اقتدار اور انصاف۔

{ بکھری سوچیں }
کالم نگار غلام شبیر منہاس

یہ بالکل تو الگ چیزیں ہیں۔ اقتدار بڑا ظالم ھے۔ وہ اپنی بقاء کیلئے تو سب کچھ کر سکتا ھے مگر انصاف نہیں۔۔
آج 20 ستمبر ھے۔۔اور آج سے ٹھیک 24 سال قبل 20 ستمبر 1996ءکی ہی ایک رات تھی جب میر مرتضی بھٹو کو ساتھیوں سمیت اپنے ہی گھر کے قریب ایک ایسے وقت میں تڑپا تڑپا کر مار دیا گیا تھا جب وفاق میں اسکی سگی بہن وزیر اعظم تھیں۔ مگر اقتدار اس کو انصاف نہ دے سکا۔ کیونکہ اقتدار بڑا ظالم ہوتا ھے۔ وہ صرف اپنی بقاء کی جنگ لڑتا ھے بس۔۔
فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ 20 ستمبر کی اس رات ھمارے گھر (70 کلفٹن) کے باہر 45 منٹ تک ہونے والی شدید فائرنگ جب رکی تو میں اپنے باپ بارے فکر مند ہوئی اور اپنی امی غنوی بھٹو کو لے کر باہر نکلی پولیس نے ہمیں بتایا کہ ڈاکووں سے مقابلہ چل رھا ھے آپ واپس گھر جایئں۔ھم ان پہ یقین کرکے واپس آگیئں تو تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ یہ فائرنگ میرے والد اور انکے ساتھیوں پہ کی گئ ھے۔ فائرنگ کے بعد 40 سے 50 منٹ تک میرے والد کو ساتھیوں سمیت وہیں تڑپایا جاتا رھا۔ جسکا مقصد صرف یہی تھا کہ انکا زیادہ سے زیادہ خون بہہ جائے۔ پاپا کے کافی ساتھی مر گئے مگر پاپا ابھی زندہ تھے اور انکو بروقت طبی امداد دے کر بچایا جاسکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ ہہ پری پلان منصوبہ تھا۔50 منٹ بعد پاپا کو پولیس کی ایک گاڑی میں رکھا گیا اور اسی گاڑی میں انکو ایک گولی انتہائی قریب سے چہرے پہ ماری گئی جو موت کی وجہ بنی۔ یہاں سے انھیں مڈ ایسٹ ھاسپیٹل منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی اور آپریشن کی کوئی سہولت نہ تھی۔ مجھے جب پاپا کی اس حالت کا پتہ چلا تو میں نے “وڈی” ( بے نظیر بھٹو) کو کال کی۔ اس کا فون کسی سٹاف افسر نے اٹھایا اور بات کروانے سے انکار کردیا۔ اور اس نے فون آصف زرداری کو تھما دیا جس سے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
یہ ایک لمبی کہانی ھے مختصر یہ کہ اسی رات میر مرتضی بھٹو اس دنیا سے ہمیشہ کیلئے رخصت ھو گیا اور یہ کیس بھی میر مرتضی کی تدفین کیساتھ ہی ایک معمہ بن کر ہمیشہ کیلئے تاریخ کے صفحات میں دفن ھوگیا۔
یاد رکھیں۔۔ اقتدار انصاف نہیں دے سکتا۔۔اگر اقتدار انصاف دے پاتا تو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے دور اقتدار میں یوں اسکے بھائی کا ساتھیوں سمیت قتل ضائع نہ ہوتا۔ مگر اقتدار کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ مثلا اگر آپ اقتدار میں ہیں تو آپ باوجود اقلییت میں ہونے کے چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور نہیں ہونے دیتے۔۔ آپ عددی فگر کم ہونے کے باوجود بجٹ پاس کروا لیتے ہیں۔۔آپ صاحب اقتدار ہوں اور چاہیئں تو اکثریت میں نہ ہونے کے باوجود آرمی چیف کی ایکسٹینشن سے ایف ای ٹی ایف کی اصلاحات تک کے بل منظور کروا سکتے ہیں۔۔مگر سسٹم اگر نہ چاہے۔۔اس کی ترجیحات میں نہ ہو تو ماڈل ٹاون سے سانحہ بلدیہ فیکٹری تک۔۔12 مئی سے میر مرتضی بھٹو تک۔۔اور سانحہ ساہیوال سے اے ٹی ایم میں پکڑے گئے زہنی معزور کی موت تک۔۔کچھ نہیں کر پاتا۔۔اس لیئے فی الحال 20 ستمبر کا یہ سبق یاد کر لیں کہ سسٹم کا آپکے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ھے۔۔اگر سسٹم کھڑا ہوگیا تو ریگستان کی جھونپڑی میں رہنے والی مختاراں مائی پہ جرگہ کرنے والے بھی نشان عبرت بنا دیئے جاتے ہیں۔۔اور اگر سسٹم نے آپکا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا تو پھر بے نظیر کی حکومت میں مرتضی مار دیئے جاتے ہیں اور کچھ بھی نہیں ہو پاتا۔۔لوگ اپنی زندگیوں میں اپنے قاتل نامزد کر جاتے ہیں مگر انکو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا پاتا۔۔
اللہ تعالی اس ملک اور اس کے باسیوں کی حفاظت فرمائے۔

والسلام غلام شبیر منھاس۔