مطالعہ کرناچاہیے

تحریر:اللہ نوازخان

مطالعہ ایک اچھی چیز ہے،بہترین کتابوں کا مطالعہ تو بہت ہی اچھاہے۔مطالعہ جہاں انسان کےشعور میں اضافہ کرتا ہے وہاں زندگی گزارنے کے اصول بھی بتاتا ہے۔کتاب کو انسان کا بہترین ساتھی بتایا گیا ہے۔مطالعہ کتب کرتے رہنا چاہیے مگرمطالعہ کرتے وقت ایسی کتب کا انتخاب کرنا چاہیے جو بہترین ہوں۔آج کل کےدور میں انسان بہت ہی مصروف ہو چکا ہے اور اس کی یہ مصروفیات اس کے لیے بہت ہی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔جہاں انٹرنیٹ نے انسان کی مصروفیات میں بہت ہی اضافہ کر دیا ہے،وہاں انٹرنیٹ انسان کے لیے مفید بھی ثابت ہو سکتا ہے اگر اس کا درست استعمال کیا جائے۔نیٹ استعمال کرتے وقت اگر فضول چیزیں دیکھی جائیں یا پڑھی جائیں تو یہ وقت کازیاں ہے۔اس کے برعکس اگر بہترین کتابیں پڑھی جائیں،بھلے انٹرنیٹ پرشیئر کی گئی تحریریں ہوں،تو انسان کافی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مغرب کی ترقی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے علم کی طرف توجہ دی،تعلیم پھیلانے کے لیے جگہ جگہ لاٸیبریریاں کھول دیں۔سب سے زیادہ مطالعے کی شوقین جاپانی قوم بتائی جاتی ہے۔جاپانی مطالعہ کےاتنے شوقین ہوتے ہیں کہ سفر کے دوران وہ مطالعہ کوترجیح دیتے ہیں،بجائےاس کے کہ ادھر ادھر کی فضول باتوں میں وقت گزاریں۔مغرب میں بھی مطالعہ زیادہ کیا جاتا ہے۔پاکستان جو ایک اسلامی ملک ہے اور مذہبی طور پرمسلمانوں کواللہ تعالی کی طرف سے تاکید کی گئی ہے کہ علم حاصل کریں،مگر یہاں فضول قسم کی باتوں کو مطالعہ پر ترجیح دی جاتی ہے۔قرآن کی پہلی وحی لفظ”اقرا“سے شروع ہوتی ہے۔اقرا کے معنی ہیں ”پڑھ“اور پڑھنا پاکستانی قوم کومشکل معلوم ہوتا ہے۔آج کل کے نوجوان فضول قسم کی گیمز پرتو وقت ضائع کریں گے مگر مطالعہ کی طرف ان کا رجحان کم ہوتا ہے۔فضول قسم کی گیمز کھیلنے سے ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں،بلکہ بات شدید ڈپریشن تک جا پہنچتی ہے۔فضول قسم کےمشغلوں کی بجاۓاگر مطالعہ کی طرف رجوع کیا جائے تو خود کے لیے بھی بہتر ہوتا ہے اور انسانیت کے لیے بھی بہتر ثابت ہوتا ہے۔پاکستان میں فکشن اور لٹریچرکوئی خاص قسم کاتخلیق نہیں ہوتا کیونکہ یہاں ادیب یا تخلیق کار کووہ پذیرائی نہیں ملتی جو یورپ میں ادیبوں اور تخلیق کاروں کو ملتی ہے۔یورپ یا مغرب میں مصنف اپنی زندگی بہترین طریقے سے گزارتا ہے۔پاکستان میں روزی کمانا مشکل ہوتا ہے اور جو اچھاادیب ہوتا ہے اس کو لکھنے کے لیے خاص ماحول درکار ہوتا ہے لیکن پریشانی کی وجہ سے وہ اچھا ادب تخلیق نہیں کر سکتا۔اگر پاکستانی مصنف کو بہترین ماحول دیا جائے تویہاں بھی ایک اچھا لٹریچرتخلیق ہو سکتا ہے۔پاکستان میں ایک اور بھی بات پریشان کن ہے کہ مطالعہ کا رجحان بالکل ہی ختم ہو رہا ہے۔مطالعہ نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کتب مہنگی ہیں۔ہمارے خیال میں یہ کوئی خاص بات نہیں کیونکہ سگریٹ،چائے،سیر و تفریح اورمختلف قسم کے فضول فنکشن پر اخراجات زیادہ آ جاتے ہیں۔ان اخراجات کو کم کر کے کتب خریدی جا سکتی ہیں جس سے مطالعہ کا شوق پورا ہو سکتا ہے۔پھر بھی اگر کسی کو کتب زیادہ مہنگی لگتی ہیں تو نیٹ کے ذریعے بھی ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھی جا سکتی ہیں۔لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں کتابیں فری موجود ہوتی ہیں،جن سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔انٹرنیٹ پرایسی کتابیں مل جاتی ہیں جن کا عام حالت میں ملنا مشکل ترین ہوتا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ جہاں انٹرنیٹ انسان کے لیے نقصان دہ ہے وہاں اس سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔اگر انٹرنیٹ کا مثبت استعمال کیا جائے تو مفادات کئی گنابڑھ جاتے ہیں۔یہ نہیں کہ پاکستان میں کوئی مطالعہ کرنے والے نہیں ہیں ںبلکہ مطالعہ کرنے والے لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔کئی ایسے واٹس ایپ گروپ بنے ہوۓ ہیں جن میں پی ڈی ایف کتب تقسیم ہوتی رہتی ہیں،ان کتب سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ موجودہ صدی کتب کی آخری صدی معلوم ہو رہی ہے کیونکہ بڑے بڑے اخبارات اور کتابیں انٹرنیٹ پر دستیاب ہو جاتی ہیں۔کتب خریدنے کے لیے جس سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے،انٹرنیٹ پر باآسانی دستیاب ہو جاتی ہیں۔حکومت پاکستان کو بھی توجہ دینی چاہیے کہ عوام میں مطالعے کا شوق راغب کرنے کے لیے لاٸیبریاں قائم کرے۔ہسپتالزمیں کتب اور اخبارات کے خصوصی اسٹال قائم ہونے چاہیے۔حکومت ہسپتالزمالکان کو پابند کرے کہ ویٹنگ روم میں ایک بکس سٹال قائم ہو،جس میں مختلف موضوعات پر کتب موجود ہوں۔اسی طرح ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹیشن پر بھی بک سٹال لازمی ہونے چاہیے تاکہ انتظار کرتے ہوۓ مسافر کتب کا مطالعہ کر کے اپنا فارغ وقت ضاٸع نہ کریں۔کاغذ پر چھپی ہوئی کتابوں کا وقت تو ختم ہو رہا ہے لیکن سکرین پر تحریر کاوقت باقی ہے اور یہ ختم بھی نہیں ہوگا۔اچھی تحاریر اور کتب پڑھنے کے لیے مختلف قسم کی ویب سائٹس بھی موجود ہیں۔مطالعے کے لیے اگر بہترین کتب کا انتخاب کیا جائے تو وقت بھی اچھا گزر سکتا ہے اورمطالعہ سے استفادہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔انٹرنیٹ کی بدولت سائنس،ٹیکنالوجی،مذہب،تاریخ،فلسفہ اور ہزاروں قسم کے موضوعات پر کتابیں پڑھی جا سکتی ہیں جو انسانیت کے لیے مفید بھی ہے۔کتب اور اخبار کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن مجبوری کی وجہ سے اگر دستیاب نہ ہوں تو انٹرنیٹ کے ذریعے بھی کتب پڑھی جا سکتی ہیں۔مطالعہ لازمی کرتے رہنا چاہیے۔ابن خلدون کا کہنا ہے کہ تاریخ انسان کو خودکشی سے بچاتی ہے۔مسلمانوں کے پاس قرآن اور حدیث کی صورت میں ایک عظیم سرمایہ موجود ہے۔قرآن اوراحادیث کے تراجم کے ساتھ کتب ڈاؤن لوڈ کر کے بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔کتب کا مطالعہ ایک فرد کو وسیع الخیال بنا دیتا ہے۔اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسی کتب کا مطالعہ کرنے سے اجتناب برتنا چاہیے جو انسانی ذہن کو زہرآلودہ کر دے۔