صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب (چیئرمین مسلم انسٹی ٹیوٹ) ادارۂ فروغِ قومی زبان میں “فکراقبالؒ: دورِحاضر میں ضرورت و اہمیت” کے موضوع پہ منعقدہ قومی کانفرنس سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے-
گفتگو کے اہم نکات
:
– بدقسمتی سے سرد جنگ کے دوران مذہبی انتہا پسندوں نے سامراجی عزائم کی تکمیل کے لیے اقبالؒ کے کئی اشعار کی غلط تعبیر پیش کی اور اس کے ردعمل کا نتیجہ ہے کہ آج بعض لوگ افکارِ اقبالؒ کا مطالعہ اور فروغ وترویج مطلوبہ معیار تک نہیں کرتے- اس خلا کو پر کرنے کےلیے ضروری ہے کہ ہم اقبالؒ کے حقیقی افکار کی تفہیم حاصل کریں اور نوجوان نسل کو اس کی تعلیم دیں-
– اگرچہ وہ استعماری ظلمت و تاریکی کا دور تھا لیکن اس کے باوجود اقبالؒ نے امید اور ہمت کا چراغ روشن کیے رکھا –
– مثل آئینہ مشو محو جمال دگراں
از دل و دیدہ فرو شوے خیال دگراں
یعنی آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو، غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ، نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے-(اقبالؒ)
جیسے ہر انسان منفرد جسمانی صفات و خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اسی طرح ہر انسان کی روح بھی ایک جداگانہ صفت رکھتی ہے جسے انسان کو اپنے باطن سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے-
– طالب آملی سے منسوب ایک پر اثر و فکر انگیز شعر ہے:
ما رفتہ ایم و کنجِ مزارے گرفتہ ایم
تا بارِ دوشِ کس نشود استخوانِ ما
یعنی ہم نے خود آگے بڑھ کر اپنی قبر کے ایک گوشے کو تھام لیا ہے تاکہ ہماری ہڈیاں کسی اور کے لیے بارِ دوش یعنی کندھوں کا بوجھ نہ بنیں۔
آج کوئی بھی ہمیں ہماری موجودہ حالتِ زار سے نجات دلانے نہیں آئے گا بلکہ یہ ہم پر ہی منحصر ہے کہ ہم اپنے مقدر کا تعین خود کریں- ہمیں علامہ اقبالؒ کی طرح کے عظیم مسلم مفکرین کے افکار و حکمت سے استفادہ کرنا چاہیے یہی ہمارے روشن مستقبل کا راستہ ہے-













