#قتل ماورائے عدالت تھا ، خالد نے قانون توڑا، عدالت کی توہین بھی کی، سرکاری اہلکار کا اسلحہ استعمال کیا ، یہ تمام جرائم ہیں ، جس کی رو سے آپ ملزم کو قصور وار ٹھہراسکتے ہیں مگر ٹھہریئے ،،،،
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ھے، اس سے قبل سلمان تاثیر کی ہلاکت بھی آئینی نہیں تھی ، اسے مارنے والا بھی اپنے فعل کو خلافِ قانون سمجھتا تھا ، آج خالد نے جس وقت اس گستاخ کے قتل کا ارادہ کیا ھوگا، پہلا خیال اس کے ذہن میں اپنی پھانسی کا آیا ھوگا ، جسے جواباً اپنے قتل کیئے جانے کا یقین پختہ تھا ، لیکن عشق ومحبت میں انتقام اور نتیجہ کون دیکھتا ھے ! اور اسی کا نام عشق ھے ۔
یہ بات مسلم ھے کہ خالد کو قانوناً قتل کرنے کا حق حاصل نہیں تھا ، لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جو انتہائی غور طلب ہیں، اگر ریاست اور خاص کر عدلیہ مستقبل میں ایسے سانحات سے ملک کو پاک دیکھنا چاہتا ہے، تو اسے اپنے ماضی پر ایک نظر ڈالنی ہوگی، اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھنا ہوگا۔
اگر سوال کیا جائے کہ قیام پاکستان کے بعد ریاست اور عدالت نے کتنے گستاخوں کو سزا دی ھے ، آئین کے مطابق کس کس مجرم کو تختہ دار پہ لٹکایا ھے ؟؟
تو جواب نفی اور صفر کی صورت میں ملےگا، قوم کے جذبات کا جنازہ نکال کر “آسیہ” کو کس طرح عیسائیوں کے حوالہ کیا گیا !!
خیر پرانی باتیں چھوڑے آج ہی مردار ھونے والا “طاہر قادیانی” پچھلے آٹھ دس سال سے نبوت اور مسیح موعود کا دعوی کررہا ھے ، خود کو مجدد اور مرزا قادیانی کو راہ حق پر ظلی بروزی نبی مانتا ھے ، پچھلے دو سالوں سے “طاہر” کے خلاف پشاور کورٹ میں گستاخی کے مقدمات زیر بحث تھے ، ایک سربازار گستاخ کو مجرم ثابت کرنے کیلیئے دو سال کافی نہیں تھے ؟؟؟
پچھلے ہی ہفتہ عدلیہ صرف اس وجہ سے “یوٹیوب” بند کرنے کا عندیہ دے چکی ھے ، کہ وہاں کسی جج کی شان میں نامناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا، جب آپ کو اپنی عزت اس قدر عزیز ھے ، تو حب رسولؐ سے سرشار سینہ رسول اللہ ﷺ کا گستاخ برداشت کرسکتا ھے ؟ ؟؟؟
آپ کوئی ایک واقعہ تو دکھائے جب آپ نے کسی گستاخ کو قانون کے مطابق سزا دی ھو ، یہ آپ کی کمزوری اور انصاف کا نکالا ھوا جنازہ ھے ، جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنےھے، روز اول سے یہی روایت چلی آرہی ھے کہ “جس مقام پر قاضی کا قلم بک جائے وہاں غازی کی تلوار فیصلہ کرتی ھے”۔
آپ خوب واویلا کرلے، لبرلز اور ملحدین اپنی آوازیں عرش تک بلند کرلیں ، لیکن جب تک عدالت انصاف نہیں کریگی ، ہر “طاہر” کیلیئے “خالد” پیدا ھوتا رھے گا ،،
قلم بکے گا تو تلوار لہرائے گی۔۔۔طاہرقادیانی کیلیے خالد نکلے گا۔۔۔۔دبنگ کالم۔۔سٹار نیوزپر
505












