بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خان کو گزرے 17 برس بیت گئے

مظفر گڑھ (سٹار نیوز آن لائن)بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خان کی آج 17 ویں برسی منائی جارہی ہے۔مارشل لاء ادوار ہوں یا جمہوری حکمرانوں کے غیر جمہوری اقدامات، نوابزادہ نصراللہ خان جمہوری اقدار کی بقاء کے لیے ہمیشہ سینہ سپر رہے۔خان گڑھ میں پیدا ہونے والے نواب زادہ نصر اللہ خان نے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1930ء کی دہائی میں مجلس احرار سے کیا، آل پارٹیز کانفرنسز ہو یا جمہوری اتحاد کے قیام کا اعلان، ملک میں کوئی بھی سیاسی سرگرمی نواب زادہ نصراللہ خان کے بغیر ناممکن تھی۔ان کے صاحبزادے ایم پی اے تحریک انصاف نواب زادہ منصور احمد خان کا کہنا ہے کہ نواب زادہ نصراللہ خان نے ایوب خان کے صدارتی انتخاب کے دوران مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا بھرپور ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ آمرانہ حکومتوں کے خلاف جمہوریت پسندوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا فن خوب جانتے تھے

نواب نصراللہ خان کے صاحبزادے
نوابزادہ نصراللہ خان کی زندگی جمہوریت کی بقا ،پاکستان کی ترقی، آزادی صحافت آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی کے لئے اداروں کے استحکام اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے وقف رہی، انہوں نے کشمیر کے عوام کا مقدمہ لڑنے کے لیے اقوام عالم کو منظم کیا اور عالمی رائے عامہ ہموار کی، نوابزادہ منصور خان نے کہا کہ نواب نصراللہ خان ہمیشہ مخالفین کا احترام کرتے تھے ان کی رائے کا خیال کرتے تھے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہتے تھے ،انہوں نے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، انہوں نے کہا کہ نوابزادہ نصراللہ خان کی برسی پر ہم اور کارکن یہ تجدید عہد کرتے ہیں کہ جمہوریت کے لئے ہر قربانی دیں گےاور ان کے راہنماء اصولوں پر چلنے کی کوشش کریں گے، ۔نواب زادہ نصراللہ خان کا انتقال 26 ستمبر 2003ء کو ہوا، سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بابائے جمہوریت کی موت سے پیدا ہونے والا سیاسی خلاء تاحال پُر نہیں ہوسکا۔