چنگاری سے شعلہ۔

کافی دنوں سے کچھ لکھنےکودل نہیں کرتا, موضوعات کاانبارہے اورمختلف اطراف سےاڑائ گئی دھول کہ ایک عامی کوکبھی درست فیصلے تک پہنچنے نہ دیاجاۓ جبکہ عامیوں نےبھی “عطارکےلونڈوں”سے ہی دوالینےکی قسم کھارکھی ہے۔۔۔ایسے میں گاہے بندہ خاموش رہنے اورانتظارکرنےمیں عافیت سمجھتاہے لیکن ناموس مصطفی ﷺ اورتحفظ ختم نبوت ﷺ کی بات ۔ ۔
کیسے ممکن ہے کہ آقا ﷺ کے ناموس کی بات ہو,ختم نبوت ﷺ پہ پہرادینےکی بات ہو اور ہم چپ رہیں,اللہ ایسی حالت سے پہلے ہماری سانس سلب کرلے۔۔۔
پشاورکےعدالتی احاطےکےاندر قتل ہونےوالے کذاب کےواقعہ پہ اہل ایمان کےفطری ردعمل کےبرعکس کچھ لوگ قانون کوہاتھ میں لینے کےبرخلاف ڈھکے چھپے اندازسے مختلف اقسام کےدلائل کاسہارالےرہے ہیں اور چنداعلانیہ اس واقعہ کی مذمت میں نکل پڑےہیں۔سوال یہ ہے کہ قانون کس نے ہاتھ میں لیا ؟کتنے عشرے گزرچکے, کتنی عدالتوں نے درجنوں گستاخوں کوسزاۓ موت سنائ لیکن کب کسی گستاخ کوپھانسی چڑھایاگیا ۔ ۔ ۔عدالتوں کوگالی دینے کی بجاۓ حکمران اس بات کاجواب دیں۔۔۔

سرکارمدینہ ﷺ کےنام پہ ووٹ لےکےآنےوالے حکمران ڈرامےبازی سےآگے کچھ نہ کرپاۓ ۔مدینتہ النبی ﷺ میں چندقدم ننگےپاوں چلنے کی شوٹنگ سے عشق مصطفی ﷺ کاکوئ تقاضاپورانہیں ہوتا۔تمہارے ملک میں آقاۓ نامدارﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے اور تم عدالتوں کی دی گئی سزاوں میں سےکسی ایک پہ بھی عمل نہیں کرواتے توکس منہ سےآقاﷺ کےقدموں میں حاضری دینےجاتےہو؟
تم ملعونہ آسیہ کوجو دوعدالتوں سےسزایافتہ تھی, اپنے حقیقی آقاؤں کےحوالے کرنے کےلئے پاکٹ عدالت کاکندھا استعمال کرتےہو, تم امریکہ سے قادیانیوں کوسہولتیں دینےکاسرٹیفکیٹ پاتےہو اورانکواعلی عہدوں پہ فائزکرتےہو,تم بت خانوں کی تعمیرات میں دلچسپی لیتےہواور بیت المال کی کمزورحالت کےباوجودگوردوارےکےلئے اربوں روپےلٹادیتےہو۔ ۔ ۔

حکمرانو! بدنام عدالتوں کےپیچھے اپنے مکروہ چہرےمت چھپاو۔تمہارے اقدامات خود تمہاری منزل کی سمت کاحوالہ ہیں۔

ہم ماوراۓ آئین اقدام کی طرح ماوراۓ عدالت قتل کوبھی درست نہیں سمجھتے لیکن جب ناموس مصطفی ﷺ اور ختم نبوت ﷺ کے دفاع کی بات ہوگی توحکمران کان کھول کےسن لیں کہ وہ قانونی فیصلوں پہ عملدرآمد میں رکاوٹیں ڈال کراورطوالت دے کریہ توقع ہرگزنہ رکھیں کہ اسلامیان پاکستان قانون کےلولی پاپ سےکھیلتےرہیں گے اورہمارے لہومیں موجود چنگاریاں کبھی شعلہ نہیں بنیں گی۔۔۔تم عدالتی فیصلوں پہ عملدرآمدنہیں کرواؤگے توعاشقان مصطفی ﷺ کواپنے فیصلوں سےکبھی روک نہیں پاؤگے۔
تم گستاخوں کی سرپرستی کروگے توملت غازی علم دین, ممتازقادری اورخالد پیش کرتی رہے گی۔

کذاب طاہر کوقتل کرنےوالا خالد ملت اسلامیہ کاہیرو ہے جس نےعدالتی احاطےمیں ملعون کوواصل جہنم کرکے ختم نبوت ﷺ کے دفاع کااعلان بھی کیا اور بیک وقت عدالتی فیصلوں کی حیثیت بھی کھول کےرکھ دی۔

آخری بات وذیراعظم عمران خان سے یہ کہنی ہے کہ تم اگر ریاست مدینہ کےدعوی میں ایک فیصدبھی سچےہو توجیلوں میں موجوداہانت رسالت ﷺ کےمرتکب درجنوں شاتمان رسول ﷺ, کہ جنکےعدالتی ٹرائل مکمل ہوۓ کئی برس بیت چکے اورانکو سزاۓ موت سنائ جاچکی, فی الفورانکی سزاؤں پہ اعلانیہ عمل کراؤ بصورت دیگر ریاست مدینہ کاراگ الاپنا چھوڑ دو۔۔۔۔!!
۔