سردار مہر غلام قاسم سرگانہ کی بصیرت اور آج کا احوال
تحریر علی امجد چوہدری
مہر غلام قاسم سرگانہ جھنگ کے بڑے جاگیردار ہیں یہ ضلع جھنگ کے پہلے پانچ بڑے جاگیرداروں میں شامل ہیں صاحبزادہ گروپ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں مختلف ادوار میں انہیں صاحبزادہ گروپ سے دور رکھنے کے لیئے مختلف حربے اختیار کیئے گئے تاہم یہ ھتکنڈے کامیاب نہ ہو سکے یوں انہیں جھنگ کا سب سے باوفا سیاستدان کہا جا سکتا ہے یہ پرانی روایتوں کے امین ہیں بصیرت بھی کمال کی ہے ان دنوں پھر زیر عتاب ہیں دو ماہ قبل ایف آئی آر میں نامزد کرنے کی کوشش اور پھر بالآخر ایک اور مقدمے میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد خیال تھا کہ شاید ان کے حوصلے پست ہو چکے ہونگے وفاء کی سیاست کو خیر آباد کہنے کا تصور غالب آ چکا ہوگا مگر آج بھی ایسا کچھ نہیں تھا آج ایف آر کے اندراج کے بعد ڈی ایس پی سردار غضنفر تنگوانی کے پاس ان کی انکوائری تھی انکوائری سے قبل ان کی آمد سے قبل سینکڑوں افراد ان کی بے گناہی کی شہادت دینے کے لیئےب پہنچ چکے تھے انکوائری کے مختص ٹائم کے باوجود مدعی پارٹی انکوائری کے لیئے نہیں آئی مگر یہ بزرگ سیاستدان مسلسل کئی گھنٹوں تک موجود رہے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے میں نے سوال کیا کہ آپ بھی تو مختلف حیلے بہانے استعمال کر سکتے تھے اور انکوائری میں تاخیری حربے استعمال کر سکتے ہیں جواب میں بولے علی امجد ریاست ماں ہوتی ہے اور ماں کی بے توقیری حلالی بیٹے نہیں کرتے اپنی بے گناہی کے باوجود اس ریاست ماں کی توقیر میرے لہو میں شامل ہے
مہر صاحب کہ یہ الفاظ بظاہر ایک conversation تھی مگر ان کے یہ الفاظ ان کی شاندار بصیرت کے عکاس تھے اور واضح ہو رہا تھا کہ بڑے یوں ہی نہیں بن جاتے بڑے بننے کے لیئے بصیرت سب سے قیمتی asset ہوتی ہے
علی امجد چوہدری












