بیرونی سرمایہ کاری

تحریر:اللہ نوازخان

معیشت کے بارے میں ایک خوشخبری سننے کو مل رہی ہے کہ عرب امارات کے ساتھ 20 سے 25 ارب ڈالر کے کاروباری معاہدے ہوئے ہیں۔یہ معاہدے پاکستان کےنگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے عرب امارات کی حکومت کے ساتھ کیے۔پاکستانی نگران وزیراعظم غیر ملکی دورے پر ہیں اور یہ غیر ملکی دور شاید کچھ زیادہ ہی ہو رہے ہیں۔کویت کے ساتھ بھی 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔اگرواقعی اس طرح کی سرمایہ کاری پاکستان میں شروع ہو گئی تو معیشت کا گراف بلند ہو سکتا ہے۔لگتا نہیں کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آسان ثابت ہوگی بلکہ اس کے لیے کافی مشکلات بھی ہوں گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سرمایہ کاری کرنے والے پیچھے ہٹ جائیں،یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ ایسی شرائط پاکستان پر لاگو کریں جو پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہوں۔سرمایہ کاری کرنے کے لیے پاکستان کوبیرونی سرمایہ کاروں کوبہترین ماحول بھی دینا ہوگا۔سرمایہ کاری کرنے والوں کو یہ اطمینان اور یقین دلانا ہوگا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوگی اور ان کوبہترین مراعات دستیاب ہوں گی۔آٸ۔ایم۔ایف کی شرائط توپاکستان کوخوار کرنے کا سبب بنتی ہیں۔اب ہونے والی سرمایہ کاری میں ایک اور مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ عرب امارات اور سرمایہ کاری کرنے والے دوسرے ممالک یہ شرط عہد کر سکتے ہیں کہ آٸ۔ ایم۔ ایف کی گارنٹی اورراضی نامہ ضروری ہے تو اس سے پاکستان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ویسے پاکستان کو سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کو یقین دلانا چاہیے کہ ان کی سرمایہ کاری ہر حال میں محفوظ ہوگی۔سرمایہ کاری پتہ نہیں کن شعبے میں ہوگی لیکن امکان یہی ہے کہ آٸ۔ٹی کے شعبے میں زیادہ ہوگی،یہ بھی ممکن ہے کہ انڈسٹریز اور دوسرےشعبہ جات میں زیادہ ہو جاۓ،لیکن زراعت میں ہر حال میں ہونی چاہیے۔پاکستان کے پاس زرخیز زمینیں ہیں،لیکن زراعت کے جدید تقاضوں سے ناواقف زمیندار حضرات قابل قدرپیداوار حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔زرعی پیدوار میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ مہنگائی بھی ہے۔کسان حضرات مہنگی کھادیں اور دوسری ضروری چیزیں آسانی سے حاصل نہیں کر پاتے کیونکہ ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔بیرونی سرمایہ کاروں کو زراعت کے شعبے میں خصوصی توجہ دلانی ہوگی۔مشینری جوکہ زراعت کےلیے فاٸدہ مندہوتی ہے،اس کے کارخانےبنانے چاہیے،کھاد کےکارخانے بھی بنانے چاہیے جس سے عام کسان کو سستی سےسستی کھاد مہیا ہو۔اسی طرح دوسرے شعبہ جات میں بھی سرمایہ داروں کو سرمایہ لگانے میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔بیرونی سرمایہ کاری سے جہاں پاکستان کا زر مبادلہ بڑھے گا وہاں بےروزگاری میں بھی کمی واقع ہوگی۔بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے ہمیں خصوصی کاوشیں کرنی ہوں گی جس سے سرمایہ کاری پاکستان میں بڑھ سکتی ہے۔بہت سے بیرونی سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ان کو تحفظ اورضروری سہولیات نہیں ملیں گی،حکومت پاکستان کو چاہیے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو اس سلسلے میں مطمئن کرے۔
پاکستان قرضوں میں جکڑا ہوا ملک ہے،یہی قرض پاکستان کوآگے بڑھنے سےروک رہا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ قرض تو سیاستدان لیتے ہیں لیکن ادائیگی عوام کو کرنا پڑتی ہے۔بھاری سودسے حاصل کیا گیا قرضہ عوام کو بھوکوں ماررہا ہے۔حاصل کیاگیاقرضہ پاکستان کے سیاستدانوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے، یعنی اس کا فائدہ عوام کو نہیں ملتا لیکن اس کی ادائیگی پاکستانی قوم کو بڑی بےچارگی سے ادا کرنا پڑتی ہے۔بعض اوقات سیاستدان اس بات پہ پھولے نہیں سماتے کہ وہ بھاری سودپہ قرضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔پاکستان پر بیرونی قرضہ بھی کافی ہے اور اندرونی طور پر بھی کافی قرضہ ہے۔پاکستانی حکومت قرض پہ قرض لیتی رہتی ہے لیکن اس کی ادائیگی کے لیے اس کے پاس کوئی ایساایجنڈا نہیں ہوتا کہ وہ باآسانی قرض اتار سکے۔قرض سے بہتر ہے کہ سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے جس سے روزگار بھی بڑھے گا اورقرض سے بھی جان چھوٹے گی۔اب بیرونی سرمایہ کار جو سرمایہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں،ان کو بریفنگ دی جائے کہ کن شعبہ جات میں سرمایہ کاری بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔جتنی زیادہ پیداوار میں اضافہ ہوگا اتنی غربت میں کمی ہوگی اور اتنا ہی پاکستان معاشی ترقی کرے گا۔پیداوار زراعت کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اورمصنوعات کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔معدنیات کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاروں کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں کئی قسم کی معدنیات موجود ہیں لیکن ان کوقابل استعمال بنانے کے لیے کافی سرمایہ کی ضرورت ہے۔سرمایہ کار معدنیات کے سلسلے میں بھی سرمایہ کاری کرنے میں باآسانی تیار ہو جائیں گے۔سعودی عرب ریکوڈک میں دلچسپی لے رہا ہے۔ریکوڈک سونے کاایک بڑا منصوبہ ہے اس سے ملک میں معاشی خوشحالی آ سکتی ہے۔بیرونی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے سے پہلے پاکستان کے بڑے بڑے سرمایہ کار جو دوسرے ممالک میں اپنے کاروبار کر رہے ہیں وہ پاکستان میں کاروبار کریں۔بڑے بڑے سرمایہ کار جو بیرون پاکستان اپنے کاروبار کر رہے ہیں یا ان کی رقم بیرون ممالک کے بینکوں میں پڑی ہے،حکومت ان کواعتماددلاۓ،ساتھ ہی ان کو خصوصی مراعات دے،تاکہ وہ آسانی سے سرمایہ کاری کر سکیں اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
پاکستان معاشی لحاظ سے ہمسایہ ممالک سے کافی کمزور حالت میں ہے۔بنگلہ دیش جو 71ءمیں آزاد ہوا،اب وہ معاشی لحاظ سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔اس طرح کے کئی ممالک معاشی خوشحالی کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں،صرف پاکستان کمزور حالت میں ہے۔نادانی کی وجہ سے کئی انڈسٹریزکمزور حالت میں ہیں اور کئی صنعتیں بند ہو چکی ہیں،جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان دوست ممالک کودعوت دے سکتا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔بند کی گئی صنعتوں کوبیرونی سرمایہ کاری سے دوبارہ چالو کیا جا سکتا ہے۔نئی فیکٹریاں بھی بنائی جا سکتی ہیں۔عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک خوشی سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔مذہبی لحاظ سے ان ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے ایک خوش کن بات ثابت ہوگی۔پاکستان کو چاہیے کہ سرمایہ کاروں کی راہ میں آنے والی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوں۔بیرونی سرمایہ کاری ملکی معیشت کے لیے بہترین ثابت ہوسکتی ہے۔