رورل ہیلتھ سنٹر گڑھ مہاراجہ میں سہولیات کا فقدان

تحریر۔شیخ فرحان اعجاز

پہلے سنتے تھے کے رورل ہیلتھ سنٹر گڑھ مہاراجہ میں نا دوائی ملتی ہے نا ڈاکٹر
آج پاوں پہ زخم آیا اور نا چاہتے ہوئے بھی ایک دوست کے ساتھ رورل ہیلتھ سنٹر گڑھ مہاراجہ جا پہنچا
میڈیکل آفیسر عامر لشاری نے چیک اپ کیا
ان کا رویہ بھی اچھا تھا اور چیک اپ بھی تسلی سے کیا اور ایمرجنسی میں جا کے انجکشن اور پٹی کروانے کا کہا
ایمرجنسی بلاک میں پہنچے تو معلوم ہوا ایمرجنسی میں فرسٹ ایڈ تک موجود نہیں نا ہی دوائی ہے نا پٹی عملہ کہتا ہے پٹی اور دوائی باہر سے لائیں

ڈیوٹی ڈاکٹر کے پاس گیا تو صاحب فرماتے ہیں بجٹ نہیں ہے، ایمرجنسی میں زخمیوں کا علاج کیسے کرتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ہم اپنی جیب سے خرچ کرتے ہیں فنڈز نہی ہیں جس حساب سے انہوں نے مجھے پٹی کی ہے سیریس مریضوں کے ساتھ بھی ایسے ہی کرتے ہوں گے،

کہنے والے کہتے ہیں ہسپتال میں ادویات ہوتی ہیں مگر یا تو وہ بازار میں فروخت ہوجاتی ہیں یا پھر تعلق نبھائے جاتے ہیں

گر رورل ہسپتال کے ایمرجنسی بلاک کیلیے بجٹ اور ادویات نہیں ہیں تو رورل ہیلتھ سنٹر بند کردیں
طبی عملہ اور ڈاکٹرز کی ماہانہ کروڑوں کی تنخواہ کس لیے جب انہوں نے علاج پرائیوٹ کلینک پہ کرنا ہے

میں نے سی او ہیلتھ کو ساری صورتحال سے آگاہ کرنے اور ان کا موقف لینے کیلیے کال کی تو
سی او ہیلتھ جھنگ احمد شہزاد نے فون اٹھانا گوارا نہیں کیا عوام کے ٹیکس کے پیسوں پہ پلتے نام نہاد مسیحا آخر کرسیوں پہ بیٹھتے اور اختیار ملتے ہی اندھے کیوں ہوجاتے ہیں

شیخ فرحان اعجاز
نمائندہ روزنامہ نوائے وقت گڑھ مہاراجہ
03006509984