”ضبطِ اَشک اتنا کٹھن تھا دیکھنا ممکن نہ تھا“

(قَلَم بَردَاشتہ:)

کالم نگار عبدالستاراعوان

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
مرد وہ ہیں جو زمانے کوبدل دیتے ہیں

یہ شعر طالب علم رہنما قمرالزمان چودھری (مرحوم) پر صادق آتا ہے۔قمر الزمان چودھری ایک غیر معمولی انسان تھے،اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بڑے مشن اور اعلی کارناموں کے لیے پیدا کیا تھا۔ انہوں نے صرف 35 برس کی عمرمیں وفات پائ۔آج وہ زندہ ہوتے تو یقیناًان کی خدمات کادائرہ بہت زیادہ وسیع ہوچکا ہوتا۔اسلام اور پاکستان ان کی رَگ رَگ میں بستے تھے۔وہ اہل بیت عظام ؓکے سچے پیروکار اورصحابہ کرام ؓ کے کھرے سپاہی وشیدائ تھے۔دنیا کے کسی کونے میں بھی مقدس شخصیات کی توہین ہوتی تو قمر الزمان چودھری سخت بے چین ہو جاتے۔ان کے اندر صرف ایک ہی تڑپ تھی کہ نوجوان نسل کو استحکام پاکستان اور غلبہ اسلام کے لیے تیار کیاجائے۔وہ ایک ایسی کھیپ سامنے لانا چاہتے تھے جو بیک وقت ان دومحاذوں پر کام کر سکے۔23نومبر2015ء کو جس وقت ان کے چاہنے والے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ انہیں لحد میں اتار رہے تھے تووہ ایک نہایت مشکل لمحہ تھا۔فضا سوگوار تھی اورضبط کے بندھن ٹوٹ رہے تھے۔ آج بھی وہ گھڑی یادآتی ہے تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ اپنی آنکھوں سے انہیں ہمیشہ کے لیے جدا ہوتا دیکھنا کسی قیامت ِ صغری سے کم سانحہ نہ تھا۔

ضبطِ اشک اتنا کٹھن تھا دیکھنا ممکن نہ تھا
میں نے آنکھیں بندکیں اور پھر اسے جانے دیا????

چودھری صاحب کی یادوں کوکریدتے ہوئے یہ سطور لکھنے بیٹھاہوں تو سوچ رہاہوں ان کا ذکر کہاں سے شروع کروں اور کہاں پرختم کروں؟۔وہ صحیح معنوں میں بلند فکر اور وژنری انسان تھے۔میں نے انہیں ہمہ وقت تعمیری کاموں میں مگن دیکھا۔وہ محض باتیں بنانے والے نہیں عملی کام کرنے والے انسان تھے۔ گفتار کے نہیں کردار کے غازی تھے۔ ان کے اندر اعلیٰ ظرفی بھی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ان کا تعلق صرف اپنے نظریات کے لوگوں تک محدود نہ تھابلکہ معاشرے کے تمام طبقات سے ملنا جلنا انہیں اچھالگتا تھا۔ان کے اندر تنگ نظری یاتعصب نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ انہوں نے اپنے پاکیز ہ جذبا ت و نظریات کے فروغ کے لیے ایک عجیب حیلہ اختیار کیا کہ آج بھی اس پر حیرت ہوتی ہے۔انہوں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک طلبہ تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اپنی فکر کو اگلی نسلوں تک منتقل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے”مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن“کی بنیاد رکھی تو اس وقت بہت لوگوں نے اسے ”دیوانے کاخواب“قرار دے کر ان کے حوصلے پست کرنا چاہے لیکن میں نے اندر باہر سے اتنا مضبوط انسان نہیں دیکھا،انہوں نے ہر تنقید کو ہنس کر برداشت کیا۔ تنقید تعمیری جذبے کے تحت ہوتی تو وہ اپنی اصلاح کر لیتے، تنقید برائے مخالفت ہوتی تو وہ بڑی بے نیازی کے ساتھ مسکراکردرگزر کردیتے۔آج جب میں پورے ملک میں ان کی تنظیم کی اُٹھان دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے وژن پر رشک آتاہے اورا ن کی عین عالم شباب میں موت پر ایسا دُ کھ بھی ہوتا ہے کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ان کی جدائی کا زخم آج بھی 23نومبر2015ء کی طرح بالکل تروتازہ ہے لیکن دوسری جانب ایک بات کااطمینان بھی رہتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنی تنظیم کوپروان چڑھتے ہوئے دیکھ لیاتھا۔ چودھری صاحب مرحوم کے اندر عاجز ی اور سادگی کمال کی تھی۔میں نے دیکھا کہ ان کی تنظیم آئے روز مقبول ہوتی گئی لیکن ان کے رویے اور مزاج میں ہرگز کوئی فرق نہ آیا،ورنہ ہمارے معاشرے میں کوئی بھی شخص چار لوگوں کو اکٹھا کرکے بزعم خود”لیڈ ر“بن جاتا ہے۔
چودھری صاحب نے کبھی اپنے آپ کو ”لیڈر“کہلوانا پسندنہ کیا،وہ ایک ورکر مزاج انسان تھے اورخود کو ”ورکر“کہلواناہی پسند کرتے۔
قمرالزمان چودھری نے اپنے نظریے کی بنیادیں اس قدر مضبوطی سے اٹھائیں کہ آج ان پر ایک پرشکوہ عمارت کھڑی ہے اوراسے حوادثِ زمانہ سے کوئی ڈر نہیں۔نوجوان طبقے میں آج بھی ان کی بہت محبت بلکہ عقیدت موجود ہے۔ میں ایک پروگرام میں گیا تو دو نوجوان بڑی چاہت کے ساتھ مجھے جھک کر ملے تومیں ان کے اس جذبے پر بڑا حیران ہوا کہ میں انہیں جانتا تک نہیں اور یہ اس قدر وارفتگی سے مل رہے ہیں۔ میرے استفسارپر وہ کہنے لگے کہ: ”ہمیں آپ سے بہت محبت ہے کیونکہ آپ ہمارے ہر دلعزیز رہنما قمر الزمان چودھری کے قریبی ساتھی ہیں“۔آج جب میں ان کے بے شمار ایسے چاہنے والوں کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ قمر الزمان واقعی ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریئے اور موومنٹ کانام تھا۔
آپ ان کے جذبے اور محنت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اکثر ایساہوتا کہ وہ اپنے تنظیمی کام کے سلسلے میں آج اسلام آباد سے لاہور پہنچے تو اگلے روزکسی اور شہر کے لیے رخت ِ سفر باندھ لیا، اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اخبار میں ملازمت بھی جاری رکھے ہوئے تھے اور یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب سے ایم فل بھی کر رہے تھے۔میں نے ایک بار ازارہ تفنن کہہ دیا کہ”چودھری صاحب آپ نے اپنی زندگی کیوں اس قدر مشکل بنائی ہوئی ہے“۔مسکرا کرکہنے لگے:”میں نے زندگی مشکل نہیں بنائی ہوئی،درحقیقت یہی میری زندگی ہے۔ اگر یہ سب کچھ نہ کروں تو زندگی کا ایک ایک لمحہ میرے لیے اجیرن بن جائے۔“
ان کایہی وہ جذبہ تھا جوانہیں کسی طور بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔ جب انہوں نے ماہنامہ ”نقیب طلبہ“کااجراء کیاتو پہلے شمارے کی ”ڈمی“مجھے دکھائی اور کہنے لگے کہ یہ ذرا چیک کر لیجیے۔میں نے سب ٹائٹل کھولاتواس پر”ایڈیٹر‘‘ کے طور پر میرا نام لکھا ہوا تھا۔میں نے کہا چودھری صاحب! میرا نام نکال دیجیے۔زیرِ لب مسکرائے اورکہنے لگے: ”ہرگزنہیں،یہ نام تو اسی طرح رہے گا۔ آپ باقی صفحات چیک کرلیجیے“۔وہ اسی طرح دوستوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور انہیں اپنے ساتھ لے کر چلتے۔ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جواپنے دوستوں کی خوشی میں اپنی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ظاہراورباطن کے اجلے ایسے لوگ واقعی روزروزپیدانہیں ہوتے ؎
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سےہوتاہے چمن میں دیدہ ورپیدا

دعاہے کہ اللہ کریم قمرالزمان چودھری کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائیں ۔آمین۔قارئین سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ درودشریف پڑھ کراس پیارے انسان کی مغفرت اوربلندی درجات کے لیے ضروردعافرمائیں۔
****************
فوٹوکیپشن:لاہور پریس کلب میں قمرالزمان چودھری (مرحوم)، عبدالستار اعوان، ڈاکٹر شریف نظامی،پروفیسر رضوان الحق اورمحمداعجاز کی ایک یادگار تصویر۔