پاکستان میں جمہوریت
تحریر:اللہ نوازخان
پاکستان میں جمہوریت یہی ہے کہ ”مخصوص“سیاسی رہنما دوبارہ برسر اقتدارآجائیں۔بالفرض وہ رہنما اقتدار نہ سنبھالے تو ان کے بھائی، بیٹا یا کوئی اور خاندان کا فردمسند اقتدارکو سنبھال لے۔کئی دہائیوں سے یہ جمہوریت پاکستانیوں کےمقدر میں لکھ دی گئی ہے۔پیپلز پارٹی،نون لیگ،ایم کیو ایم،جے یو آٸ اور اس طرح کی سیاسی جماعتیں اپنےآپ کو اقتدار کا حقدارسمجھتی ہیں۔ساری سیاسی جماعتیں اس بات کی حامی ہیں کہ ان کے علاوہ پاکستان کی حکومت سنبھالنے کاکوئی اور حق نہیں رکھتا۔جمہوری معاشروں میں ہر وہ فردآسکتا ہے جو قابل ہو۔بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے تمام سیاستدان تقریبا نا اہل ہیں،چند قابل بھی ہیں تو ان کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔نون لیگ اور پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعتیں ہیں اورجمہوری ہونے کی دعویدار بھی ہیں،لیکن وزیراعظم اور صدرکےعہدوں کے حقدار نواز شریف کے خاندان اور زرداری کے خاندان کے علاوہ کوئی ہے ہی نہیں۔چند ماہ کے بعد2024 میں الیکشن ہو رہا ہے،اس میں دعوے کیےجائیں گے کہ اصل جمہوری پارٹیاں ہی الیکشن لڑ رہی ہیں۔کیا یہ پارٹیاں عوام کو بتانے کی زحمت گوارا کریں گی،کہ ان پر جو کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ان میں کتنی صداقت ہے؟یہ اور بات ہے کہ ہر پارٹی دوسری پارٹی کے امیدواروں کو تو مجرم ثابت کر رہی ہوتی ہے لیکن اپنےآپ کودودھ کا دھلاثابت کر رہی ہوتی ہے۔نون لیگ اورپاکستان پیپلزپارٹی جو یہ دعوی کرتے نہیں تھکتی کہ وہ جمہوریت پسند جماعتیں ہیں،کیاوہ انٹرا پارٹی الیکشن میں کسی اور کوآگےآنے کا موقع دیں گی؟یہ دعوے تو دھڑلے سے کیےجائیں گے کہ وہ پاکستان کوترقی یافتہ بناکردم لیں گے،ساتھ ہی دوسری سانس میں یہ بھی کہا جائے گا کہ چند مجبوریوں کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی اور دوسرے مسائل حل کرنامشکل ہے۔عجب تماشہ یہی ہے کہ کئی دہائیوں سے یہی جماعتیں حکومت کر رہی ہیں۔اب آنے والے الیکشن کے بعد یہ جماعتیں پاکستانی قوم کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں،یہ ایک سوال ہے جوقوم سیاستدانوں سے پوچھنے کا حق رکھتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ کوئی سیاستدان یہ بات بتانا ضروری نہیں سمجھتا اور نہ کسی میں جرات ہے کہ سیاست دانوں سے یہ سوال پوچھ لے۔
آنے والا الیکشن،قبل از وقت کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔امید رکھنی چاہیے کہ الیکشن صاف و شفاف ہوگا۔ہر پارٹی اس الیکشن میں حصہ لے گی اور بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے والی جماعت حکومت سنبھالنے کی حقدار ہوگی۔انتقامی سیاست کو نظر انداز کیا جائے گا۔اگر 2024ء کے دوسرے ماہ فروری میں ہونے والا الیکشن مزیدالتواکا شکار ہوا تو کئی ابہام پیدا ہو جائیں گے۔کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ آنے والا الیکشن خالص جمہوری ہوگا۔جمہوریت پاکستان کے لیے بہترین ہے اور جمہوری پاکستان ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے لیے پوری قوم کو کوششیں کرنا ہوگی۔سیاسی پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ قوم کچھ نہیں کر سکتی۔وہ یہ بات سمجھنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ وہ جو کچھ بھی کرتے رہیں ان سے کوئی سوال بھی نہیں کر سکتا۔جمہوریت کا توصرف نام استعمال کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں جمہوریت نہیں ہوتی۔ایک مصیبت یہ بھی ہوتی ہے کہ سیاستدان کمزور پوزیشن پر بھی ہوتے ہیں،وہ کوئی آسانی سے فیصلہ نہیں کر سکتے بلکہ ”ڈکٹیشن“کی ان کو پیروی کرنا پڑتی ہے۔معاشی کمزوری بھی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔آٸ ایم ایف،دوسرےممالک اور اداروں سے لیاگیا قرض ان کو یہ مجبور کر دیتا ہے کہ وہ ان کی ہدایات کے مطابق کام کریں۔قرض ایک ایساجال ہے،جس نے پاکستانی معیشت کو جکڑ رکھ دیا ہے اور بھاری سود کی ادائیگیاں پاکستانی معیشت کو نچوڑ رہی ہیں۔اس طرح کی معیشت کسی بھی ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے اور پاکستان کمزور معیشت کے سبب دوسروں کے آگے جھکنے پر مجبور ہے۔پاکستان اگر جمہوری طور پرآگے بڑھنے کا رجحان رکھتا ہے تو اس قرض کی لعنت سے بھی چھٹکارا پانا ہوگا۔بہرحال کمزور معیشت اتنی بھی رکاوٹ نہیں بنتی،بلکہ سیاستدان شاید خود ہی نہیں چاہتے کہ پاکستان جمہوری طور پر مضبوط ہو۔دنیا میں معاشی طور پرکمزورکئی ممالک جمہوری لحاظ بہترین انداز میں چل رہے ہیں۔قوم کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ سیاستدانوں کو مجبور کرے کہ اصلی جمہوریت آۓ۔بہترین جمہوریت ہی پاکستان کو ترقی یافتہ بنا سکتی ہے۔حقیقی ”جمہوریت“پاکستان کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں حقیقی جمہوریت لانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاست دان کردار کے لحاظ سے بھی اچھے ہوں اوراچھی ساکھ کے مالک بھی ہوں۔اچھی سا کھ کےسیاستدان بہترین جمہوریت لا سکتے ہیں۔وہ جمہوریت جس کی تعریف ابراہم لنکن نے کی ہے،کہ جمہوریت کی تعریف یہ ہے کہ ”عوام کی حکومت،عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے“۔عوام کے ذریعے آنے والی حکومت ہی جمہوری ہوتی ہے۔عوام تاٸیدکے بغیر آنے والی حکومت،حکومت تو ہوتی ہے مگر جمہوری نہیں ہوتی۔جمہوریت میں عوام کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ظلم کے ذریعے یا کسی اور ناجائز ذریعے سے آنے والی حکومت جمہوری نہیں کہلاٸ جا سکتی۔پاکستان کو نام نہاد جمہوریت نہیں بلکہ حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے۔جمہوریت میں تمام فیصلے عوام کے مفاد کودیکھ کرکیے جاتے ہیں اور غیر جمہوری دور میں فیصلے مخصوص افراد کےمفاد کو مد نظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔پاکستانی عوام کی اکثریت جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور اس بات کی خواہشمند بھی ہے کہ جمہوری حکومت آجائے،مگر یہ پاکستانی قوم کی خامی سمجھی جائے کہ الیکشن کے دوران جمہوریت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔حقیقی جمہوریت کے لیے پارٹی،برادری اور تعلقات کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ملک کامفاد مد نظر رکھنا ضروری ہے۔












