فضائل و مناقب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ

ازقلم رانا اسد منہاس(جڑانوالہ)

سیدنا حضرت حسینؓ بن علی المرتضٰیؓ بتاریخ 5شعبان المعظم بمطابق 4ہجری بوقت شام سیدہ فاطمتہ الزّاہرہؓ بنت محمد رسول اللہﷺ کے بطن مقدسہ سے جلوہ آرا ہوئے۔حضور اقدسﷺ کو جب آپؓ کی ولادت بسعادت کی خبر دی گئی تو حضور پرنورﷺ نے مسّرت کا اظہار فرمایا اور خبر سنتے ہی فاطمتہ الزّاہراؓ کے گھر تشریف لے گئے۔اسماء بنت عمیسؓ نے آپؓ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضورﷺ کی خدمت عالیہ میں پیش کیا۔نبی اکرمﷺ نے بہ کمال محبت و شفقت سے سیدنا حسینؓ کو اپنی آغوش میں لیا اور دائیں کان میں اذان کہی اور ایک کھجور اپنے منہ میں چبا کر اس کی گھٹی دی اور “حسین” نام رکھا۔نبی اکرمﷺ نے آپؓ کے سر کے بال ترشوا کر اس کے ہم وزن چاندی صدقہ فرمائی اور دو مینڈھے صدقہ کیے۔
سیدنا حسینؓ بہت حسین و جمیل تھے۔ایک صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپؓ اپنے نانا جان جناب محمد رسول اللہﷺ سے مشابہت رکھتے تھے۔آپؓ کی کنیت ابوعبداللہ اور سیّد،شہید،زکی،سبط،رشید،مبارک وغیرہ آپؓ کے القاب ہیں۔آپؓ کو “شبیر” بھی کہا جاتا ہے۔آپ کا مختصر شجرہ نصب درج ذیل ہے،حسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب یعنی تیسری پشت میں آپؓ کا شجرہ نسب رسول اللہﷺ سے جا ملتا ہے۔
رسول اللہﷺ کو اپنے نواسوں اور نواسیوں سے بے حد محبت تھی۔ حضورﷺ اپنے نواسوں کو اکثر گود میں لیے پھرتے،کبھی کندھوں پہ بٹھا لیتے اور ان سے لاڈ پیار کرتے اور محبت کا اظہار فرماتے۔ایک صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا “حسنؓ و حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔”۔ جب کبھی نبی اکرمﷺ حضرت حسنؓ اور حسینؓ کو اپنے کندھوں پہ سوار کرتے تو فرماتے “اے مالک و قدوس! جس طرح میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تُو بھی ان سے محبت رکھ اور جو ان دونوں کو محبوب رکھے تُو بھی اس کو محبوب بنا لے”۔ان دونوں شہزادوں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ سیدہ فاطمہؓ کے گھر کے قریب سے گزر رہے تھے کہ سیدنا حسینؓ کے رونے کی آواز آپﷺ کے کانوں تک پہنچی،آپﷺ فورً پلٹے اور حضرت فاطمہؓ سے فرمایا “کیا تُو نہیں جانتی کہ اس کے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے؟پھر آپﷺ نے آگے بڑھ کر انہیں اٹھا لیا اور جب تک آپؓ چُپ نہ ہوئے حضورﷺ گھر سے باہر نہ نکلے۔
حضور اقدسﷺ سیدنا حسینؓ کو دیکھنے کے لیے اکثر بیتاب رہتے اور سیدہ فاطمہؓ کے گھر جا کر ان کو دیکھتے یا اپنے پاس منگوا لیتے،کہیں گلی کوچے میں ملتے تو فورً اٹھا کر سینے سے لگا لیتے اور دعائیں دیتے۔ایک صحیح حدیث میں آتا ہے کہ “ایک دفعہ حضرت انسؓ نے حضورﷺ سے دریافت فرمایا کہ یارسول اللہﷺ اہل بیت میں سے آپ کس کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں؟آپﷺ نے فرمایا اولاد میں فاطمہؓ کو اور اولاد کی اولاد میں حسنؓ اور حسینؓ کو۔”
اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں رسول اللہﷺ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،حضورﷺ باہر تشریف لائے تو آپﷺ نے کسی چیز پہ چادر لپیٹی ہوئی تھی،میں نے عرض کیا “حضورﷺ نے کس شے کو لپیٹ رکھا ہے؟ آپﷺ نے چادر اٹھا دی تو دو خوبصورت بچے آپﷺ کے دونوں پہلوؤں سے لگے ہوئے تھے۔حضورﷺ نے فرمایا اسامہ! یہ دونوں میرے بیٹے ہیں،میری بیٹی فاطمہ کے بیٹے ہیں،میرے دوست علیؓ کے بیٹے ہیں۔جو ان سے محبت کرے میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں۔
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار آپﷺ تشریف لائے تو آپﷺ کے ایک کندھے پر حسنؓ اور دوسرے کندھے پر حسینؓ تھے اور حضورﷺ بار بار دونوں کے بوسے لیتے تھے جب آپﷺ نزدیک آئے تو فرمایا “جو ان دونوں کو دوست رکھے وہ میرا دوست ہے اور جو ان سے دشمنی رکھے وہ میرا دشمن ہے”۔ اس طرح کی متعدد روایات کتب حدیث میں موجود ہیں جن سے حضورﷺ کی اپنے نواسوں سے بےپناہ محبت کا پتا چلتا ہے۔
حضرت حسینؓ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل کود کرتے تھے۔عرب کے بچوں میں کبڈی کی قسم کا ایک کھیل مشہور تھا جسے عاقب یا عقاب کہتے تھے،حضرت حسینؓ بھی اس میں شریک ہوتے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے۔بھاگ دوڑ میں بھی دلچسپی تھی،مختلف مقابلوں میں حصہ لیتے،ایک دفعہ آپؓ دوڑ کا مقابلہ کر رہے تھے تو حضرت علیؓ نے انہیں روک دیا تو حسینؓ نے فرمایا ابّاجان آپ ہمیں اس لیے روک رہے ہیں کہ ہم اللہ کے سپاہی نہ بن سکیں یہ سننے پر حضرت علیؓ مسکرائے اور خاموش ہو گئے اور دوڑنے کی اجازت دے دی۔ایک موقعہ پر سیدنا حسینؓ نے کبڈی میں چند بچوں کو کئی دفعہ بچھاڑ دیا حضور اقدسﷺ بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے جب کھیل ختم ہوا تو حضورﷺ نے سیدنا حسینؓ کو اٹھا لیا اور فرمایا “یہ شجاع ابن شجاع بہادر بیٹا ہو گا”۔ الغرض کے سیدنا حسینؓ کے تمام کھیل مجاہدانہ ہوا کرتے تھے مثلاً غلیل سے نشانے لگاتے،تیر پھینکتے اور تیغ زنی کی مشق کرتے تھے۔
رسول اقدسﷺ کی وفات کے بعد حضرت حسینؓ اپنی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمہؓ اور والد بزرگوار مولا علیؓ سے تربیت پانے لگے مگر اسی دوران حضرت فاطمہؓ بھی فردوس کو سدھار گئیں۔اگر ہم مختلف کتب احادیث کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ حضرت حسینؓ نے جلیل القدر صحابہؓ سے تعلیم و تربیت پائی جن میں سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر فاروقؓ نمایاں ہیں۔اسی دوران آپؓ نے سیدہ عائشہؓ سے بھی بہت زیادہ فیضان حاصل کیا۔حضرت حسینؓ خود فرماتے ہیں کہ “میں نے جس قدر تعلیم صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ سے پائی ہے اتنی کسی اور سے نہیں پائی اور جو کچھ ان سے سیکھا ہے کسی دوسرے سے نہیں سیکھا”۔ قصہ مختصر کہ سیدنا حسینؓ ان بزرگ ہستیوں سے فیض یاب ہوئے جو خود نبی مکرمﷺ کے شاگرد اور تربیتی یافتہ تھے۔
رسول اللہﷺ،سیدہ فاطمہؓ،مولا علیؓ اور صحابہ سے تربیت لینے کا اثر یہ ہوا کہ آپؓ چھوٹی عمر میں ہی شعور اور ادراک کی اعلیٰ منازل کو طے کر گئے اور آپ کے دل و دماغ روشن ہو گئے۔آپؓ کی ذہانت اور فقاہت کا یہ عالم تھا کہ جو بات ایک دفعہ سن لیتے وہ ہمیشہ آپ کو یاد رہتی،جچی تلی اور مدلل گفتگو کرتے اور ایسے احسن طریقے سے بیان فرماتے کہ سننے والوں پہ سحر طاری ہو جاتا تھا۔عقل و دانش کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ حضور اقدسﷺ صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے،اسی مجلس میں جناب حسینؓ بھی موجود تھے،حضورﷺ نے آپؓ سے پوچھا کہ فرزند عزیز بتاؤ “مرتبہ میں ہم بڑے ہیں یا تم؟” حضرت حسینؓ نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد جواب دیا کہ نانا جان! گستاخی معاف ہو تو تو عرض کروں، رتبے میں تو ہم ہی بڑے ہیں۔حضورﷺ نے پوچھا وہ کیسے؟ جناب حسینؓ نے فرمایا کہ جناب ذرا غور تو کیجیے! جیسے میرے باپ علیؓ ہیں جن کی شان یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا علیؓ میرے لیے ویسے ہی ہیں جیسے موسٰی علیہ سلام کے لیے ہارون علیہ سلام تھے،اور جیسی ہماری والدہ ماجدہ ہیں جن کے متعلق آپﷺ نے فرمایا کہ وہ جنّتی عورتوں کی سردار ہیں، کیا ویسی ماں آپ کی بھی تھی؟ اور جیسے ہمارے نانا خاتم النبیاء محمد رسول اللہﷺ ہیں کیا ویسے آپﷺ کے نانا بھی تھے؟ تمام صحابؓہ کمسن بچے کا جواب سن کر حیران و ششدر رہ گئے اور حضور اقدسﷺ بھی ان کے جواب سے بہت خوش ہوئے۔
یہ اسی تربیت کا اثر تھا کہ جناب حسینؓ نے کربلا کے میدان میں جرات،بہادری اور صبر و استقلال کی ایسی مثال قائم کی جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔حضور اقدسﷺ کی دنیاوی زندگی مبارکہ کے آخری ایام میں رسول اللہﷺ نے دونوں شہزادوں کو اپنے پاس بلایا اور حاضرین محفل کو متوجہ کرتے ہوئے ان دونوں شہزادوں کے ساتھ اہل بیت اطہارؓ کا احترام کرنے اور خیال رکھنے کی وصیت فرمائی۔اس وقت حضرت حسنؓ کی عمر آٹھ برس اور حضرت حسینؓ کی عمر مبارکہ سات سال تھی۔
معزز قارئین کرام سیدنا حسینؓ کی ساری زندگی ہمارے لیے نمونہ اور مشعل راہ ہے جس کا اعتراف اپنوں نے ہی نہیں بلکہ غیروں نے بھی کیا ہے، سکھ اور ہندو مذہب بھی آپ کی شجاعت اور ہمت و استقلال کا معترف ہے۔پروفیسر رگھوپتی سہائے فراق گورکھ پوری لکھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کی بلند اور پاکیزہ سیرت محسوس کیے جانے کی چیز ہے۔ایسے الفاظ کا استعمال آسان نہیں جو ان کے کردار کی عظمت کے مکمل مظہر ہوں۔
مہاراجہ جگجیت سنگھ بہادر والی کپور تھلہ لکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں شہیدوں کا مرتبہ بہت بلند ہے چاہے وہ کسی قوم یا ملک کے ہوں اور اسی نقطہ نظر سے حضرت حسینؓ کی شہادت کے واقعات ساری دنیا کے لیے قابل مطالعہ ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ حضرت حسینؓ کی شجاعت کی یاد تازہ رکھنے کے لیے سکھ،ہندو،اور عیسائی دل سے شامل ہونگے،میرا یہ خیال رسمی نہیں بلکہ میرے خیالات کا صحیح عکس ہے۔
سردار کرتار سنگھ(ایم۔اے،ایل ایل بی(ایڈووکیٹ پٹیالہ) بھی جناب حسینؓ کی سیرت بیان کرنے سے نہ رہ سکے اور لکھا کہ بظاہر ہر مسلمان غریب ہے لیکن حقیقت میں مسلمان سب سے زیادہ امیر ہے کیونکہ حضرت حسینؓ جیسی شخصیت اسے ورثے میں ملی ہے،اگر آپ حسینؓ کو بھول جائیں تو اس کا نتیجہ نقصان ہی نقصان ہو گا۔
مسٹر آرتھر،این وسٹن،سی آئی اے لکھتے ہیں کہ حضرت حسینؓ میں صبرواستقلال،زور اخلاق کے وہ اعلیٰ جواہر و کمالات موجود تھے جو عام انسانوں میں نہیں پائے جاتے اس لیے حسینؓ کی ذات خود معجزہ ہے۔حسینؓ کی بہادری اور شجاعت کی مثال شاید ہی دنیا کبھی پیش کر سکے۔
مسٹر جیمس کارکرن جنہوں نے “تاریخ چین” لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ دنیا میں رستم کا نام بہادری میں مشہور ہے لیکن کئی شخص ایسے گزرے ہیں جن کے سامنے رستم کا نام لینے کے قابل نہیں،بہادری میں اوّل درجہ حضرت حسینؓ بن علیؓ کا ہے کیونکہ میدان کربلہ میں ریت پر تشنگی اور گرسنگی کی حالت میں جس شخص نے ایسا کام کیا ہو،اس کے سامنے رستم کا نام وہی شخص لے گا جو تاریخ سے واقف نہیں۔آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرت سیدنا حسینؓ کو پڑھ کر اس پہ عمل پیرا ہونے کی توفیق بخشے آمین یارب العٰلمین۔