“ساڈی گل ہو گئی اے”
تحریر: سلمان احمد قریشی
پاکستان میں بھی ہر سیاسی جماعت جمہوریت کے گن گاتی ہے، خود کو جمہوری نظام کا علمبردار کہتی ہے اور جمہوری جدوجہد کا ذکر کرتی ہے۔ سبھی جمہوریت پسند ہیں لیکن مقبولیت کے ساتھ قبولیت کے بھی قائل ہیں۔ سبھی جمہوری جماعتوں کے بہت سے رکن فوجی حکمران
جنرل ایوب خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ رہے جمہوری بھی رہے اور آج ان کے وارث جمہوریت کے علمبرداربھی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کا مشن پورا کرنے کا عزم اور مشن پورا کرنے والے نظریاتی بھی ہوئے اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی لگاتے رہے۔ حکومت سے نکالے بھی گئے اور پابندِ سلاسل ہوئے اور معاہدہ کر کے بیرون ملک جِلاوطن بھی ہوئے۔ سب کچھ ہونے کے بعد “ساڈی گل ہوگئی اے” کا بیانیہ لیکر واپس بھی آ گئے۔ ایسا صرف اس لیے ہوتا رہا کیونکہ پاکستان میں محض انتخابات کے انعقاد کو جمہوریت سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ وطنِ عزیز میں فوجی ڈکٹیٹر اپنے غیر آئینی اقتدار کو طول دینے کے لیے انتخابات کا سہارا لے چکے ہیں، سویلین حکمران انتخابی جیت کی طاقت پر ہر قسم کے غیر جمہوری اقدامات کرتے رہے ہیں۔ سیاستدان ووٹ پاکستانی عوام سے مانگتے رہے اور اقتدار مقتدر حلقوں سے مانگتے رہے۔ آج بھی ملکی تاریخ کے کئی اہم فیصلے پاکستانی عوام سے مخفی ہیں اور ان پر مذاکرات لندن میں ہوتے رہے۔ سزا یافتہ رہنما کو لندن سے پاکستانی ہائی کمشنر الوداع کرتے ہیں اور پاکستان میں انہیں سلیوٹ کیا جاتا ہے۔ قانون اور قانون کی حکمرانی کیسی صرف ایک ہی باز گشت ہے “ساڈی گل ہوگئی اے”
قارئین کرام! گمنامی سے قبولیت، قبولیت سے مقبولیت اور پھر حکومت سازی عجیب جمہوریت ہے. انتخابات سے قبل ہی پروٹوکول اور موسمی پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہمیشہ منتخب ہونے والے یہ سیاسی پرندے الیکٹبلز کہلواتے ہیں۔ انتخابات کی آمد سے قبل الیکٹبلز کا ہماری سیاست میں کردار سیاسی تبصروں کا موضوع ہوتا ہے “ساڈی گل ہو گئی اے” کی سچائی الیکٹبلز کی شمولیت سے تسلیم کی جاتی ہے۔ 1996 سے سیاسی جدوجہد کے بعد 2013 کے انتخابات کے نتائج پر چیٸرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں کامیابی پیسے اور الیکٹبلز کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ بات درست ہے، اسکی ایک مثال ملتان کا قریشی خاندان ہے۔ ملتان کے قریشی خاندان سے تعلق رکھنے والے شاہ محمود قریشی1947 کے انتخابات میں یونینسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر مسلم لیگ کے امیدوار کے مقابلے میں میدان میں اترے اور آج انہی کے پوتے شاہ محمود قریشی ملتان سے تحریک انصاف کے وائس چیرمین ہیں، گَل نہ ہونے کی وجہ سے آج جیل میں ہیں۔ بھٹو دور میں شاہ محمود قریشی کے چچا نواب صادق حسن قریشی وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں شاہ محمود قریشی کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی گورنر پنجاب تھے شاہ محمود قریشی نوے کی دہائی میں وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے پھر وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر بنے 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر خارجہ بنے۔ پی ٹی آئی کی “گل ہو گئی اے” تو اس جماعت میں شامل ہوئے۔ 2018 کے انتخابات میں پھر وزیر خارجہ بنے۔ ایک قریشی خاندان ہی نہیں بلوچستان کی کل سیاست اور ملک کے ہر حصہ میں ایسی شخصیات اور خاندان موجود ہیں جو اقتدار کے لیے سیاست کرتے ہیں۔ آج شعور آ جانے کے دعووں اور میڈیا کےفعال ہونے کے باوجود پاکستان کی سیاست میں الیکٹبلز اور خاندانی سیاست کا راج اور تسلط بجائے کمزور ہونے کے مزید پختہ ہو رہا بے۔ الیکٹبلز ذاتی اثر و رسوخ رکھتے ہیں ان کا ذاتی ووٹ بینک کسی سیاسی جماعت کا محتاج نہیں ہوتا گذشتہ کئی انتخابات کے نتائج ان کے اس تاثر کو تقویت پہنچاتے ہیں پارٹی کوئی بھی ہو ان کا ذاتی خاندانی سماجی اثر و رسوخ انہیں پارلیمنٹ اور اقتدار کی راہداریوں میں پہنچا دیتا ہے۔ جنرل ایوب، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے آمرانہ ادوار ہوں یا ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی جمہوری حکومتیں الیکٹبلز ہی مقامی انتخابی سیاست پر حاوی رہے اور اہم عہدوں پر فائز رہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری استحکام آنے کی بجائے پاکستان استحکام پارٹی معرض وجود میں آ گئی۔ تمام سیاسی جماعتیں ان الیکٹبلز کے ہاتھوں یرغمال ہیں آصف علی زرداری پنجاب میں پیپلز پارٹی کا احیا الیکٹبلز کے ذریعے کرنا چاہتے تھے۔ الیکٹبلز کو مخلص اور درمیانے طبقے کے نظریاتی کارکنوں پر ترجیح دی لیکن یہ الیکٹبلز آخری وقت میں پی ٹی آئی سے آئی پی پی میں چلے گئے۔ باپ پارٹی کے اراکین پی پی پی سے وعدے کر کے مسلم لیگ ن میں چلے گئے۔ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ “ساڈی گل ہو گئی اے” سے تبدیل ہوا اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ملکی سیاست میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے الیکٹیبلز کیلئے اپنے بند دروازے کھول دیئے۔ اب کیسے ووٹ اور ووٹ کی عزت بس اقتدار کا حصول ہی جمہوریت ہے۔ ہمارے ملک میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کا فقدان ہے۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں اور طاقت کا مرکز بھی پارٹی یا اس کا کوئی عضو نہیں بلکہ ایک شخصیت ہی ہوتی ہے جس کی قیادت کو پارٹی کے اندر کوئی چیلنج کر سکتا ہے نہ ہی اس کے فیصلے سے کوئی اختلاف کر سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں جبر اور آمریت کی فضا ان پارٹیوں کو جمہوریت کا وہ مضبوط ستون نہیں بننے دیتیں جو ان کا اصل مقام ہے، اور یہ رویہ نوجوان نسل اور نظریاتی لوگوں کو بھی سیاست سے دور رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ غیر فعال یا کمزور پارلیمان کی وجہ سے سیاسی استحکام نہیں آتا۔ سیاست میں پیسے کا بڑھتا عمل دخل جمہوریت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات سے تبدیلی نہیں آتی صرف پارٹی کی حکومت تبدیل ہوتی ہے۔ تبدیلی آ سکتی ہے تو اس کا آغاز عوام سے ہی ہو سکتا ہے لیکن پاکستان میں تو “ساڈی گل ہو گئی اے” کامیابی کی ضمانت ہے۔ پی پی پی کے چیٸرمین بلاول بھٹو اس طرز سیاست کو بدلنا چاہتے ہیں اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ محنت بھی کر رہے ہیں۔ پی پی پی دیگر جماعتوں سے مختلف ہے۔ آج یہ جو کمزور جمہوریت ہے یہ بھی پی پی پی کی قیادت کے خون سے قائم ہے لیکن یہ اصل جمہوریت نہیں ہے۔ کیونکہ ایک جماعت تنہا جمہوریت اور جمہوری عمل کو کامیاب نہیں بنا سکتی۔ مقبولیت کے ساتھ قبولیت کے نقطہ پر سب کا اتفاق ہے۔ اس اتفاق کے نتیجہ میں “ساڈی گل ہو گئی اے” کا بیانیہ کامیاب ہو جاتا ہے اور عوامی رائے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ اب ایسے ماحول میں عوام کی گل کون کرے اور کون عوام سے گل کرے، بس “ساڈی گل ہو گئی اے” کا بیانیہ ہی کافی ہے اور سب موسمی پرندے آ جاتے ہیں۔ انتخابات سے قبل ہی پروٹوکول ملنا شروع ہو جاتا ہے۔جموریت بھی قائم اور اقتدار بھی حاصل عوام میں جا کر محنت کرنے سے آسان راستہ گل کرنا ہے “گل ہو گئی اے” بس، اللہ اللہ تے خیر صلہ۔










