معزز قارئينِ اکرام،،اَلسَلامُ عَلَيْكُم،،

اگلے جہان میں ملیں گے یہ بات بجا لیکن

اس جہان میں بچھڑنے کا غم یاد رھے گا

دنیا فانی ھے لیکن جب اچانک جوان موت کا فیصلہ لٸیے تقدیر آسمان سے زمین کی طرف آتی ھے تو میرے جیسے کٸی دنیاداروں کے رنگوٹھے کھڑے ھو جاتے ھیں دل دھل جاتے ھیں اور بارگاہِ الہی میں اپنے گناہوں پہ معافی کے طلبگار ھوجاتے ھیں
کاروانِ آخرت برق رفتاری کے ساتھ دن بدن اپنی منزل کی جانب رواں دواں ھے
اوریہ اپنے ساتھ ایسے ایسے لعل و گوہر سے زیادہ قیمتی شخصیات کو بہا لے جارہا ھے کہ جس کی نظیر و مثال کا دوبارہ ملنا اس عہد زوال اور احساس کے قحط الرجال میں نا ممکن نظر آتا ھے،
بحر فنا کی ہر ایک موج ہم سے کیسے کیسے غواصانِ فکر و دانش چھین کے لے جارہی ھے اسکا اسے اندازہ نہیں ھے ،
لیکن یہ حقیقت ھے کہ دستِ اجل کے مضراب سے نغمہ تارحیات مسلسل کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جا رہا ھے اور اس سے ہر لمحہ اول وآخر فنا،باطن و ظاہر فنا کے نوحے پھوٹ رہے ہیں۔
کار جہاں کی بے ثباتی کا ثبوت تو ازل سے سب کے سامنے آشکارا ھے
لیکن جب ‏گڑھ مہاراجہ کی صحافت کا درخشندہ ستارہ چوھدری عبدالستار جٹ جیسی عظیم سیاسی و سماجی شخصیت جو گمنام رہ کر کٸی غربا۶ یتیموں و مساکین کی مدد کرتے تھے اچانک داغ مفارقت دے جاتی ھے تو اس دنیا کے فانی ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا، اور ایسی مفارقت پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ھے

شورش کاشمیری کا یہ شعر آج حرف بحرف صادق آرہا ھے

عجب قیامت کا حادثہ ھے اشک ھے آستیں نہیں ھے
زمین کی رونق چلی گئی ھے، افق پہ مہر مبیں نہیں ھے
تیرے جدائی سے مرنے والے وہ کون ھے جو حزیں نہیں ھے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ھے

آج حزن و یاس کی الگ کیفیت طاری ھے، انگلیاں سرد،قلم اداس اور دل افسردہ ھے وجود پر یاس و حسرت کی فضا چھائی ہوئی ھے
چوھدری عبدالستار جٹ کی اچانک وفات کا بے حد افسوس ھے غم کی اس گھڑی میں اُن کے برادارن چوھدری مشتاق جٹ چوھدری محمد مختار جٹ ایڈووکيٹ چوھدری محمد اسحاق جٹ ایڈووکيٹ چوھدری عبدالغفار جٹ ایڈووکيٹ اور جملہ عزیزواقارب سے تعزیت کرتا ھوں دُعا ھے
اللہ پاک آپکو صبرِجمیل عطا فرمائے اور مرحوم چوھدری عبدالستار جٹ کی تمام دُنیاوی لخزشوں کو معاف فرماۓ اور شافعِ محشر خاتمُ الانبیا۶ ﷺ کی شفاعت نصیب فرماکے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے،،آمین.

محمدشاھدنذیر،، گڑھ مہاراجہ.