کنفیوژن کا اختتام اور چوہدری خالد غنی کی بصیرت

تحریر علی امجد چوہدری
۔
چوہدری خالد غنی خالصتاً مسلم لیگی ہیں ان کا خاندان ابتداء سے ہی مسلم لیگ سے وابستہ ہے چوہدری صاحب گراس روٹ لیول کے سیاستدان ہیں اچھے قانون دان ہونے کے باوجود سیاست کی طرف أگئے بلدیاتی سیاست سے کامیاب أغاذ کے بعد پنجاب اسمبلی کے ایوان میں جا پہنچے گزشتہ عام انتخابات میں بھی چند سو ووٹ کے فرق سے ایوان کا حصہ نہ بن سکے مگر حلقے سے کبھی بے اعتناء نہیں رہے یہ بڑے کمال کے ورکر اور جوڑ توڑ کے ماہر ہیں ان کے ارد گرد آپ کو مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لوگ ملیں گے یہ آپ کو کسی بھی عام سی دوکان پر بھی بیٹھے ہوئے مل سکتے ہیں اور عام سے چائے خانے پر بھی مگر سادہ سی طبعیت کے مالک چوہدری خالد غنی جوڑ توڑ کے ماہر بھی ہیں اور کنفیوژن کو لمحات میں ختم کرنے کے بڑے ماہر بھی تازہ ترین مثال ہی لے لیجئے این اے 110 میں ایک بڑا کنفیوژن تھا اور اس کنفیوژن نے لیگی قیادت کو بھی کنفیوز کر رکھا تھا سابق وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات کی مسلم لیگ ن میں آمد کے بعد اس کنفیوژن میں مزید اضافہ ہو گیا اس کنفیوژن سے ایک طرف تو ن لیگی قیادت گومگو کی حالت میں تھی تو دوسری طرف یہ لیگی کارکنان کے لیئے بھی درد تھی این اے 110 میں ن لیگی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک فاصلہ اور ہچکچاہٹ تھی جسے ختم کرنے کی ہمت کوئی بھی نہیں کر رہا تھا یہ صورتحال چوہدری خالد غنی کے لیئے بھی تشویش کا باعث تھی اور آج انہوں نے اس وقت حلقے کی عوام کو بالخصوص اور جھنگ کی عوام کو بالعموم اس وقت حیرت زدہ کر دیا جب جھنگ کا طاقتور پینل جو قومی اسمبلی این اے 110 کے امیدوار مولانا أصف معاویہ سیال پی پی 128 سے امیدوار مہر خالد محمود سرگانہ پی پی 129 سے امیدوار چوہدری خالد غنی پی پی 130 سے امیر عباس سیال اپنے پینل کا اعلان کر رہا تھا آج چوہدری خالد غنی کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والا یہ پینل سب مبصرین کو حیرت زدہ کر گیا اور ہی دبے لفظوں میں اس کا کریڈیٹ چوہدری خالد غنی کو دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
علی امجد چوہدری