چائے واقع ہی چاہ سے ہے
(سماجیات )
تحریر ۔۔ عمران مہدی ۔
محمود کوٹ
چائے واقع ہی چاہ سے ہے۔ اگر کوئی دوست ناراض ہو ہم اس کا بازو پکڑ لیں اور کہیں او ناں یار چائے پیتے ہیں۔ تو دل میں چھپی کئی کدوتیں , نفرتیں, الجھنیں ,کینہ ,بغض, ختم ہو جاتے ہیں۔
یار آو ناں چائے پیتے ہیں۔ ہیلو بھائی دوکپ چائے دینا۔ علی بھائی چائے بنوانا ہم آ رہے ہیں۔ خوبصورت احساس کے نام ہیں۔
محسن نقوی نے کیا خوب کہا تھا کہ زندگی اتنی کم ہے کہ ہم کھل کے محبت نہیں کرسکتے نجانے لوگ نفرت کے لیے کہاں سے وقت نکال لیتے ہیں۔
چائے کے گرد گھومتی کتھا مل بیٹھ کے ہم کئی مسائل حل کر سکتے ہیں ہمیں ہمیشہ لاڈ, پیار, عزت, احترام , لگن ,اپنانیت ,بڑا پن دکھانا چائیے۔
بغض , کینہ, نفرت, جلن, کھینچا تانی, حسد سے بچنا چائیے۔
اک اور بات باپ کا بیٹا( شریک ,دشمن ) نہیں بلکہ شریک بازو ہوتا ہے۔ کزن وزن نہیں ہمت اور طاقت ہوتے ہیں۔
اگر کسی کا بھائی ,کزن , دوست ناراض ہے تو بڑا پن دکھائے۔ پہل کرتے ہوئے ان کو چائے کی میز پہ بلاو۔ پیار ومحبت کے گیت گاو , اک دوسرے کی طاقت بن جاو,
ہاہاہاہاہاہاہاہا ہو سکے تو ہمیں بھی بلاو پھر سردیاں ختم ناں ہو جائیں۔
والسلام ۔۔ عمران مہدی ۔۔۔ محمود کوٹ
#درد__دل
تحریر فرحان اعجاز

#درد__دل
تحریر فرحان اعجاز
میں پٹواری ہوں جیالا ہوں انصافی ہوں مجھے کسی کو اپنی صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے
میں جسے ووٹ دوں جس کی حمایت کروں یہ میرا اور سب کا بنیادی جمہوری حق ہے باقی کسی بھی معاملے پہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے
ہم ایک عرصہ تک گڑھ مہاراجہ کے ساتھ رہے
والد صاحب بتاتے ہیں جب خان مظفر علی خان مرحوم نے اپنا پہلا الیکشن لڑا تو انہوں نے ان کی بھرپور کمپین کی بلکہ ان کا تاریخی الیکشن لڑا گڑھ موڑ ان کا بڑا جلسہ انہوں نے مینج کیا اور میزبانی کی
دوہزار دو کا الیکشن ابھی کل کی بات ہے اس الیکشن میں میرے والد صاحب گڑھ موڑ کے ایک پولنگ اسٹیشن پہ رانا عطا اللہ خان اور اللہ بخشے خان مظفر علی خان سیال مرحوم کے پولنگ ایجنٹ تھے
اس پولنگ ایجنٹی کی ہم نے کڑی سزا بھگتی مگر میرے بہادر باپ نے کسی وڈیرے کے سامنے سرتسلیم خم نا کیا مگر مظفر علی خان مرحوم کے کہنے پہ ایک تنازعے میں انہوں نے سرنڈر کردیا
چوہدری اسلم مرحوم کے ساتھ والد صاحب کا تعلق بے تکلفانہ تھا
دوہزار آٹھ کے الیکشن میں ایک دفعہ پھر ہم نے رانا عطااللہ خان اور گڑھ مہاراجہ کو اعلانیہ ووٹ دیا
البتہ دوہزار تیرہ کے الیکشن میں میں نے والد صاحب کی ناراضگی کے باوجود اپنا ووٹ خان نجف عباس خان کو دیا جبکہ ایم پی اے کا ووٹ عون عباس خان مرحوم کو کاسٹ کیا
دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں ہم نے تحریک انصاف کے امیدوار رانا شہباز احمد خاں کو ووٹ دیا اور ان کی ہی وجہ سے نا چاہتے ہوئے بھی میں نے اپنا ووٹ صاحبزادہ محبوب سلطان کو دے کے حرام کیا
اس کی وجہ رانا فیملی سے ہمارے پرانے مراسم تھے
سابق چئیرمین بلدیہ گڑھ مہاراجہ
رانا فقیر حسین خان اور میرے والد اچھےدوست بھی تھے اور بزنس پارٹنر بھی، ان کا دوستانہ تعلق آج بھی برقرار ہے
ایسی باتیں لوگ بند کمروں میں بھی نہیں بتاتے جو میں پبلکی بتا رہا ہوں
میرے والد صاحب اللہ ان کا سایہ تادیر ہم پہ سلامت رکھے ہوسکتا ہے رانا عطااللہ خان یا پھر رانا فقیر حسین خان کے کہنے پہ وہ پھر ووٹ رانا شہباز احمد خاں کو دے دیں مگر جو کچھ رانا صاحب کے اقتدار میں میرے ساتھ ہوا اس کے بعد اس کی گنجائش نہی بچتی کے انہیں ووٹ دیا جائے جس شخص کو اپنے ووٹر کی پہچان اور قدر ہی نا ہو اسے ووٹ دینے سے بہتر ہے ووٹ ضائع کردیں
فروری دوہزار بائیس میں میری گرفتاری
صاحبزادہ گروپ جن میں ہمارے بہوں شریف
صاحبزادہ محبوب سلطان کی منشا اور حکم بھی شامل تھامکمل پلان کے ساتھ مہربانی فرمائی گئ
وجہ فقط ان پہ تنقید تھی اب جو شخص کہتا ہے کے میری گرفتاری میں صاحبزادہ گروپ ملوث نہیں تو وہ اس وقت کے ڈی سی جھنگ سے پوچھ لے کے وہ میرے سفارشیوں جن میں جھنگ کے تقریبا اس وقت کے تین ایم پی اے اور تحریک انصاف پنجاب کے صدر
سابق ایم این اے اور سابق ضلع ناظم چوہدری اشفاق احمد جو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہمارے ہمسائے میرے والد کے کلاس فیلو اور بنچ فیلو رہے ہیں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہم آج بھی چوہدری اشفاق گروپ کے ووٹر ہیں ان سے پوچھ لیں کے ڈی سی صاحب کیافرماتے رہے کے مینوں وی
(کھاد بحران تے)فرحان نے معاف نہی کیتا پرمینوں آپنڑا تے کوئی غصہ نہیں مگر صاحبزادگان نہیں مندے انہاں نو منا لو
اور یہی نہیں میری گرفتاری سے قبل صاحبزادہ
حبیب سلطان نے میرے والد کو ڈیرے پہ بلایا اور وہاں بیٹھے پرسنل سیکرٹری سے لیکر منشی اول سے منشی ہشتم تک نے انہیں فیس بک پہ لکھا میرا اعمال نامہ دکھایا جس بارے اس سے پہلے میرے بزرگ والد بے خبر تھے اور انہیں کہا کے اپنے بیٹے کو سمجھاو ہم نے اس کا کیا بگاڑا ہے وہ کیوں ہمارے خلاف لکھتا ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا اس کے ایک یا دو ماہ بعد میں گرفتار ہوگیا اب جو کہتا ہے کے میری گرفتاری میں صاحبزادہ گروپ کا کوئی تعلق نہیں تو پھر اسے میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتا ان حقایق کے بعد انہیں
خود سے شرم آنی چاہیے باقی مجھے اپنی گرفتاری پہ صاحبزادگان سے کوئی گلہ شکوہ نہیں طاقت کے نشے میں ان کا مجھ پہ ظلم ڈھانا ان پہ واجب بنتا تھا ہوسکتا ہے وہ یہ ظلم اور اپنے منہ پہ یہ کالک نا ملتے مگر ان کے قریبی حواریوں نے انہیں اس پہ اکسایا اس سارے واقعے میں مجھے گر آج بھی کسی پہ ناراضگی ہے تو اس شخص کا نام رانا شہباز احمد خاں ہے اور یہ انہوں نے فقط میرے ساتھ نہیں کیا اپنے ہر ووٹر کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے جس کا نتیجہ انشاءاللہ وہ اس الیکشن میں بھگتیں گے
باقی اپنے ناقدین کی یاددہانی کیلیے پھر سے لکھے دیتا ہوں میرا لکھنا کل بھی جھنگ کیلیے تھا جھنگ کی عوام کیلیے تھا آج بھی جھنگ کیلیے ہے اور جب تک میرے سوہنے رب نے چاہا میں جھنگ کی محرومیوں پہ لکھتا رہوں گا ان محرومیوں کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرتا رہوں گا ان کو عوام کے کٹہرے میں لاتا رہوں گا جھنگ کی بربادی کے مجرم اس عوام کے مجرم ہیں
وہ جو بھی ہیں ان سے قلم کے ذریعے لڑتا رہوں گا
باقی نا تو میں کسی سیاستدان کا ترجمان ہوں نا ہی کسی کی ترجمانی کی مجھے ضرورت ہے نا ڈیروں پہ حاضری کی میرے لاشریک رب کا مجھ پہ بڑا خاص کرم ہے کے اس نے اپنے سوا کسی کا محتاج نہیں رکھا میرے مرحوم دادا اور والد کو ٹوبہ سے یہاں آئے پچاس سال کے قریب ہونے کو ہیں انہوں نے یہاں دولت سے زیادہ عزت کمائی ہے ان جیسا بہادر باہمت اور مضبوط اعصاب کا مالک شخص میں نے اپنی قوم برادری تو دور اپنی زندگی میں نہیں دیکھا میرے ورثے میں ان کی تربیت سے ملی سچائی حق گوئی اور خودداری آئی ہے اور یہی میرا کل مال و متاع ہے
احترام سب کا واجب سمجھتے ہیں عزت اسی کی کریں گے جو عزت کرے گا کسی سے کوئی لڑائی نہیں کوئی جھگڑا نہیں ماسوائے جھنگ کی ترقی کے دشمنوں کے اور یہ لڑائی جب تک مالک نے ہمت عطا کی قلم اور آواز کے ذریعے لڑنے رہیں گے
گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا
میں رکھ کے ریڑھی پہ تازہ گلاب بیچوں گا
رھی جو زندگی میری تو شہرِ ظلمت میں
چراغ بیچوں گا اور بے حساب بیچوں گا
#خانہ___بدوش










