سماجی بہبود میرپورخاص کے بچوں کے تحفظ ادارے اور سندھ رورل سپورٹ پروگرام کی جانب سے معاشرے میں بچوں کے تحفظ ، بچوں پر ہونے والے تشدد اور جنسی تشدد کے واقعات کی روکتھام کے حوالے سے سندھ رورل سپورٹ پروگرام میرپورخاص کے آفس میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا .
میر پور خاص (سٹارنیوز)سماجی بہبود میرپورخاص کے بچوں کے تحفظ ادارے اور سندھ رورل سپورٹ پروگرام کی جانب سے معاشرے میں بچوں کے تحفظ ، بچوں پر ہونے والے تشدد اور جنسی تشدد کے واقعات کی روکتھام کے حوالے سے سندھ رورل سپورٹ پروگرام میرپورخاص کے آفس میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا . تربیتی ورکشاپ میں محکمہ سماجی بہبود کے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ ، محکمہ ترقی نسواں ، محکمہ پولیس اور سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی . تربیتی ورکشاپ مکمل کرنے پر شرکاء کو سرٹیفکٹ اور شیلڈ تقسیم کرنے کی تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو پریم چند ، ريجنل ڈائریکٹر سرسو غلام رسول سميجو ، ڈسٹرکٹ مینیجر سرسو میرپورخاص مقصود احمد ، ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ آفیسر میرپورخاص جنید مرزا ، سرسو ادارے کی رادھا بھیل اور ٹرینر روہان فیصل اور دیگر مقررین نے شرکت کی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میرپورخاص ڈاکٹر رشید مسعود خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے پھول کے مانند ہوتے ہیں ان کا تحفظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے بچوں کی تحفظ کا ادارہ قائم کرکے قانونسازی بھی کی گئی ہے جس کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کو بچوں کی تحفظ کرنے کے متعلق آگاہی دی جائے مقررین نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے نہ صرف بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین بنائے ہیں بلکہ خواتین کے تحفظ ، چھوٹی عمر میں بچیوں کی شادی کی روکتھام ، ہندو ریسٹرکٹ ایکٹ اور دیگر قوانین بنائی ہیں جس پر عملدرآمد کروانے کے لیے متعلقہ اداروں اور کمیونٹی سطح پر تربیتی پروگرام کروائے جا رہے ہیں تاکہ بچوں اور خواتین پر ہونے والے تشدد کی روکتھام کو ممکن بنایا جا سکے . انہوں نے تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تربیتی ورکشاپ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں بچوں کی تحفظ کے حوالے سے اپنا کردار ضرور ادا کریں گے . آخر میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ مکمل کرنے والے شرکاء میں سرٹیفکیٹ اور شیلڈ تقسیم کیے گیے .قبل ازیں ڈپٹی کمشنر میرپورخاص ڈاکٹر رشید مسعود خان نے سرسو کے تعاون سے معذور خواتین میں وہیل چئیر، اور زیبا تقسیم کئے جبکہ حاملہ خواتین میں ڈلیوری کٹ تقسیم کئے .
رپورٹ کفیل خان غوری












