طاقت اور غذا

تحریر ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈمیڈلسٹ

انسانی جسم جن غذائی عناصر سے ملکر بنتاہے وہی غذائیں ہی جسم انسانی کے افعال کے لیے بطور ایندھن کے استعمال ہوتی ہیں جن طرح پیٹرول ڈیزل گیس بطور ایندھن جلتے ہیں تو کار موٹر سائیکل وغیرہ چلتے ہیں اسی طرح انسانی جسم میں جب یہ غذائیں میٹابولزم کے عمل سے جلتی ہیں تو اس غذائی ایندھن سے طاقت قوت اور انرجی پیدا ہوتی ہے جس سے ہمارا جسم اور اعضاء اپنے افعال سرانجام دیتے ہیں مثلاً بلغمی غذاؤں یا کاربوہائیڈریٹس والی غذائیں انرجی پیدا کرتی ہیں جس سے دماغ و اعصاب اپنے افعال سرانجام دیتے ہیں
سوداوی یا پروٹین والی غذائیں فورس پیدا کرتی ہیں جس سے قلب و عضلات اپنے افعال سرانجام دیتے ہیں
صفراوی یا فیٹس والی غذائیں پاور یا ہیٹ پیدا کرتی ہیں جس سے جگر و غدد اپنے افعال سرانجام دیتے ہیں
ایک صحت مند انسان کو
بلغمی ،سوداوی اور صفراوی غذائیں یا کاربوہائیڈریٹس پروٹین اور فیٹس والی سبھی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جس غذا میں یہ سب غذائیں شامل ہوں اسے متوازن غذا کہتے ہیں
جب کسی شخص میں مرض پیدا ہوجاے یا کسی خاص غذائی جزو کی زیادتی ہوجاے تو اب اس شخص کے لیے۔ متوازن غذا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایسی غذا کی ضرورت ہے جس میں بڑھے ہوے غذائی جزو کو بند کر دیا جاے اور کم غذائی جزو کی غذا زیادہ سے زیادہ کھانے کو دی جاے یہ غذا سلکیٹڈ ڈائیٹ کہلاتی ہے
مطلب صحت مند افراد کے لیے متوازن غذا اور بیمار افراد کے لیے سلکیٹڈ ڈائیٹ ہوتی ہے یہ چیز علاج بالغذاء کہلاتی ہے
صحت مند افراد سلکیٹڈ ڈائیٹ کھائیں گے تو بیمار پڑ جائیں گے اور بیمار افراد متوازن غذا کھائیں گے تو کبھی شفاء یاب نہیں ہوپائیں گے
بہت سارے دوست احباب مریض سوال کرتے ہیں کہ
دودھ میں طاقت ہے
گوشت میں طاقت ہے
دیسی گھی میں طاقت ہے
انجیر بھنے چنے تو طاقت کے لئے اچھے ہوتے ہیں یہ تو مردوں کو کھانے چاہئیں ۔
تو ان سب کے لیے جواب ہے کہ نہیں
تمام چیزوں میں طاقت ہے لیکن ہر ایک کے لئے نہیں
جیسے دودھ ایک طاقت ور غذا ہے لیکن بلغمی مزاج والوں کا دشمن ہے بلغم کو بڑھاتا ہے
اسی طرح گوشت بھی مقوی غذا ہے لیکن گردوں اور جگر کے مریضوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔اسی طرح دیگر چیزیں بھی سب کے لئے یکساں طور پر مفید نہیں ہیں۔
آپ کے لئے طاقت صرف ان اغذیہ میں ہے جو آپ کے جسم کی ڈیمانڈ ہیں۔یا جو آپ کو سوٹ کرتی ہیں۔چاہے یہ دالیں کیوں نا ہوں یا سبزیاں ہی کیوں نہ ہوں ۔لہٰذا اپنے جسم کو اپنے مزاج کو مدنظر رکھ کر اغذیہ کا انتخاب کریں.

ڈاکٹرمحمداقبال ندیم ملانہ(گولڈمیڈلسٹ)