آہ۔نوید مدنی،۔۔۔ تیرے بچھڑنے کی کسک اب تک باقی۔۔۔۔چوہدری رضوان قدیر چیمہ کے دردکی دوابنا،۔۔۔سٹارنیوز ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی دوست کےجانے کا درد کیا ہوتا ھے
کوئی مجھ سےپوچھے کہ درد کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر درد کچھ سکھانے آتا ہے جب وہ سیکھ مل جاتی ہے، درد چلا جاتا ہے. لیکن درد کی سرحدیں اور اسکی وجہ اور سیکھ سمجھنا بھی اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ خوشی کے پیمانے طے کرنا مشکل ہے.نوید مدنی کا درد ایسا ھے جس سے میں آخری سانس تک جان نہیں چھڑا پاؤں گا۔
کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنکی وجہ معلوم ہوتی ہے اور وجہ کو دور کرنا یعنی درد ختم کرنا بھی دسترس میں ہوتا ہے.جبکہ کچھ درد انجان ہوتے ہیں انکی وجہ معلوم نہیں ہوتی.
جب ایسی صورتحال ہو تو انسان کی جذبات اور خواہشات بے لگام ہوتی ہیں ان جذبات کی لہروں میں چلنے کی کوئی سمت نہیں ہوتی.آپ رو بھی نہیں سکتے اور یادوں سے جان بھی نہیں چھڑا سکتے۔میری کیفیت کچھ ایسی ھے۔












