مسلہ فلسطین پر مسلم ممالک کی مجرمانہ خاموشی، ،،کیاگل کھلائے گی۔۔سینٹر مشتاق احمد خان کاکالم۔۔۔سٹارنیوزپر

قاہرہ کی ڈائری (1)
او آئی سی کا اجلاس غزہ کو بچانے اور اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کے اعلان کے بغیر ختم ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ان استعمار کے غلاموں پر غزہ کے بچوں کے لاشوں کے ٹکڑے اور ان زخمی شہید ہوتے بچوں کی دلدوز چیخیں بھی اثر نہ کرسکیں۔عسکری مداخلت تو دور کی بات ہے تجارتی، سفارتی،معاشی بائیکاٹ تک کا فیصلہ نہ کرسکے۔ عملاً ثابت ہوگیا یہ سقوط غزہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ اسرائیل کی طرح خود پریشان ہیں کہ یہ کمبخت اہل غزہ اتنے سخت جان کیوں ہیں؟ابھی تک مزاحمت کرکے اسرائیل کو رسوا اور ہمیں شرمندہ کررہے ہیں۔ اسرائیل نے تو 6 روزہ جنگ میں شام،اردن اور مصر کی افواج کو شکست دے کر اپنے ملکی رقبے سے 4 گنا زیادہ علاقہ قبضہ میں لیا تھا لیکن یہ حماس اور اہل غزہ تو مافوق الفطرت مخلوق ہیں جو 15 کلومیٹر چوڑی اور 43 کلومیٹر لمبی پٹی میں صرف 23 لاکھ آبادی کے ساتھ،جس میں آدھے بچے ہیں، اسرائیل کی جدید ترین جنگی مشینوں اور امریکا یورپ کی سیاسی، معاشی، سفارتی، ابلاغی اور عسکری سرپرستی اور امداد کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں،
کل عرب لیگ اور او آئی سی کا اجلاس نہیں بھیڑ بکریوں کے ایک ریوڑ کا جدہ میں اکٹھ تھا۔ یہ ننگ ملت ،ننگ دیں ننگ امت ہیں۔ یہ زمین کا بوجھ ہیں۔ یہ زندہ لاشیں ہیں اور استعمار کی کٹھ پتلیاں ہیں۔
اس پوری صورتحال میں پاکستان غائب ہے۔ جی ہاں دنیا کا واحد مسلم ایٹمی ملک!
اجلاس میں ایران کی تجاویز کہ اسرائیلی فوج کو دہشتگرد قرار دیا جائے،ترکی اور الجزائر کی تجاویز آئیں لیکن پاکستان کی کسی تجویز/تجاویز کا ذکر نہیں، پاکستان خاموش ہے، لاتعلق ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ نگران وزیراعظم نے کسی ایک فلسطین ریلی سے خطاب نہیں کیا کوئی ایک خصوصی پریس کانفرنس نہیں کی۔ بھئی اور کچھ نہیں کرسکتے تو چلی،بولیویا،کولمبیا اور ساوتھ افریقہ کے سربراہان کو فون کرکے فلسطین سٹینڈ اور سفارتکاروں کو اسرائیل سے واپس بلانے پر شکریہ ہی ادا کرتے۔
چند باتیں واضح ہیں:
(1) مسلم حکمران بے حسی کے آخری درجے پر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حوالے سے اس شدید مجرمانہ بزدلی پر اللہ کی گرفت ہوگی
(2) عرب ممالک درپردہ حماس، اسلام پسندوں اور آزادی کی دیگر تحریکوں کو اپنے لئے اسی طرح خطرہ سمجھتی ہیں جس طرح اسرائیل ان تحریکوں کو خطرہ سمجھتی ہے اور درپردہ اسرائیل کے ساتھی ہیں۔ یہی بات گزشتہ دنوں ایک مغربی سفارتکار نے بتائی کہ ہمارے ساتھ بند کمروں کے اجلاسوں میں ان کا موقف کچھ اور اور باہر عوام کے ڈر سے ان کا موقف کچھ اور ہوتا ہے۔
(3) غزہ کے اس بہت بڑے بحران کا کوئی مدعی نہیں بن رہا۔ غزہ اس پونے دو ارب امت مسلمہ میں لاوارث ہے بلکہ الٹا اس بحران کو استعماری ممالک اور استعمار کے ساہوکار اداروں سے مالی فوائد، قرضوں کی معافی،مزید قرضوں کے حصول اور دیگر معاشی مفادات کیلئے بڑی بے شرمی سے درپردہ استعمال کررہی ہے۔ یہی گفتگو میں قاہرہ میں مصر کے حوالے سے سن رہا تھا۔ گویا غزہ کی لاشوں،خون اور زمین کا سودا ہورہا ہے۔ پاکستان کا بھی یہی مخمصہ ہے۔ آئ ایم ایف کی قسطیں کیسے ملتی ہیں، کس کے کہنے پر ملتی ہیں یہ اب کوئی راز نہیں ہے۔اسی لئے تاریخ میں پہلی مرتبہ امت کی اس بڑی آزمائش پر پاکستان کی خاموشی اور لاتعلقی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔
(4) غزہ سے مشرق و مغرب میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ آپ دیکھ لیں مغرب کی پبلک جس طرح اٹھی ہے ایسا پہلے کھبی نہیں ہوا کہ مسلم ملک کے کسی ایشو پر اس طرح مغربی پبلک نے رسپانس کیا ہو۔ اس وقت غزہ کی کمپین سٹریٹ ،سڑکوں پر جلسے جلوس اور مظاہروں کی صورت میں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مشنری انداز سے لے کر چلنے والے مغربی لوگ ہیں۔ میں نے تو صحرائے سینا میں العریش کے پار غزہ کی سرحد سے چند کلومیٹر دور بحیرہ روم (Mediterranean) کے کنارے رات کے وقت مصریوں کو بھرے ہوئے ریسٹورنٹس اور کھانے اور دعوتوں سے لطف اٹھاتے دیکھا جن کو یہ درد ہی نہیں تھا کہ یہاں سے چند کلومیٹر پر اس امت کے ایک مخلص تریں حصے پر موت کا رقص جاری ہے۔ جبکہ مغربی پبلک پہلی مرتبہ امت مسلمہ کے قریب آئی ہے اور مغربی رجیمز کا اسلام کے خلاف تعصب اور منفی پروپیگنڈا اور اسرائیل کی اصل حقیقت ان پر واضح ہو رہی ہے۔
امت مسلمہ کے حکمران غزہ پر مجرمانہ بے حسی اور بے عملی کے اثرات سے جان نہیں چھڑا سکیں گے۔ یہ گدھ اب امت کو زیادہ عرصے تک نہیں نوچ سکیں گے۔ غزہ امت کی حقیقی آزادی کا باعث بنے گا۔
سینیٹر مشتاق احمد خان