ڈاکٹر_نادر_علی_خان__اک_بےباک_بےلوث_انسان
تحریر۔۔۔ندیم یعقوب فاروقی
تین دہائیوں سےطویل جہدمسلسل کےبعد زندگی کی چوون بہاریں دیکھ کرڈاکٹر نادر خان اپنےخالق حقیقی سےجاملے۔ڈاکٹر صاحب ایک بھرپور بےباک بےلوث باکمال زندگی گزار کرگئے۔انکے جنازہ کےبڑے اجتماع سےمذھبی،سیاسی، تنظیمی، سماجی راھنماوں نےانکے محاسن واوصاف بیان کیے۔مجھے بھی ناظم اعلی سردارمظہر صاحب سمیت متعدد احباب نےکچھ بیان کرنےکاکہا لیکن سچ یہ ھے کہ میں رقیق القلب قسم آدمی ھوں ایسے مواقع پہ بیان ممکن نہیں ھوتا۔اس موقع پرمحوسوچ تھاکہ ڈاکٹر نادر صاحب سےکب کہاں ابتداء ملاقاتیں ھوئیں اورپھرچونتیس سالہ رفاقت ۔۔۔۔۔۔اللہ اکبر۔
ڈاکٹر نادر علی خاں 1969میں راولپنڈی میں پیداھوئے۔میٹرک ایف جی بوائز ہائی سکول مریڑ حسن راولپنڈی سے کیا۔ایف ایس سی(FSC) ایچ نائن(H-9) کالج اسلام آباد سے کیا۔ایم بی بی ایس(MBBS)میڈیکل کالج راولپنڈی سے کیا۔اور پھر تادم آخر مختلف سرکاری اور نیم سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔کچھ عرصہ سے پیپلز کالونی میں اپنا ذاتی کلینک بھی چلا رہے تھے اور دکھی انسانیت کی خوب خدمت کر رہے تھے۔
ڈاکٹر نادر علی خان نےایک بھرپور تحریکی تنظیمی زندگی گزاری۔1989میں نظریاتی طور پر متعارف ہوئے۔1990 میں سٹوڈنٹس نظم کے قیام کے ساتھ ہی وابستہ ہوئے اور 1991 میں کمیٹی چوک نزد الفاروق ہوٹل راولپنڈی میں پہلا تنظیمی پروگرام منعقد کیا۔ایس ایس ایس(SSS)نے 1992 میں سنی طلباء امن مارچ طے کیا جس کا روٹ لیاقت باغ سے چاندنی چوک مری روڈ راولپنڈی تھا۔
لیکن امن کے دشمنوں کو کہاں یہ برداشت ہوتا مارچ پر پابندی لگا دی گئی۔لاٹھی چارج۔۔۔۔۔شیلنگ ہوئی ملک بھر بالخصوص پنجاب سے طلباء کی ایک بڑی تعداد راولپنڈی پہنچ چکی تھی اس لیے مارچ بھی ہوا اور جامعہ فرقانیہ میں پروگرام بھی ہوا۔مقدمہ درج ہوا اور ڈاکٹر نادر علی خان پہلی بار گرفتار ہوئے۔۔۔۔۔چٹیاں ہٹیاں میں سنی شیعہ تنازعہ پر جلاو گھیراؤ کے الزام میں مقدمہ درج ہوا اور ڈاکٹر نادر خان نامزد ہوئے۔۔۔۔۔۔چند کالجز کو کرسچن کمیونٹی کے حوالہ کرنے کی بابت احتجاج اور روڈ بند کروانے کے الزام میں پھر مقدمہ درج ہوا اور گرفتار ہوئے۔۔۔۔۔ایرانی کیڈٹ قتل کیس جو کہ دوملکوں کی پراکسی وار کا رزلٹ تھاکی تفتیش کےلیے ڈاکٹر صاحب سےپوچھ گچھ ھوئی اور بہت پریشان کیا گیا۔۔۔۔۔۔جنگ اخبار کے دفتر موتی محل کےقریب ایرانی پرچم نظر آتش کرنےاورفائرنگ کے الزام میں مقدمہ درج ہوا۔۔۔۔۔۔صدر اسحاق خان کے دورہ ایران کےموقع پرنوائے وقت نے ایک ناپسندیدہ شخصیت کے نام کے ساتھ دعالکھی اس پرطلبابرادری نےاحتجاج کیا ڈاکٹر نادرخان پرمقدمہ درج ھوا۔۔۔۔شاہ نجف سٹلائیٹ ٹاون فائرنگ کیس میں سارے گھروالوں کوپریشان کیااورڈاکٹر صاحب سے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔۔۔۔کمیٹی چوک جامعہ ھاشمیہ میں اشتعال انگیر تقریر پرمقدمہ درج ھوا۔۔۔۔عون محمدرضوی قتل کیس میں گرفتاری ھوئی۔۔۔۔ذاکرحسین شاہ فائرنگ کیس میں پریشان کیاگیااورپوچھ گچھ کی گئی۔۔۔۔ان متعدد جھوٹے مقدمات، بلاجواز گرفتاریوں،ناجائز تفتیش کےھتکنڈوں،دھونس دھاندلی کےحربوں کے باوجود ڈاکٹر نادرخان کےپایہ استقلال میں کبھی کمی نہ آئی اور ھر مصیبت پریشانی کے بعد اک نئے عزم کے ساتھ عازم سفر ھوئے۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب یونٹ سےڈویژنل صدر تک مختلف ذمہ داریوں پرفائزرھےاورھمشہ بہترین کارکردگی کامظاھرہ کیا۔۔۔۔ایس ایس ایس کاباضابطہ دفترسرکلرروڈ راولپنڈی قائم کرنے میں کلیدی کرداراداکیا۔اسی دوران سیشن1993۔۔۔۔94 میں ڈویژنل صدربھی رھے۔ا ن کےبعد سیشن 1994۔۔۔۔95 کاڈویژنل صدرراقم الحروف تھاجبکہ ڈاکٹر نادر صاحب نےھمشہ بھرپور معاونت کی۔۔۔۔
مختلف مواقع پرنیشنل انٹرنیشنل ایشوزپر احتجاج، ریلیوں،جلوسوں میں ھراول دستہ میں پیش پیش رھے۔توھین قرآن کریم،تحفظ ختم نبوت، گستاخانہ کارٹون، صحابہ کرام کی گستاخی، کشمیر، فلسطین، برما،افغانستان، ڈنمارک، فرانس الغرض کوئی بھی ایونٹ ھو ڈاکٹر نادرخان ایک جواں ھمت،بےباک،فرنٹ لائن مجاھدکی حیثیت سے پیش پیش رھے۔۔۔۔
2013 کےقومی انتخابات میں چنددوستوں کی فرمائش پرحلقہ پی پی 11راولپنڈی سےڈاکٹرعبدالقدیرخان کی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کےٹکٹ پرصوبائی اسمبلی کاالیکشن لڑےاور5300 ووٹ حاصل کیے۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کاخاصہ تھاکہ پیدل کمپین کرتے اوراپنی انتخابی مہم میں بھی نظریاتی گفتگو کیا کرتے تھے۔۔۔۔
راولپنڈی کےتقریباتمام چھوٹے بڑے کالجز میں کام کیااوریونٹ سازی کی۔مدارس دینیہ اور علماۓکرام سے بھی دلی محبت کاتعلق تھا بالخصوص پیرطریقت حضرت مولانا پیر عزیز الرحمان ھزاروی رح سےبہت قربت کاتعلق تھا۔نماز جنازہ میں علماۓکرام،مشائخ عظام اور مدارس دینیہ کےمنتظمین،مختلف مذھبی جماعتوں کے قائدین کی بھرپور شرکت اس بات کابین ثبوت ھے۔
راولپنڈی اسلام آباد میں ھمیشہ سٹوڈنٹس کاکام مثالی رھااوراب بھی ھے اس کےبنیاد بھی ڈاکٹر نادرخان ایسےانمول ونادر ھیرے ھی ھیں۔ڈاکٹر نادرخان رکن شوری اورسابقین میں نمایاں مقام کی وجہ سے اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کراجلاسوں،نشستوں، کنونشنزمیں بڑے پرعزم ھوکرشریک ھوتےاوراپنے تجربات، مشاہدات سےنسل نوکی تربیت کرتے۔
اک نادر خان ھی نہیں سٹوڈنٹس نے ھردورمیں قوم کو بہترین افراد مہیاکیے۔
بابائے طلبہ ملک عمرفاروق مرحوم، انجینئر سہیل اسلم شہید،مفتی ڈاکٹر ھارون قاسمی شہید، ڈاکٹر خالد نواز فاروقی شہید، خالد محمود کھوکھر مرحوم،قمرالزمان چوہدری مرحوم اور اب ڈاکٹر نادرخان کس کس کاذکر کیاجائے متعدد سیاسی، تاجر، مذہبی، سماجی، تنظیموں کوصف اول کی قیادت مہیا کی۔۔۔۔۔ملکی دفاع اوراستحکام کےاداروں سمیت ھر شعبہ ھاےزندگی کےلیے بہترین محب وطن،محب دین ھزاروں کی تعدادافراد دئیے اوریہ مقدس کام ھنوز جاری وساری ھے۔
لیکن افسوس کہ مسلک ومشرب کی خدمت کےدعویداروں کودینی عصری تعلمی اداروں میں مسلک ومشرب کی اکلوتی ملک گیر نمائندہ طلبہ تنظیم کاکام نظر نہیں آتااورنت نئے اندازسےاس اھم ترین کام میں مخل ھونے کے لیے کوشاں رہتے ھیں۔چاھیے تو یہ تھا کہ اکابرین امت اور بہی خواھان مسلک ومشرب ان شاھین صفت جانبازوں کوتھپکی دیتے ،انکی ضروریات کاخیال رکھتے مگر کاش کہ ایسا ھو تو نتائج اور بہتر اورجلدمرتب ھوں۔۔۔۔
بہرحال۔۔۔۔۔موجودہ ناظم اعلی عزت مآب سردارمظہر صاحب اپنی پوری ٹیم مرکزی،صوبائی، ضلعی عاملہ جات سمیت ملک بھرمیں بہترین خدمات سرانجام دے رہے ھیں دعا ھے کہ رب العزت اس گلشن میں مزید نکھار پیدا کریں۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نادر علی خان مرحوم کی تیمارداری جو تقریبا دو ہفتے ہسپتال میں جاری رہی اس موقع پر ایم ایس او کے مرکزی،صوبائی،ضلعی ذمہ داران بالخصوص سردارمظہر ،ارسلان کیانی ،بلال ربانی ،فاروق معاویہ ،اسامہ قریشی اور سابقہ ذمہ داران اور ڈاکٹر نادر علی خان کے قریبی دوستوں جن میں سر فہرست برادر عزیز حمزہ مغل ہیں کا مثالی کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور جس سے ثابت ہوا کہ خونی رشتوں سے زیادہ نظریاتی رشتے مقدم ہوا کرتے ہیں۔اللہ پاک ڈاکٹر نادر علی خان مرحوم کے بچوں،بھائیوں دیگر رشتہ داروں،اہل خاندان،اہل خانہ اور دوست احباب بالخصوص نظریاتی برادری اور ایم ایس او کے ہر محب ومعاون کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔ہمارے کچھ محسنین و مربی اب بھی قید و بند اور بیرون ملک کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں ہم اس دکھ کے موقع پر ان سے بھی دلی تعزیت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ ڈاکٹر نادر علی خان کی جدائی کے صدمہ سے نڈھال ہیں۔۔۔۔۔۔اللہ پاک انکے مصائب کو جلد دور فرمائیں تاکہ وہ ہمارے درمیان موجود ہوکر ملک و ملت کی بہتر خدمت کر سکیں۔
آخر میں ایک بار پھر اپنی طرف سے اراکین شوری، سابقین کی طرف سے سردارمظہر، ارسلان کیانی،بلال ربانی، فاروق معاویہ اور ان کےرفقا جنہوں نے ڈاکٹر نادرخان کی مثالی خدمت،تیمارداری،جنازہ،تدفین اور تعزیت کےمراحل سرانجام دیے جس سے ھم سب اور نظم کے سرفخرسےبلند ھوئےکاشکریہ اداکرتاھوں۔
برادر حمزہ مغل اور انکے بھائیوں کابھی تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے ڈاکٹر نادر علی خان سے تین دہائیوں سےزائد کا نظریاتی تعلق نبھایا اور زندگی سے بیماری تک اور بیماری سے موت اور تدفین اور تعزیت تک بہترین کردار ادا کیا۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ۔۔۔۔











