عمران خان کیا لیڈر ہے
تحریر شیخ فرحان اعجاز
اکتیس اکتوبر دوہزار گیارہ لاہور مینار پاکستان پہ غیرسیاسی لوگوں اور ملک کے کرتا دھرتاوں نے ایک نیا سیاسی تجربہ کیا عسکری لیبارٹری میں ٹیسٹ ٹیوب
بے بی کا کامیاب تجربہ کیا گیا، دوہزار چودہ آگیا
مشرف کیس چلانے اور سی پیک لانے کی پاداش میں نوازشریف کو سبق سکھانے کیلیے عالمی طاقتوں کی آشیرباد سےپراجیکٹ عمران خان لانچ کیا گیا
ساری ریاستی اور سرکاری مشینری ساری اندھی طاقت نوازشریف کو عبرت کا نشان بنانے اور عمران کو لانچ کرنے پہ لگادی
ایک ایسے شخص جس کے پاس نا کوئی وژن تھا نا کوئی معاشی پلان نا ہی قابلیت نا سیاسی پختگی کو میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا بھری اسے پاکستان کا مصنوعی ویژنری لیڈر بنا کے پیش کیا اس کے مخالفین کو ملک دشمن اور پاکستان کیلیے مودی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت کرنے کیلیے ففتھ جنریشن وار کا پروپیگنڈہ پھیلایا گیا اور اس کا نتیجہ دس سال بعد یہ نکلا کے وہ ویژنری اب بلاں بن کے ذہین ترین لوگوں کے گلے پڑی ہے
دس سال اسے ٹی وی میڈیا سوشل میڈیا سے اترنے ہی نہیں دیا گیا اس روانی سے جھوٹ بولا گیا اسے ایک مقدس شخصیت اور پاکستان کی آخری امید بنا کے عوام کے ذہنوں میں ٹھونسا گیا
ایک پلے بوائے کو امت کا مجتہد بنا کے پیش کیا گیا کے میرے جیسے بھولے بھالے لوگ بھی اسے وقت کا امام ماننے پہ مجبور ہوگئے حالت یہ کے ابتک لوگوں کے ذہنوں ایک پاک پوتر شخصیت کا کوئی نام آتا ہے تو وہ شخصیت عمران خان ہے
عوام کے ذہنوں پہ نقش کردیا گیا کے بس یہ آخری ہے اس تو بعد قیامت اے…… اور لوگ اس پہ یقین لے آئے جب پتہ چلا کے وہ تو بہت بڑا بلنڈر کربیٹھے ہیں جس گدھے کو رنگ روغن کرکے گھوڑا ثابت کیا دراصل وہ تو خچر بھی نہیں ہے جس کے حوالے ملک کردیا اس کی قابلیت تو گھر چلانے کی نہی ہے
ماسوائے چرب زبانی ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولنے اور دن کورات اور رات کو دن ثابت کرنے کے اس کے پاس کوئی قابلیت ہی نہیں
ادھر وہ عوام کے ذہنوں میں ایک مقدس ہستی بن کے بس چکا تھا اتو دھر کسی کے گلے کی ہڈی بن چکا تھا اب وہ ہڈی نا نگلی جارہی ہے نا اگلی جارہی ہے
وقت گزرچکا پل کے نیچے سے بہت سارا پانی گزرچکا تو انہیں یاد آیا کے ہم سے تو بہت بڑا بلنڈر ہوگیا
اب اس کا کفارہ ادا کیا جائے مگر اب وقت گزرچکا چند ایک اہل دانش اور دوراندیش کہتے رہے پاکستان مزید کسی مزید تجربے کا متحمل نہی ہوسکتا نوازشریف جیسے باصلاحیت اور ویژنری شخص کو ہٹا کے ایک نا تجربے کار شخص کو ملک و قوم پہ مسلط نا کریں پاکستان کو تو اس کا نقصان ہوگا سو ہوگا
آپ کو بھی ایک دن یہ سب بھگتنا پڑے گا پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا جسے اپنے ہاتھوں سے تراشا آج وہ عوام کے دل کے بت خانے میں بھگوان بن کے بیٹھا ہے
اور اب اسے پاش پاش کرنا چاہ رہے مگر ناکام اپنا کیا اپنے سامنے آرہا
ایسا ہی ایک تماشہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں لگایا گیا بھٹو جیسے فیوڈل لارڈ کو عوام کا مسیحا بنا کے پیش کیا ایک لبرل سیکولر جاگیردار کو امت مسلمہ کا لیڈر بنا کے پیش کیا اس ویژنری لیڈر کی قابلیت کا نتیجہ پینسٹھ کی جنگ میں جان چھڑانا مشکل ہوگئ 71ء میں ملک دوٹکڑے ہوگیا گھاس کھا لیں گے ایٹم بنائیں گے آج عوام گھاس کھا رہی اور ویژنری لیڈر کا نعرہ عوام اور پھر لانے والوں کے گلے پڑگیا
پھر اسی میں نوازشریف کو دریافت کیا اسے وقت کا امیرالمومنین بنا کے پیش کیا پھر وہ گلے کی ہڈی بن گیا تین دفعہ ملک اور حکومت سے نکالا خوش قسمت تھا کے پنجاب سے تھا ورنہ آج جاتی عمرہ میں برسیاں منائی جارہی ہوتیں جب وہ طاقتور ہوگیا تو اسے نکال کے پٹاری سے نیازی لے آئے اب وہ مرا ہوا سانپ بن کے گلے پڑ گیا ہے حالت یہ ہوگئ ہے کے جس بچے جمورے کو میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہیرو بنایا آج اسے روکنے کیلیے اس سوشل میڈیا کو بند کرنا پڑ رہا ہے
مگر وہ عوام میں مزید مقبول ہوتا جارہا حالانکہ ہر صاحب شعور کو خبر ہے کے وہ ایک نااہل شخص ہے اسے تاحیات بھی ملک کا وزیراعظم بنا دیں اس کے پاس ایک بھی ایسا منصوبہ نہیں جو پاکستان کو آگے لے جاسکے وہ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نائٹ کلب بنا سکتا ہے
اس سے زیادہ نا اس کے پاس اہلیت ہے نا قابلیت بس اندھی فین فالونگ ہے اور اس کا وہ فائدہ خوب اٹھا رہا اور دلچسپ یہ کے یہ مخصوص فین کلب بھی مکمل پلاننگ کے ساتھ تیار کیا گیا اور آج وہ فین کلب، کلب چلانے والوں کے گلے پڑا ہے ان کے ساتھ جو ہورہا وہ ٹھیک ہورہا خود کو ایکسٹرا سمارٹ سمجھتے ہیں اب بھگتیں بہت شوق ہے انہیں سیاست اور تجربے کرنے کا اب لیں سواد کریں مزید تجربات
????????











