الیکشن 2024 میں ہوجاٸیں توپھر بھی بہترہے

تحریر:اللہ نوازخان

خدا خدا کر کے الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا ہے کہ 2024 کےپہلے مہینے جنوری کےآخری ہفتے میں انتخابات ہوں گے۔یہ اور بات ہے کہ کافی تعداد کو یقین نہیں کہ الیکشن کا انعقاد مقررہ تاریخ تک ہو جائے گا؟بہرحال الیکشن مہم شروع ہو گئی ہے۔میاں محمد نواز شریف کی واپسی نے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔یہ بات کلیئر ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت مضبوط نہیں۔کسی بھی سیاسی پارٹی کا جائزہ لیا جائے تو واضح معلوم ہو جاتا ہے کہ سربراہ پارٹی کمزور پوزیشن پر ہوتا ہے۔لوٹا بازی نے سیاست کوقابل نفرت چیز بنا دیا ہے۔دوسری بات پارٹی سربراہ ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو عوام کے مفاد میں نہیں ہوتیں۔اس کے لیے یہ مثال کافی ہے کہ آٸ۔ایم۔ایف کو خوش کرنے کے لیے پاکستان میں پالیسیاں بنائی جاتی ہیں،بلکہ کسی اورکو بھی خوش کیا جاتا ہے۔سیاستدانوں کی کرپشن مزید رسوائی کا سبب بنتی ہے۔اس کے علاوہ ان کی زبان دانی مزید گل کھلاتی ہے۔الیکشن مہم جاری ہے اور چند دنوں کے بعد ایسے ایسے نادرونایاب خطابات سننے کو ملیں گے،جس سے یہ معلوم ہوگا کہ اس سیاست دان سے زیادہ ملک کاوفادار کوئی نہیں اور اس کا مخالف پاکستان کابدترین دشمن ہے۔چند دنوں کے بعد شایدآصف زرداری کو لاڑکانا اور لاہور کی گلیوں میں گھسیٹنے کے اعلانات شروع کر دیے جائیں گے اور اس بات کا عزم کیا جا رہا ہوگا کہ زرداری کا پیٹ پھاڑ کر غریبوں کی دولت نکالیں گے۔دوسری طرف میاں صاحب کو بھی چور ثابت کیا جائے گااور اس بات کا عزم کیا جا رہا ہوگا کہ نواز شریف کوسیاست سے آٶٹ کرنا ملک کی خدمت ہے۔مولانا فضل الرحمان کی بھی تقاریربھی اس قسم کی ہوں گیں،جس سے یہ معلوم ہوگا کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان اور اسلام کے لیے کتنا ضروری ہیں۔اس قسم کی اعلانات اوردعوے دوسری سیاسی پارٹیوں کے رہنمابھی کریں گے۔پاکستانی عوام حیرت سے سوچ رہی ہوگی کہ کون سچاہے اورکون جھوٹا؟ایسے اعلانات اور دعوے ماضی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں بار سنے گئے ہیں۔دوبارہ سننے کے لیے پاکستانی قوم کو تیار رہنا چاہیے۔پاکستانی قوم سمجھنے سے قاصر ہے یا سمجھنا نہیں چاہتی کہ کون مخلص ہے اور کون مخلص نہیں؟ہر تیسرے دن کسی نہ کسی کو غدار قرار دےدیاجاتاہے اور وہی غدار چند دن کے بعد اعلی منصب سنبھال لیتاہے۔الیکشن مہم کے دوران یہ اعلانات بھی کیے جائیں گے کہ مہنگائی کا خاتمہ کر دیا جائے گااور مہنگائی کا ذمہ دار بھی دوسروں کو قرار دیا جائے گا۔حالانکہ یہ اعلانات کرنے والے وہ ہوں گے جو چند دن قبل تک حکومت میں شامل رہےہوں گے۔
الیکشن مہم کے دوران بھی جوڑ توڑ بھی ہوگی اور لوٹا ازم کو فروغ بھی دیا جائے گا۔الیکشن کے بعدخرید و فروخت بھی ہوگی۔الیکشن کے میدان میں اس دفعہ عجیب صورتحال ہوگی۔پی ٹی آٸ میں دو جماعتیں نکل چکی ہیں اور ممکن ہے کہ ایک آدھ مزیدجماعت بھی نکل آۓ۔پی ٹی آٸی سے نکلنے والی جماعتیں بھی عجیب و غریب دعوے کریں گی۔اب یہ تمام جماعتیں عوام کو کس طرح مطمئن کر پاتی ہیں؟کیا عوام ان پر ایک بار پھر اعتبار کر کے ان کو پھر موقع دے گی؟افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کے پاس ان جماعتوں کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں کہ وہ اپنا درست انتخاب کر سکیں۔نواز شریف، آصف زرداری سمیت تمام جماعتوں کے لیے ایک بہترین بات یہ ہے کہ عمران خان حالت قید میں ہیں اوردرجنوں قسم کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔مقدمات بھی ان پر سنگین نوعیت کے درج ہیں جس سے ان کا نکلنا مشکل ہے۔یہ اور بات ہے کہ پی۔ٹی۔آٸ اور عمران خان کا موقف ہے کہ ان پر مقدمات غلط قسم کے درج کیے گئے ہیں۔بہرحال یہ افسوسناک ہوگا کہ عمران خان اور پی ٹی آٸ کو الیکشن سےآؤٹ کر دیا جائے۔پی ٹی آٸی کےآؤٹ ہونے کی وجہ سے الیکشن کی شفافیت پرسوالیہ نشان اٹھ جائے گا۔اس قسم کی تنقید سے بچنے کے لیے عمران خان کو الیکشن کے دوران ریلیف ملنا ضروری ہے تاکہ یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ پی۔ٹی۔آٸ کے ڈر کی وجہ سے سربراہ پارٹی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ویسے بھی پی۔ٹی۔آٸ کو بڑے بڑے سیاستدان چھوڑ چکے ہیں،جن کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ ان کا کافی ووٹ بینک ہے۔ووٹ بینک تو ہوگا لیکن اصل بات ان کے لیے یہ خوفناک ہوگی کہ یہ تمام سیاستدان اپنی کرپشن کا کس طرح دفاع کر سکیں گے؟ظاہری بات ہےکہ عوامی جلسوں میں ان کے یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے کہ وہ کرپشن کو ختم کرنے کے لیے آئے ہیں۔سوشل میڈیا ان سیاستدانوں کے لیے ایک خوفناک عفریت بن چکا ہے۔سوشل میڈیا ان کے لیے ایک ایساپلیٹ فارم ہے جہاں ان کے کرپشن کے کارنامےوائرل ہوتے رہتے ہیں اورپل پل کی خبریں عوام تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔
الیکشن تو ہو جائیں گے لیکن ان کی شفافیت پر سوال بھی اٹھتے رہیں گے۔ماضی میں تقریبا ہر الیکشن پر یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ وہ دھاندلی زدہ ہیں۔کسی بھی سیاسی پارٹی نے جیتی ہوئی پارٹی کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا بلکہ یہ الزام لگایا ہے کہ وہ دھاندلی کے ذریعے الیکشن میں کامیابی حاصل کر پائے ہیں۔اب آنے والے الیکشن،الیکشن کمیشن کے لیے ایک امتحان ثابت ہوں گے کہ وہ کس طرح صاف اور شفاف الیکشن کا انعقاد کر پاتے ہیں۔نون لیگ یہ بیانیہ پھیلانے میں ڈٹ چکی ہے کہ اگلے وزیراعظم میاں نواز شریف ہی ہوں گے۔میاں نواز شریف اگر قوم کو مطمئن کر پاتے ہیں کہ ان کی اگلی کارکردگی ملک کے مفاد کے لیے ہوگی تو شاید الیکشن میں کامیاب ہوجاٸیں۔ان کے مد مقابل پیپلزپارٹی ہوگی اورپی۔ٹی۔آٸ بھی ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوگی۔اس دفعہ شاید نواز شریف مضبوط ثابت ہوں۔نون لیگ اور نواز شریف کے بارے میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ ماضی میں ان کوآزادانہ طور پر کام نہیں کرنے دیا گیا۔ملک کی مضبوطی کے لیے ضروری یہ ہے کہ سیاسی پارٹی بھی مضبوط ہو اور اس کا سربراہ بھی مضبوط ہو۔مضبوط رہنما اور مضبوط پارٹی کسی قوم کے لیے بہتر ہوتی ہے۔کمزور رہنما اورسیاست دان ہر وقت مخالف سیاستدانوں کی بلیک میلنگ کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور اس طرح ملک و قوم کے لیے نقصان کا سبب بن جاتے ہیں۔
الیکشن کا انعقاد اگر 2024 کے اول ماہ میں بھی ہو جائے تو پھر بھی پاکستان کے لیے بہتر ہوگا۔الیکشن کا ملتوی ہونا کسی صورت میں بھی پاکستان کے لیے بہتر نہیں ہے۔پاکستان کی نازک صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ عوامی حکومت ہی اقتدار سنبھال لے۔الیکشن جتنے ملتوی ہو رہے ہیں اتنا ہی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔دہشت گردی کا بھی خطرہ ہے کہ الیکشن مہم کے دوران کہیں ناخوشگوار واقعات پیش نہ آجائیں۔سیکیورٹی اداروں کا فرض بنتا ہے کہ اس قسم کا واقعہ پیش نہ آنے پائے۔بہتر یہی تھا کہ الیکشن وقت پر انعقاد پذیر ہو جاتے،اگر اب بھی الیکشن کمیشن کی دی ہوئی مقررہ تاریخ پر ہو جاتے ہیں تو پھر بھی بہتر ہوگا۔الیکشن کا انتظار پوری قوم بڑی بےصبری سے کر رہی ہے۔الیکشن اگر 2024 میں ہی ہو جائیں تو پھر بھی بہتر ہے۔