موت اور قبر کا بیان۔۔۔

(حصہ اول)

تحریر محمد فاروق برڑو قادری

کس وقت ایمان لانا بیکار ہے: ہر شخص کی عمر مقرر ہے نہ اس سے گھٹ سکتی ہے نہ بڑھ سکتی ہے جب زندگی کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو حضرت عزرائیل علیہ السلام روح نکالنے کے لئے آتے ہیں اس وقت مرنے والے کو دائیں بائیں جہاں تک نظر جاتی ہے فرشتے ہی فرشتے دکھائی دیتے ہیں، مسلمان کے پاس رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور کافر کے پاس عذاب کے، اس وقت کافر کو بھی اسلام کے سچے ہونے کا یقین ہوجاتا ہے لیکن اس وقت کا ایمان معتبر نہیں کیونکہ ایمان تو اللّٰہ رسول کی بتائی باتوں پر بے دیکھے یقین کرنے کا نام ہے اور اب تو فرشتوں کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے اس لئے ایسے ایمان لانے سے مسلمان نہ ہوگا، مسلمان کی روح آسانی سے نکالی جاتی ہے، اور اس کو رحمت کے فرشتے عزت کے ساتھ لے جاتے ہیں اور کافر کی روح بڑی سختی سے نکالی جاتی ہے، اور اس کو عذاب کے فرشتے بڑی ذلت سے لے جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں جا کر پھر پیدا نہیں ہوتی بلکہ قیامت آنے تک عالم برزخ میں رہتی ہے،
موت کیا ہے:- موت یہ ہے کہ روح بدل سے نکل جائے۔ لیکن نکل کر روح مٹ نہیں جاتی بلکہ عالم برزخ میں رہتی ہے۔
مرنے کے بعد روح کہاں رہتی ہے:- ایمان و عمل کے اعتبار سے ہر ایک روح کے لئے الگ جگہ مقرر ہے قیامت آنے تک وہیں رہے گی۔ کسی کی جگہ عرش کے نیچے ہے اور کسی کی اعلیٰ علیین میں اور کسی زم زم شریف کسی کی جگہ اس کی قبر پر ہے اور کافروں کی روح قید رہتی ہے، کسی کی چاہ برہوت میں کسی کی سجین میں کسی کی اس مرگھٹ یا قبر پر۔
کیا روح بھی مرتی ہے؟ بہرحال روح مرتی یا مٹتی نہیں بلکہ باقی رہتی ہے اور جس حال میں بھی ہو اور جہاں کہیں بھی ہو اپنے بدن سے ایک طرح کا لگاؤ رکھتی ہے بدن کی تکلیف سے اسے بھی تکلیف ہوتی ہے اور بدن کے آرام سے آرام پاتی ہے جو کوئی قبر پر آئے اسے دیکھتی پہچانتی ہے اس کی بات سنتی ہے اور مسلمان کی نسبت تو حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب مسلمان مرجاتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جائے، حضرت شاہ عبد العزیز صاحب لکھتے ہیں کہ روح راقرب وبعد مکانی یکساں است یعنی روح کے لئے کوئی جگہ دور یا نزدیک نہیں بلکہ سب جگہ برابر ہے۔
منکر نکیر کیسے ہیں، کب آتے ہیں اور کیا سوال کرتے ہیں؟ اس وقت منکر نکیر دو فرشتے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں ان کی شکل بہت ڈراؤنی ہوتی ہے ان کا بدن کالا۔ آنکھیں نیلی اور کالی بہت بڑی بڑی جن سے آگ کی طرح لپٹ نکلتی ہے ان کے ڈراؤنے بال سر سے پاؤں تک ان کے دانت بہت بڑے بڑے ہیں جن سے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں۔ مردے کو جھنجھوڑتے اور جھڑک کر اٹھاتے ہیں اور بہت سختی کے ساتھ بڑی کڑی آواز سے یہ تین سوال کرتے ہیں،1/ من ربک یعنی تیرا رب کون ہے، 2/ مادینک تیرا دین کیا ہے, 3/ ما کنت تقول فی ھذا الرجل ان کے بارے میں تو کیا کہتا تھا۔ مردہ اگر مسلمان ہے تو پہلے سوال کا یہ جواب دےگا، ربی اللّٰہ میرا رب اللّٰہ ہے، اور دوسرے کا دینی الاسلام میرا دین اسلام ہے اور تیسرے سوال کا جواب یہ دےگا ھو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ اللّٰہ کے رسول ہیں اللّٰہ کی طرف سے ان پر رحمت نازل ہو اور سلام۔ اب آسمان سے یہ آواز آئے گی کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کیلئے جنت کا بچھونا بچھاؤ اور جنت کا کپڑا پہناؤ اور جنت کا دروازہ کھول دو۔ اب جنت کی ٹھندی ہوا اور خوشبو آتی رہےگی اور جہاں تک نگاہ پھیلے گئی وہاں تک قبر چوڑی چمکیلی کردی جائے گی اور فرشتے کہیں گے سوجیسا دولہا سوتا ہے۔ یہ نیک پرہیزگار مسلمان کیلئے ہوگا، گنہگاروں کو ان کے گناہ کے لائق عذاب بھی ہوگا۔ایک زمانہ تک پھر بزرگوں کی شفاعت سے باایصال ثواب و دعائے مغفرت سے یا محض اللّٰہ کی مہربانی سے یہ عذاب اٹھ جائے گا اور پھر چین ہی چین ہوگا اور اگر مردہ کافر ہے تو سوال کا جواب نہ دے سکے گا اور کہے گا ھاہ ھاہ لا اردی افسوس مجھے تو کچھ معلوم نہیں اب ایک پکارنے والا آسمان سے پکارے گا کہ یہ جھوٹا ہے اس کے لئے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور آگ کا کپڑا پہناؤ اور جہنم کا دروازہ کھول دو اس کی گرمی اور لپٹ پہنچے گی اور عذاب دینے کیلئے دو فرشتے مقرر ہونگے جو بڑے بڑے ہتھوڑے سے مارتے رہیں گے اور سانپ بچھو بھی کاٹتے رہیں گے اور قیامت تک طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔
عذاب و ثواب انسان کی کس چیز پر ہوتا ہے؟ اور یہ عذاب وثواب بدن اور روح دونوں پر ہے۔بدن کے اصلی اجزا کیا کیا ہیں اور کہاں ہیں؟: بدن اگرچہ گل جائے۔جل جائے، خاک میں مل جائے مگر اس کے اصلی اجزاء قیامت تک باقی رہیں گے، انہی پر عذاب وثواب ہوگا اور انہی پر قیامت کے دن پھر بدن بن کر تیار ہوگا، یہ اجزاء ریڑھ کی ہڈی میں کچھ ایسے باریک بہت ہی چھوٹے چھوٹے ہیں جو کسی خوردبین سے بھی نہیں دیکھے جاسکتے نہ انہیں آگ جلا سکتی ہے نہ زمین گلا سکتی ہے، یہی بدن کے بیچ ہیں انہیں اجزاء کے ساتھ ساتھ اللّٰہ پاک بدن کے اور حصوں کو جمع کردے گا جو راکھ یا مٹی ہوکر ادھر ادھر پھیل گئے اور پھر وہی پہلا جسم بن جائے گا اور روح اسی جسم میں آکر قیامت کے میدان میں آئے گی اسی کا نام حشر ہے اب اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا قیامت کے دن روحیں اپنے پہلے ہی بدن میں لوٹائی جائیں گی نہ دوسرے میں کیوں کہ اصل اجزاء کا باقی رہنا اور زائد میں تغیر و تبدل ہونا چیز کو بدل نہیں دیتا بلکہ اس قسم کی تبدیلیوں کے بعد بھی وہ پہلی چیز وہی رہتی ہے دیکھو جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کتنا بڑا ہوتا ہے اور کیسا ہوتا ہے اور جوان ہونے تک اس میں کتنی تبدیلیاں ہوتی ہیں مگر ہر زمانہ ہر حال میں رہتا ہے دوسرا نہیں ہوجاتا وہ خود بھی یقین رکھتا ہے کہ دس پانچ برس پہلے بھی میں میں ہی تھا اور اب بھی میں اور یہ ہمیشہ اور ہر میں ہر شخص سمجھتا ہے اپنے لئے بھی اور دوسروں کیلئے بھی مردہ اگر قبر میں دفن نہ کیا جائے تو جہاں پڑا رہ گیا یا پھینک دیا گیا غرض کہیں ہو اس سے وہیں سوال ہوگا اور وہیں عذاب پہنچے گا،
farooqburiro9@gmail.com