وادی سندھ کی وارث اور قبائلی علاقوں کی بے مثال ملکہ، محترمہ بےنظیر بھٹو شہید۔۔۔۔!!
تحریر: محمد فاروق برڑو قادری
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ایک کھلی کتاب کی مانند شخصیت تھی، جن کے بارے میں عام شخص کے علاوہ وہ خاص طور سے تاریخ و سیاست کے طالب علم بہت کچھ جانتے ہیں، ان کی سیاسی و سماجی زندگی کے بارے میں ہر جگہ تفصیلی مواد موجود ہے،
وادی سندھ کی بیٹی، ہڑپا اور موہن جو دڑو کی تہذیب کی دختر، پانج ہزار سالہ قدیم تہذیب کی وارث، بجا طور پر ان تمام اعزازات کے لیے اگر کوئی موزوں شخصیت تھی تو وہ محترمہ بےنظیر بھٹو شہید رانی ہی تھیں مگر ان کی شخصیت ان تمام اعزازات سے کہیں بلند بالا تھی، وہ ایک ایسی عظیم رہنما تھیں جنہوں نے ساری زندگی اس ملک کی بقا اور سیاست کی جنگ لڑی اور اسی مٹی کے ساتھ وفا نبھاتے ہوئے جان دے دی،
27 دسمبر 2007ء کی شام پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیربھٹو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کرکے رہائش گاہ روانہ ہو رہی تھیں کہ دہشت گردی کی واردات میں شہید ہو گئیں۔ یہ اتنا بڑا سانحہ تھاکہ پوری قوم سوگ میں ڈوب گئی۔ انکی شہادت کو صرف پیپلز پارٹی کا نہیں‘ پورے ملک قومی سیاست کا نقصان تھا۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو جرأت مند‘ بے خوف اور نڈر سیاسی رہنما تھیں۔ ملک و قوم اور جمہوریت کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار رہتی تھیں۔ وہ جلاوطنی میں تھیں تو صدرمشرف کی طرف سے انہیں برابر پیغام مل رہے تھے کہ عام انتخابات سے پہلے وطن لوٹنے کی کوشش کی تو نتائج کی وہ خود ذمہ دار ہونگی لیکن محترمہ ایسی دھمکیوں کو کب خاطر میں لانے والی تھیں۔ 18 اکتوبر 2007ء کو وہ دبئی سے کراچی پہنچ گئیں۔ ان پر پہلا قاتلانہ حملہ 18 اکتوبر کو ان کے جلوس پر خود کش حملے کی صورت میں ہوا جس میں پیپلز پارٹی کے 149 کارکن جاں بحق اور 402 زخمی ہوئے۔ کوئی اور ہوتا تو اتنے بڑے سانحہ کے بعد حوصلہ ہار بیٹھتا‘ لیکن محترمہ کا عزم ذرا بھی متزلزل نہ ہوا۔ وہ پہلے سے زیادہ جوش و خروش سے میدان عمل میں سرگرم ہوگئیں۔ 27 دسمبر کی خون آشام شام کو دختر مشرق اور وفاق کی علامت محترمہ بینظیربھٹو کو شہیدکر دیا گیا۔ یوں بینظیربھٹو نے اپنے والد مرحوم کی طرح پاکستان کوخوشحال‘پرامن‘ مستحکم اور ناقابل تسخیر مملکت بنانے کا جو خواب دیکھا تھا‘ وہ ادھورا رہ گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا تعلق ایک وڈیرے خاندان سے تھا۔ ساری تعلیم باہر ہوئی‘ اسکے باوجود وہ حد درجہ غریب پرور اور مشرقی اور اسلامی روایات کی سختی سے پابند تھیں۔ ان کی شہادت کے حوالے سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ 5 سال پیپلزپارٹی کی حکومت بھی رہی لیکن مجرموں کا سراغ لگا اور نہ انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جا سکا۔ انتظامی سطح پر یہ بہت بڑی خامی ہے کہ پاکستان کے وزرائے اعظم کے ایسے اندھے قتل کے پس پردہ محرکات سے قوم کو آج تک آگاہ نہیں کیا گیا۔تاہم ’’بھٹو کا ورثہ‘‘ ایسی جاندار قوت ہے کہ وہ جسمانی طورپر منظرعام سے ہٹا دیئے جاتے رہے ‘لیکن پھر بھی انہیں غریب عوام کی خدمت کے مشن سے نہیں ہٹایا جا سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تو بینظیر بھٹو نے علم اٹھا لیا۔ انہیں راستے سے ہٹایا گیا تو انکی جدوجہد کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے آگے بڑھایا۔ آج قومی سیاست میں بلاول بھٹو ہی بھٹو لیگیسی کے حقیقی امین اور پیپلزپارٹی کے تن مردہ میں نئی جان ڈالتے نظر آتے ہیں تاہم اس کے لیے بھٹو ازم پر سختی سے کاربند رہنے کی ضرورت ہے جس کا پیپلز پارٹی کی آج کی سیاست میں فقدان نظر آتا ہے۔
دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت بے نظیر بھٹو کی 13ویں برسی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔محترمہ بےنظیر بھٹو 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئیں تھیں۔آج شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی 14ویں برسی بڑے ہی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے اورگزشتہ رات 12بجے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کچھ ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں،
ان ہیش ٹیگز میں سرِ فہرست ’بینظیر جیسی تو بس بینظیر ہی تھی‘، دوسرے نمبر پر 27DecBlackDay اور تیسرے نمبر پر BenazirBhutto ہے۔
اگر اِن ہیش ٹیگز کے تحت کی گئی ٹویٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر صارفین شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی تاریخی تقاریر کی مختصر ویڈیوز شیئر کررہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ صارفین سابق وزیراعظم کی یادگار تصویریں بھی شیئر کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے نام کی طرح بہادر تھیں، وہ آج اس دُنیا میں تو نہیں ہیں لیکن ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953میں پیدا ہوئیں اور محترمہ بے نظیر ذوالفقار علی بھٹو بیگم نصرت بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ جلا وطنی کے بعد 2007 میں بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں جہاں ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئیں تھی۔
farooqburiro9@gmail.com










