آہ 2023 کی ایک کربناک شام

تحریر ۔عمران مہدی

2023کی ایک المناک شام جب ہمارے بخت کے تخت کا بلند اقبال سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ اچانک میرا کعبہ میرا قبلہ میرا مان میرا شرافت کا سادگی کا حسیں چہرہ میری کل کائنات میرا بابا مالک کائنات کی اور چلا ہم ایک محسن و مسیحا اتالیق گھنے سایہ اور مہربان چھت سے محروم ہو گئے۔

ہماری کٹیا میں ہمیشہ کے لیے شام ہو گئی۔ وہ رحمت خدا وندی تھے۔ وہ نعمت ایزدی تھے۔ ان کا وجود ہماری زندگی کا کل اثاثہ تھا۔ اللہ گواہ ہے ان کی شفقتوں مہربانیوں اور ہماری فرمانبرداریوں کے درمیاں کمال کا تال میل تھا ۔ہماری نگاہ ان کے قدم مبارک پہ رہتی تھی اور ان کی نگاہ ہمارے گنہگار چہرے سے ہٹتی نہیں تھی۔ وہ زیر لب درود و سلام پر کر میرے لیے دعا فرما رہے ہوتے تھے اور ہم ان کے چہرے کی زیارت کر کے حج اکبر کر رہے ہوتے تھے۔

بابا اور بابا ۔۔بابا جی جواب دو ناں بات کرو ناں بابا ہم سب آپ کے بنا نڈھال ہو گئے۔ شفقت پدری سے محروم ہو گئے۔ ایک بار بابا کہنے پہ ست وار بسم اللہ کہتے تھے بابا مگر اب خاموشی محشر برپا کر دیتی ہے ۔ دھڑکنیں کہرام مچا دیتی ہیں۔ گھر میں پل بھر میں ویرانیاں پھیل گئیں۔ سب کو سنبھالتے الفاظ دم توڑ جاتے ہیں۔ حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔ بابا روز پلکیں بھیک جاتی ہیں۔ اندر سے آپ کی یاد نے بے بس کر دیا ہے۔۔ بابا غلط بات ہے وقت کا مرہم مداوا ہے بابا روز اندر سے صبر و ہمت ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے۔

عالم خیالات میں آپ کے سراپا کے قدم بوس ہوتے ہیں۔ مگر مالک کائنات کے ہر فیصلہ پہ الحمد اللہ وہی رب ذوالجلال غفور رحیم اللہ میرے بابا کی مغفرت فرمائے گا۔آج بھی یہی یقین ہے اپنے اللہ میاں کے پاس میرا بابا ہمارے لیے دعا گو ہو گا۔

2023 آج اختتام کو پہنچا ۔ ہمارے لیے عام الحزن تھا۔ اداسیاں تلخیاں کرب درد آہ فغاں یادیں دل میں مسکن بنا کے بیٹھ گئیں ۔ یہی وجہ ہے آج کا سورج ہم سے آنکھ نہیں ملا پایا اور غروب ہو گیا۔

عمران مہدی ولد اللہ بخش مرحوم چک بالیاں والا