محترم عمران خان پاکستان کا تعلیمی نظام بدل دیں.
( تغیر )
کالم نگار مبشر نور کامیانہ.

پاکستان آزاد ہو گیا. پاکستان بن گیا. پاکستان دنیا کے نقشہ میں ظاہر ہو گیا. پاکستان اس کرہ ارض پر ابھر آیا. پاکستان ایٹمی طاقت بھی بن گیا.  لیکن. نظام؟؟؟
اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں… سنیئے ذرا.

اس قوم کا جینا حرام ہے. جو پڑھنے کو اچھی کتاب نہ لکھ سکے. اور لکھی ہوئی کتابوں سے استفادہ حاصل نہ کر سکے. وہ قوم فناہ ہو جاتی ہے جو کتابوں سے دور اور دنیا کی رنگینی میں غرق ہو.
سچ تو یہ ہے کہ قوم ہمیشہ مکتب خانوں اور درس گاہوں میں ہی پروان چڑھتی ہے. اور اگر تباہ ہوتی ہے تو وہی پہ تباہ ہوتی ہے.

جب کسی قوم کو ذہنی و جسمانی اور ہر طرح سے غلام بنانا ہو تو اس کو حقیقی تعلیم سے دور کر دو. لاشعور بنا دو، کند ذہن بنا دو، سست اور کاہل بنا دو، مسائل میں جکڑ دو، ٹیکس کے بوجھ تلے دبا دو، کتابوں سے دور کر کے رکھ دو.
جب کسی قوم کو حقیقی تعلیم سے دور کر دو گے تو وہ قوم غلام نسلیں پیدا کرنے کی عادی ہو جائے گی. بس پھر اس قوم کی مہاریں جس طرف مرضی کھینچ دو وہ قوم اسی طرف مڑ جایا کرے گی. یہ حقیقت ہے کہ تعلیم یافتہ قوم اپنا تہذیب و تمدن، اپنا کلچر، اپنا مذہب، اپنے ملک کی وفادار ہو گی.
اور ان پڑھ قوم ان مرکبات سے عاری ہو گی. ایسی قوم غیروں کے رسم و رواج کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے کی عادی ہو گی. غیروں کا لباس، انکی زبان، ان کا ہی  وطن بھی پسند کرے گی.
جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں.
آہ، مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سرزمیں.

پاکستان میں بڑی، بڑی یونیورسٹیز، کالجز مہنگی، مہنگی، بھاری فیسی بٹور کر اربوں کے مالک بننے والے ہمارے سرمایہ کار آج عیش و عشرت کی زندگی جی رہے. انکے اپنے بچے بیرون ممالک عیاشی کر رہے. اور یہاں فحاشی و جہالت پیدا دی.
آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں دنیا آسمانوں کی بلندیوں کو چھو رہی. انکا معیار تعلیم اتنا ٹھوس، اتنا پائیدار اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہے. جس کو پڑھ کر قوم تہذیب یافتہ بن جاتی. اور آج ہم کہاں کھڑے ؟ وہی کے وہی…
آج پاکستان کو 73 برس ہو گئے علیحدہ ریاست بنے ہوئے. لیکن نظام وہی برصغیر کے دور کا انگریز سرکار کا بنا ہوا چل رہا. وہی انگریزوں کے پٹھو یہاں نظام ہاتھ میں لیے بیٹھے.
آخر موت نے تو سب کو کچل کے رکھ دینا ہے تو پھر یہاں کا نظام کیوں حقیقی بنیادوں پر استوار نہیں کیا جا رہا ؟ کون ہے اس سب کے پیچھے؟ کون اشخاص ہیں جو تھکا، پرانا نظام آگے تک لیے جا رہے؟
جبکہ آپ دنیا میں چھوٹی، چھوٹی ریاستوں کا نظام دیکھ لو. تعلیم، صحت، کاروبار، کھیل، تجارت، سب کچھ بہترین عمدہ طرز پر رائج ہے. انکی عوام پڑھی، لکھی، تہزیب یافتہ، باشعور، پرامن اور محب وطن ہے.
اور پاکستان کا نظام کیا ہے اور ہمارے نوجوان ؟ ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر دیا گیا. جو کوئی نوجوان اوپر اٹھتا ہے اسکو دبا دیا جاتا… تاکہ نظام نہ بدل سکے…

یورپ کی غلامی پہ ہوا رضا مند تُو.
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں.

پاکستان میں شروع دن سے دو چیزیں چلتی آ رہی ہیں .
1. پیسہ 2. اقتدار.
ان دو چیزوں کے لالچ نے پاکستان کا نظام تباہ کر دیا. اوپر جو اشرافیہ بیٹھے ہیں. سبھی کے سبھی جن کے ہاتھ میں پاکستان کا نظام ہے وہ چاہتے ہیں کہ نظام نہ بدلے، عوام کو عقل و شعور نہ آئے. بس ہم عیاشی کرتے ہیں. پیسوں کے انبار لگا لیں. اقتدار کے مزے لیں.  ہمارے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے رہیں. پیسہ یہاں سے وہاں منتقل ہوتا رہے.
یہاں سالوں حکومت کی، افسرشاہی کے مزے لیے. جب نوکری ختم ہوئی تو بیرون ملک مقیم ہو گیا. بس یہی دھندہ چل رہا.
بس رہ گئی تو ذلیل ہونے کو آخر عوام ہی. اس وقت یہ ملک عام انسان کے رہنے کے قابل نہیں رہا. بلکہ یہ ملک صرف اور صرف جرنیل، بیروکریٹس، ججز، حکام کے رہنے کے قابل رہ گیا ہے. انکی اپنی ملیں، فیکٹریاں، کارخانے، سرمایہ، اربوں روپوں کے مالک ہیں.
یاد رکھو. جب کوئی ملک حکام کے لیے جنت بن جائے اور حکمران اپنی جان کی حفاظت کو ترجیح دینے لگ  جائیں. تو تب ایسے حکمران ملک و قوم کی حفاظت اور عزت و آبرو کے قابل نہیں رہتے. بلکہ ایسا ملک ویران اور تباہ و برباد ہو کر رعایا کے لیے جہنم بن جاتا ہے .

پاکستان کا تعلیمی نظام تو یہ ہے کہ یہاں جتنی بھی بڑی، بڑی یونیورسٹیز، کالجز، سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی ادارے ہیں. سب کے سب جھوٹ اور فحاشی کے سوا مسلمان قوم کو اور کچھ نہیں سکھا رہے.
فحاشی، سیکس، عیاشی، بھونڈ بازی، عشقی شاعری، عورت سے دل لگانے کے طریقے، بس یہی کچھ پڑھایا جا رہا کتابوں میں. اور کچھ نہیں.
افسوس کہ ایک اسلامی ریاست جو کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوئی ہو تو اسکا نظام تعلیم کیسا ؟ اففف. جب قوم کو تعلیم کی بجائے طوطا، مینا کی کہانی، انگور کھٹے ہیں، ایک جنگل میں 12 بندر رہتے تھے، کلیور مرچو اور مسٹر چپس، جیسے اسباق پڑھا کر قوم کو جاہل بنا کے رکھ دیا تو کیسے باشعور، ذمہ دار، محب وطن اور پرامن، لوگوں کی کھیپ تیار ہو گی؟ کیسے ملک میں امن، پیار، محبت کی فضا قائم ہو گی؟ کیسے ایک سوچ، ایک قوم پیدا ہو گی؟ زرا سوچئیے…؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اپنا ملک پاکستان تباہ کر کے اب نظریں دوسرے ممالک کی آب و ہوا، رہن سہن پر جمائی ہوئی ہیں. بس. یہاں افسرشاہی کی اور باہر بھاگ گیا.

آہ، ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے.
واں کنڑ سب بلوری ہیں، یاں ایک پرانا مٹکا ہے.

پاکستان کا نظام تعلیم ایسا ہی ہے جیسے علم حاصل کرنے کی تمام کتب کو اکٹھا کر کے اس کے اوپر گدھ کو بٹھا دیں. تو وہ کوئی پڑھا لکھا نہیں بن جائے گا. بلکہ وہی رہے گا جو اسکی اپنی حیثیت ہے.
ایسے ہمارا عوام کا بھی حال ہے. جو پیدا ہوتے ہی سینکڑوں مسائل کی چکی میں رگڑا کھاتے ہیں. تو تعلیم حاصل کرنے کی ہمت، پسلی اور طاقت ہی نہیں رہتی. اور اگر بمشکل کسی سرکاری یا نجی سکول میں داخل ہو بھی گئے تو جہالت سیکھنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا.

یہ رہی تعلیم مشرق میں، نہ مغرب میں رہی غیرت.
یہ جتنے پڑھتے جاتے ہیں، جہالت بڑھتی جاتی ہے.

ہماری کتابوں میں جو درس دیا جا رہا یہ سب یہاں کے باسیوں کو ذہنی غلام بنانے کا نظام مسط کر دیا گیا ہے. جو ایسا نظام مسلط کر کے اس دنیا سے چلے گئے. انکا روز قیامت کیا حشر ہو گا؟ لیکن آنے والی نسلوں کو ہمیشہ کے لیے حکمرانوں کا غلام بنا گئے. جو اب بھی غلامی کی زندگی بسر کر رہے.

شکایت ہے مجھے یا رب، خداوندان مکتب سے.
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا.

ماضی کے مسلمان کیوں دنیا پر غالب رہے. اور آج کیوں مار کھا رہے؟ وجہ؟ بس، ناقص نظام تعلیم. کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے. لیکن میں اتنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں.
میں بذات خود بحیثیت ایک پاکستانی شہری، بحیثیت ایک مسلمان اور بطور ایک طالب علم حکومت وقت جناب عمران خان صاحب سے عاجزانہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ تعلیم کے شعبہ پر خصوصی توجہ دیں. اس نظام کو تبدیل کر دیں.
پورے پاکستان کے پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں میں ایک ہی نصاب جاری کر دیں. سالوں سے تعلیمی میدان میں جکڑی، پھنسی ہوئی قوم کو ایک اعلی، معیاری، عمدہ، پائیدار اور حقیقی نظام تعلیم متعارف کروا کر نوجوان نسل کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جائے.
جیسا کہ آپ نے الیکشن 2018 جیتنے سے پہلے اعلان کیا تھا. کہ تعلیم کا بجٹ بڑھا کر ایک ہی نصاب جاری کرونگا.
گزشتہ دنوں آپ نے اعلان بھی کر دیا ہے کہ مارچ 2021 میں ایک نصاب جاری ہو جائے گا. تو اب اس مقصد پر ہر حال میں عمل درآمد کرانا انتہائی ضروری ہے. شکریہ.