عید مبارک!

{ منیارہ نور }

کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

آج عید الاضحی کی خوشیاں ہم اس حال میں منا رہے ہیں کہ ایک طرف کورونا وائرس کے مزید پھیلائو کا خوف ہے تو دوسری طر ف لاک ڈائون اور مہنگائی کی شدت نے اچھے خاصے سفید پوشوں کو بھی غربت کی لکیر کے نیچے لاپھینکا ہے … دل والے مخلص مسلمان آج جانوروں کی قربانی کرکے سنت ابراہیمی زندہ کریں گے … مگر ملکی فضائوں پر لاہور کی پریس کانفرنس میں کی جانے والی توہین صحابہ کی وجہ سے جو نحوست طاری ہے … نجانے جانوروں کی یہ قربانی صحابہ کرام کی گستاخی کی نحوست سے پاکستان کو نجات دلاسکے گی یا نہیں؟
اس لئے کہ توہین صحابہ اور توہین اہل بیت کوئی معمولی جرم نہیں ہے بلکہ صحابہ کی گستاخی کرنے والوں پر اللہ، اس کے رسولۖ اور فرشتوں کی لعنت برستی ہے، یہ میری بات نہیں بلکہ فرمان رسول ۖ ہے، صحابہ کے گستاخ لعنتیوں کا آزاد فضائوں میں گھومنا عذاب خداوندی کے مترادف ہے … ملکی ادارے اور حکمران کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے بخوبی واقف ہیں … تمام ذی شعور انسان اسے خدا کی ناراضگی کا سبب قرار دیتے ہیں … جس سرزمین پر اللہ کے برگزیدہ بندوں اور خاتم النبینۖ کے پیارے صحابہ کی کھلے عا م توہین ہوگی اس سرزمین پر نہ خوشحالی آسکتی ہے اور نہ ہی وہاں ترقی کی خوشبو پہنچ سکتی ہے، خبر یہ بھی ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے پاکستان کے22 کروڑ عوام کی عید کی خوشیوں کو مزید دوبالا کرنا چاہتی ہے، ساہیوال کے جوانسالہ صحافی اسامہ شرافت نے گزشتہ روز حضرت سیدنا ابراہیم علی السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے حوالے سے مجھے ایک نوٹ بھیجا چونکہ اس میں جلیل القدر انبیاء کرام کی قربانی کا تذکرہ ہے ، کالم کی زینت بنا رہا ہوں … عزیزم اسامہ لکھتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ سے لے کر چلے اور منیٰ میں جاکر ذبح کرنے کی نیت سے ایک چھری ساتھ لی، جب منیٰ میں داخل ہونے لگے تو بیٹے کو شیطان بہکانے لگا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پتہ چلا تو شیطان کو اللہ اکبر کہہ کر سات کنکریاں ماریں، جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا … دونوں باپ بیٹا آگے بڑھے تو زمین نے شیطان کو چھوڑ دیا، کچھ دور جاکر شیطان پھر بہکانے لگا تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پھر اسے ”اللہ اکبر” کہہ کر سات کنکریاں ماریں وہ پھر زمین میں دھنس گیا ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا … ذبح کرنے کیلئے چھری گردن پر رکھ دی ابھی ذبح کرنے نہ پائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئی (ترجمہ) اے ابراہیم ! تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہی وہ جذبہ قربانی ہے کہ اللہ پاک کو جو اس قدر پسند آیا کہ قیامت تک اس عمل اور جذبے کو زندہ رکھنے کے لئے قربانی ہر صاحب استطاع پر واجب کر دی … عزیزم اسامہ شرافت لکھتے ہیں کہ انبیاء کرام کا یہ واقعہ جہاں امت کو حق و صداقت اور دین کی سربلندی کیلئے ہر وقت جذبہ قربانی سے سرشار رکھتا ہے وہاں اس بات کا غماز بھی ہے۔۔۔ کہ شیطان اور شیطانی طاغوتی طاقتیں رب العزت کے پسندیدہ بندوں کی ادائوں کی شہر ت کو نہ دباسکتی ہیں اور نہ مٹا، آ ج اگر صدیوں بعد بھی امت مسلمہ عید الاضحی کے پرمسرت موقع پر جانوروں کی قربانیاں پیش کر رہی ہے تو یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ہر سچا مسلمان بنیاد پرست بھی ہے … ہم زمانے کی ”جدیدیت” کے ساتھ تو چلنا چاہتے ہیں مگر اپنی اسلامی، تہذیبی اور اخلاقی روایات کی بنیاد پر کھڑا ہوکر اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے ہم نے قربانی کا عمل کیا، سیکولر بتوں کو پاش پاش کر کے… جو سیکولر اور لبرل شدت پسندی کے جنون میں مبتلا ہوکر اپنی ”بنیاد” بھول جاتے ہیں … ایسے کم ظرف بے بنیادوں کو کوئی بتاے کہ تم خدا کی زمین اورآسمان سے نکل کر تو دکھائو؟
”سائنس” کے مامے، چاچے بن کر اللہ اور اس کے رسولۖ کی تعلیمات سے منہ موڑنے والو! نہ تمہاری سائنس اور سائنسدان اس زمین کے مقابلے میں دوسری زمین تیار کرسکے اور نہ ہی آسمان کے مقابلے میں کوئی دوسرا آسمان، یہ عیدقربان ہر عقل مند کو سمجھا رہی ہے کہ یورپ کے دستر خوان کے راتب خور، جتنا مرضی اچھلیں، کودیں، دینی احکامات کا مذاق اڑانے اور علماء کرام کو منہ چڑانے والے، جتنا مرضی نخوت سے سر جھٹکیں، ان کی نہ کوئی بنیاد ہے او ر نہ اوقات، یہ تو اپنی مرضی سے نہ اللہ کے بنائے ہوئے آسمان کے نیچے سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی ”زمین” سے ، عید قربان کا سبق یہ ہے کہ اس ”انسان” سے وہی جانور بہتر کہ جو اللہ کے نام پر قربان ہوتا ہے، بھلا وہ بھی کوئی انسان ہے کہ جس کے دل میں اللہ کے دین کے لئے اپنی جان قربان کرنے کا شوق اور جذبہ ہی موجود نہ ہو؟