ہمارے مربی ومحسن
تحریر۔۔عبدالرؤف چوہدری
یہ نظامِ کائنات، اس کی ظاہری رعنائیاں اور اس کی چہل پہل سب فانی ہیں اور ایک دن سب نے فنا ہوجانا ہے۔ یہاں جو بھی آیا ہے وہ عارضی آیا ہے اور اس نے وقت مقررہ پر واپس پلٹ جانا ہے۔ تاریخ انسانی میں اربوں کھربوں لوگ آئے، وقت گزارا اور ابدی نیند سو گئے۔ ان میں چند دیدہ ور شخصیات ایسی بھی ہیں جو دنیا میں تو آئیں، لیکن بہت کم وقت کے لیے، اور جاتے جاتے لوگوں کے دل ودماغ میں نقش چھوڑ گئیں۔ لوگوں کے کردار و افعال اور خیالات کو بے راہ روی اور ضلالت وگمراہی کی دلدل سے نکال کر راہِ ہدایت پر چلا گئیں۔
ان دیدہ ور شخصیات میں ایک ہمارے مربی ومحسن، ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں بسنے والے ہمارے قائد برادر قمر الزمان چوہدری مرحوم بھی ہیں۔ جنہوں نے دنیاوی زندگی کی بہاریں تو بہت تھوڑی گزاریں لیکن وہ نام کی طرح اپنے کام سے سینکڑوں لوگوں کے لوحِ قلوب واذہان میں ہمیشہ کے لیے زندہ وجاوید ہوگئے۔ کہاوت ہے کہ: ”کام اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری محنت شور مچا دے“ وہ اس کے کامل مصداق تھے۔ جنہوں نے سینکڑوں نوجوانوں کو ہاتھ سے پکڑ کر صراط مستقیم پر چلنا سکھایا۔ جن کی بدولت ان گنت نوجوان عشق مصطفی اور حب اصحابِ رسول سے منور ہوئے۔ جن کی شب روز کی کوششوں نے نوجوانوں کو وطن عزیز پاکستان کو مستحکم بنانے کے لیے تیار کیا۔ وہ خود تو منوں مٹی کے نیچے سوگئے مگر اپنا نظریہ، سوچ وافکار اور اپنا مشن وکاز لوگوں کے دلوں میں پیوست کر گئے اور یہ پیغام دے گئے کہ؛
مِلّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجَر سے، امیدِ بہار رکھ
برادر قمر الزمان چوہدری نے 80 کی دہائی میں خانیوال کے نواحی علاقہ تلمبہ کے ایک چھوٹے سے قصبہ میں آنکھ کھولی۔ نومولود بچے کا نام ”قمرالزمان“ تجویز کیا گیا جو آگے چل کر حقیقی معنوں میں آسمان کے قمر کی طرح روشن ہوا۔ دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ آغوش مادر میں تربیت پانے کے بعد ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کو علاقہ کی معروف دینی شخصیت قاری عبدالرحمن رحمہ اللہ کے پاس بھیجا گیا۔ قاری صاحب کے پاس آپ نے ناظرہ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن کی بھی تکمیل کی۔
حفظ قرآن کریم کے بعد مزید دینی تعلیم کے لیے آپ کو مولانا اشرف شاد صاحب کے پاس جامعہ اشرفیہ مانکوٹ ضلع خانیوال داخل کرا دیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ میں آپ نے درس نظامی کے ابتدائی کتب کے ساتھ ساتھ درجہ خامسہ تک مختلف علوم ومعارف اور فنون حاصل کیے۔ بعد ازاں اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے ایک قصبے سے نکل کر آپ پاکستان کے دل لاہور، جامعہ مدینہ جدید تشریف لے گئے۔ وہاں اپنے بزرگوں اور اساتذہ کے زیر سایہ رہتے ہوئے آپ نے درس نظامی کی تکمیل کی۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے عصری تعلیم پر بھی توجہ مرکوز رکھی۔ آپ نے جامعہ پنجاب سے بی اے کی ڈگری امتیازی نمبروں میں حاصل کی اور بی اے کے بعد ایم فل کیا اور پی ایچ ڈی آپ کی زندگی کا وہ ادھورا خواب تھا جس کا آغاز تو کیا لیکن زندگی نے وفا نہ کی کہ اس دارِ فانی سے ان نفوس قدسیہ کے قدموں میں جا بسے جن کے شام وسحر گن گاتے تھے۔
برادر قمرالزمان چوہدری مرحوم ایک مایہ ناز مبلغ اور مقرر بھی تھے۔ لفظوں کو جملوں میں پرونے کا فن بڑی اچھی طرح جانتے تھے۔ آپ نے اپنے تعلیمی دور میں ہی بہت سے تقریری مقابلوں میں حصہ لیا اور پوزیشنیں حاصل کی۔ بات سمجھانا آپ پر ختم تھا۔ آپ کی گفتگو معلومات کا انبار ہوتی تھی۔
لکھنا لکھانا آپ کا ایسا شوق تھا جس سے تاحیات منسلک رہے۔ آپ کے لکھے ہوئے کالم اور مضامین ملک بھر کے بڑے بڑے اخبارات اور جرائد کی زینت بنتے۔ مختلف اخبارات میں مختلف ذمہ داریوں پر کام کیا۔ روزنامہ اسلام لاہور کی سب ایڈیٹر اور ”ماہانہ نقیب طلبہ“ کا اجراء اور بعد ازاں نقیب کی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔ نقیب طلبہ کی ملک بھر میں ترسیل بھی آپ خود کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں امت مسلمہ کا درد کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا۔ ہمہ وقت ملک وملت کے لیے فکر مند رہتے تھے۔ اپنے اندر ایک تحریک کو محسوس کرتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے 11 جنوری 2002 کو اپنے چند باہمت، صالح، متدین ساتھیوں کے ساتھ مل کر ”مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان“ کی بنیاد رکھی۔ جماعت میں انہوں نے ایک ورکر کی طرح کام کیا۔ عہدوں کی طمع سے کوسوں دور تھے یہی وجہ ہے کہ جماعت میں مختلف ذمہ داریوں پر کام کیا۔ بہت سے چھوٹوں چھوٹوں کو ہاتھ سے پکڑ کر بڑا بنایا۔ جہاں بھی جماعت کو ضرورت ہوتی تو صفِ اول میں نظر آتے۔ جماعت کی تشہیر کا مکمل کام تنِ تنہا سرانجام دیتے۔ دوستوں سے مربوط رہنا ان کی زندگی کا خاصہ تھا۔
ہنس مکھ چہرے کے مالک اور انتہائی ملن سار تھے۔ ملنے والے آپ کے اخلاق اور خندہ پیشانی کی بدولت پہلی ہی ملاقات میں آپ پر دل ہار بیٹھتے۔ ہر تعلق دار کو مکمل حیثیت دیتے۔ تعلق ایسے نبھاتے کہ تعلق دار یہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتا کہ قمر بھائی سب سے زیادہ مجھ سے ہی پیار و انس رکھتے ہیں۔ تنظیمی امور، گھریلو معاملات اور زندگی کی دیگر مصروفیات ان کے رابطوں میں کمی نہ لاسکی وہ ہمیشہ پُر عزم رہتے۔ دوست احباب کے ساتھ ان کو خصوصی لگاؤ تھا۔ اپنے متعلقین کے دکھ درد سے باخبر رہتے اور ان کی خوشی غمی میں بھی شریک ہوتے۔ انہوں نے حتی الامکان کسی کو شکوے کا موقع نہیں دیا۔
اگر دیکھا جائے تو قمرالزمان ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام تھا۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ کئی افراد پر مجتمع دماغوں کے مجموعہ کا نام تھا۔وہ ایک پھول تھے جو اپنی خوشبوئیں بکھیرتے رہے اور سبھی کے دل ودماغ کو معطر کرتے رہے۔ وہ ایک تنا ور درخت کی مانند تھے جو اپنے سائے سے ہزاروں لوگوں کو نفع پہنچاتے رہے۔ وہ ایک شیریں سمندر کی مانند تھے جس سے سینکڑوں لوگوں نے اپنی علمی ،فکری اور نظریاتی پیاس بجھائی۔
آج قمر بھائی تو ہم میں نہیں رہے مگر ان کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ ان کے تذکروں سے آج بھی دل مغموم اور آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔جب بھی ان کے گھر جانا ہوتا ہے ایسے ہی لگتا ہے کہ کسی طرف سے ابھی قمر بھائی آرہے ہیں۔ ان کے معصوم بچوں کو دیکھ کر بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔انہوں نے ایسا پیار اور محبت دیا کہ جب بھی ان کا تذکرہ کرتے ہیں یا لکھتے ہیں بلا اختیار آنکھیں برس پڑتی ہیں۔ جب بھی کسی کے سامنے قمر بھائی کا ذکر کرتے ہیں تو سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے اور دل میں ایک عجیب قسم کی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ ہماری تربیت میں اس شخصیت کی تگ ودو شامل ہے جو صرف نام کا ہی نہیں بلکہ کردار کا بھی قمر تھا۔جس کا نام، کام، مقام اور کردار جماعت میں ایسے ہی روشن تھا جیسے آسمان دنیا کا قمر اوائل شب کے ساتھ ہی چمکتا ہوا نظر آتا ہے اور ہر دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی مقام اللہ نے قمر بھائی کو دیا تھا۔










