب خانے بنے ہوئے ہیں۔۔آگے بڑھیں اور اللہ کے ان گھروں کو ظالم استعمار کے خون آلود شکنجوں سے آزادی دلوایئں۔۔مقبوضہ کشمیر سمیت ان گنت وادیاں ہیں جہاں مساجد ویران پڑی ہیں۔۔یہ اقتدار۔۔یہ طاقت۔۔اور یہ عمر۔۔سب کچھ عارضی ھے۔۔اس کو دوام بخشنا چاہتے ہیں تو اپنے حصے کا کوئی دیا روشن کرجایئں۔۔اگر تاریخ کے سینے میں روشن چراغ کیطرح ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر اپنی توانایئاں اس طرف بھی صرف کریں۔
آیا صوفیہ کے میناروں سے 86 برس بعد بلند ہونے والی اللہ اکبر کی صدایئں محض آذان نہیں ھے۔۔بلکہ دنیا کے ھر مسلمان کیلئے ایک دعوت فکر ھے۔۔اللہ کی کبریائی کیلئے جدوجہد کی طرف آنے کی دعوت ھے۔ خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ کرنے کیطرف بلانے کا اعلان ھے۔ یہ روح پرور نظارہ صدیوں کی پیاسی دھرتی کو سیراب کرتا بارش کا پہلا قطرہ ھے۔۔خدا کرے ان قطروں کا نزول ہوتا رھے۔امین
Another important characteristic of preparing a study paper is that of https://www.affordable-papers.net/ organization.








