یوم شہدائے جموں و کشمیر

وہ دن جب اڑھائی لاکھ کشمیریوں کو شہید کردیا گیا

تحریر: *محمد عزیر گل*

تزک جہانگیری میں مغلیہ بادشاہ جہانگیر نے لکھا تھا کہ اگر مجھ سے میری عظیم الشان سلطنت سب کی سب چھین لی جائے اور صرف کشمیر ہی میرے پاس رہ جائے تو میں سمجھوں گا کہ میرے پاس سب کچھ ہے، وادی کشمیر کے خوبصورت قدرتی مناظر دیکھ کر ریاست جموں و کشمیر کو دنیا کی جنت کہا گیا ہے ، ایشیا کا دل اور برصغیر کے سرتاج کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ اس کے صاف شفاف چشمے ،ندی نالے ،گھنے جنگلات ، زعفران کے کھیت ، لہلہاتی فصلیں، پھلوں اور پھلولدار درختوں ، بلند و بالا برف پوش پہاڑ اور انتہائی معتدل ، صحت افزاء آب وہوا ، اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں ، لیکن بدقسمتی سے جہاں اس کی خوبصورتی کے چرچے ہیں وہاں پر اس کے باسیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کی ایسی داستانیں رقم ہیں جو سننے اور پڑھنے والوں کی روح کو تڑپا کر رکھ دیتی ہیں ، وہ اہل کشمیر کی ہمت ،حوصلہ اور جہد مسلسل کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا ، اہل کشمیر نے ہمیشہ اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے کسی بڑی سے بڑی قربانی دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، بلکہ انہوں نے اپنے بچے بچے کو یہ سبق پڑھا رکھا کہ وطن عزیز کی آزادی کے لیے جان دینا ہمارا فخر ہے ، ہم اپنی آخری سانس تک آزادی کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی ، اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ، یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں نوجوانان کشمیر نے آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔
کشمیر پر پہلا شب خون 1819 میں رنجیت سنگھ مہاراجہ پنجاب نے مارا اور کشمیر کے حاکم جبار خان کو شکست دے کر سکھوں کے اقتدار کا علم بلند کیا ، کشمیریوں کی عوام کی بدقسمتی کا یہیں سے آغاز ہوتا ہے ، اس کی حکومت کو جب زوال ہوا تو 1846 میں پنجاب کی فرنگی حکومت نے معاہدہ امرتسر کیا جس میں 75 لاکھ روپے نقد کے علاوہ ایک گھوڑے ، 12 بکریاں اور 6 جوڑے شال پر مشتمل سالانہ خراج کے بدلے ریاست جموں و کشمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ کشمیریوں کا جبری سودا کردیا اور اس طرح وادی کشمیر ڈوگرہ شاہی کے خونیں پنجوں میں جکڑی گئی ، انہوں نے مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا ،26 فیصد سے 52 فیصد ٹیکس کردیا ، ظلم کی انتہا کہ ایک گائے کو ذبح کرنے پر پورے خاندان کو شہید کردیا گیا ، اگر کوئی سکھ کسی مسلمان کو قتل کر دیتا تو اس کے بدلے صرف 14 روپے جرمانہ ہوتا ، جس میں سے 2 روپے مقتول کے خاندان کو ملتے اور 12 روپے سرکاری خزانے میں جبرا جمع کر لیے جاتے ،ان مظالم کے خلاف کئی مرتبہ مزاحمتی تحریکوں کا آغاز ہوا ، لیکن فرنگی پشت پناہی کی وجہ سے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی ، 1931 میں ایک مسلمان کی شہادت پر مسلمانوں کے سینے میں پکنے والا لاوا پھٹ گیا اور پوری ریاست جموں و کشمیر میں احتجاج شروع ہوگئے ، کشمیر میں برطانیہ کی منشاء پر ایک جماعت کو تقویت دی گئی ، اس میں عوام الناس اور خواص کو دھوکہ دہی سے شامل کیا اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نام سے جماعت تشکیل دی ، اس جماعت کے صدر قادیانی مرزا بشیر الدین تھا ، جس کو برطانیہ حکومت خاص ایجنڈے کے تحت لائی تھی ، کچھ ہی عرصہ بعد ان کی سازش آشکار ہوگئی اور مسلمان رہنما وں نے مرزا بشیر الدین کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کردیا ، جس میں سب سے بڑا نام علامہ اقبال رحمہ اللہ کا ہے ، جس کے بعد مرزا بشیر الدین قادیانی کو صدارت کےعہدے سے مستعفی ہونا پڑا ، کمیٹی نے علامہ اقبال رحمہ اللہ کو صدر اور ملک برکت علی کو جنرل سیکٹری منتخب کیا ، علامہ اقبال نے کچھ عرصہ بعد اس جماعت کی کمیٹی کو ختم کردیا ،اس طرح کشمیر قادیانیوں کی سازشی سرگرمیوں کا مرکز نہ بن سکا ، اسی طرح 1931 ایک اور واقعہ پیش آیا ، ایک مسجد میں امام صاحب جمعہ پڑھا رہے تھے کہ ایک انگریز افسر نے آکر اعلان کیا کہ آپ یہ عبادت نہیں کرسکتے ، یہ غیر قانونی ہے ، آپ ایک جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ، نماز جمعہ کے بعد اسی جگہ ایک احتجاجی جلسہ کیا گیا ، اس کے خلاف کسی دائر کروائے گئے ، کچھ ہی دنوں بعد ایک مقام پر کسی پولیس آفیسر نے قرآن مجید کی توہین کی ، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت زیادہ اضطراب بڑھنے لگا ، 12 جون خانقاہ معلی میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا ، جہاں بڑے رہنماوں نے تقریر کی ، انہی مقررین میں ایک قدیر نامی شخص نے ولولہ انگیز تقریر کی ، جس کے پرجوش خطاب نے سب کو حیران کردیا ، حکومت نے اس پر مقدمہ درج کر کے گرفتار کرلیا ، 13 جولائی 1931 کو عدالت میں پیش کیا گیا ، عوام کا جم غفیر اس مرد مجاہد کا دیدار کرنے کے لیے اکٹھا ہو چکا تھا ، سبھی قدیر خان کو دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے ، اسی خواہش نے بعد میں مطالبہ کی صورت اختیار کرلی ، اس دوران ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا اور ایک موذن نے اذان کا آغاز کیا ، اللہ اکبر کی آواز فضا میں بلند ہوئی ، اسی کے ساتھ ہی اسے گولی مار کر شہید کردیا گیا ، دوسرے شخص نے آگے بڑھتے ہوئے وہیں سے آذان دینےلگا تو اسے بھی گولی مار دی گئی ، یوں اذان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ شہداء کی تعداد بھی پڑھتی رہی اور اذان کی تکمیل تک 22 لوگوں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کردیے تھے ، مسلمانوں کی یہ بے مثل قربانی ڈوگرہ راج اور فرنگیوں کے حوصلے پست کر گئی ۔
کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ایام میں ایک سیاہ ترین دن 6 نومبر1947 ہے ، جولائی 1947 میں کشمیر کی سیاسی نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا ، جس کے بعد کشمیر کی فضاء پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی ، ہندوں اور ڈوگروں کو یہ بات کسی بھی طور پر پسند نہ آئی کہ مسلمان اب امن و سکون سے زندگی گزاریں ، انہوں نے مسلمانوں کو ختم کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا ، انہوں نے کشمیر کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں کو گھروں سے دھوکہ سے باہر نکالا اور ہزاروں نہتےکشمیریوں کو نہایت ہی بے دردی سے شہید کردیا ، اسی طرح اگست کے مہینے میں بھی مہاراجہ کی ایماء پر آر ایس ایس کے رضا کار اور پنجاب کے سکھوں نے اسلحہ تقسیم کیااور انہیں مسلمانوں کو قتل عام کا حکم دیا ، دوسری طرف مسلمانوں نے بھی ڈوگرہ راج کے خلاف مقابلے کا فیصلہ کرلیا ، حالات کی خرابی کو بھانپتے ہوئے 4 نومبر کو سردار بلدیو سنگھ اور مہاراجہ پٹیالہ نے ایک اعلان کروایا کہ جو مسلمان پاکستان جانا چاہیں وہ ایک متعین جگہ پر جمع ہو جائیں تاکہ انہیں فوج کی سرپرستی میں بحفاظت پاکستان پہنچایا جائے ، اس اعلان سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ، وہ جلدی جلدی ایک جمع ہونے لگے ، پانچ نومبر کو 36 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کو روانہ کیا گیا ، ہر گاڑی میں ستر سے اسی افراد سوار تھے ، گاڑیوں کا رخ سیالکوٹ سے موڑ کر سناری کی طرف کردیا گیا ، راستے میں سکھ فوجیوں نے نہتے مسلمانوں پر اچانک فائرنگ شروع کردی ، سامان لوٹ لیا گیا ، عورتوں کو اغوا کر لیا گیا ، جبکہ مرد مسلمانوں کو قتل کردیا گیا ، یہ خبر جنگل کی آگے کی طرح پورے کشمیر میں پھیل گئی اور پوری ریاست میں فسادات کھڑے ہوگئے، مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا ، ڈوگرہ حاکم وقت ہری سنگھ اور مسلح جتھوں نے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کردیا ،تاریخ میں آزادی کے حصول کے لیے کسی بھی قوم کا ایک دن میں اتنی قربانیوں کے نذرانے کی نظیر نہیں ملتی ، 6 نومبر کو کتنے مسلمان شہید ہوئے ، اس کے سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں ، کیونکہ حکومت وقت نے ان کو مسخ کردیا ، آج بھی گم نام اجتماعی قبریں دریافت ہوتی ہیں ، اس موقع پر شہداء کی تعداد کے اعداد و شمار کا ریکاڈ واضح نہیں ہے ، کیونکہ سرکاری ریکارڈ نے مسلمانوں کے اس قتل عام کی تفصیلات کو دبانے کے تمام حربے استعمال کیے تھے ، لیکن ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں 2 لاکھ 37 ہزار مسلمانوں کو شہید کیا گیا تھا ، بعض اخبارات نے اس موقع پر شہداء کی تعداد 4 لاکھ تک لکھی ہے ،کشمیر میں 61 فیصد مسلمان تھے ، لیکن اس سانحہ کے بعد تقریبا پانچ لاکھ مسلمانوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہجرت کی ، جس کی وجہ سے کشمیر میں مسلمان اقلیت بن کر رہ گئے ،اس سانحہ کو گزرے 75 برس گزر گئے ، آج بھی کشمیری اور پوری دنیا کے منصف پسند لوگ 6 نومبر کو اس واحشیانہ قتل عام کی یاد میں یوم شہدائے جموں مناتے ہیں ، مختلف تقاریب منعقد کی جاتی ہیں ، شہداء کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ، ان کے لیے ایصال ثواب کیا جاتا ہے ، ان شہداء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے ، ان کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کے مشن کی تکمیل کے لیے عزم کا اظہار کیا جاتا ہے ، تاکہ نسل نو اپنے اباو اجداد کی قربانیوں سے واقف رہے اور اپنے وطن عزیز کی آزادی کے لیے کوششوں کو جاری رکھیں ۔
آج پون صدی گزرنے کو ہے کشمیریوں کو آزادی حاصل نہیں ہوئی ، وہ آج بھی بھارت کے ظلم و بربریت کو برداشت کر رہے ہیں ، آج بھی ان کے کندھوں پر ان کے شہداء کے لاشے ہیں ، انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں اور اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیم کے ہوتے ہوئے وہاں آج بھی کشمیریوں اپنے سرزمین پر قیدی کی زندگی گزار رہے ہیں ، قابض بھارت نے دس لاکھ فوج کو سرزمین کشمیر پرمسلط کر رکھا ہے ، انہیں ابتدائی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ، بھارتی حکومت نے تمام عالمی قوانین کو چیلنچ کرتے ہوئے 2019 میں کشمیریوں کے جائیداد کے قانون کو تبدیل کردیا ،جو کہ جنیوا کانفرنس کے قانون کی خلاف ورزی ہے ، ہندو آبادی میں اضافہ کیا جارہا ہے ، تاکہ وہ آزادی کی تحریک کو دبا سکیں ، لہذا ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہم پر یہ اخلاقی فرض ہے کہ ہم کشمیری بھائیوں کے حق میں موثر آواز اٹھائیں ۔