سال_نامہ_جو_غزالی_نامہ_کہلایا
تحریر مولانا عمیر الغزلی
سرد جنوری ہے جھنگ جیسے چھوٹے اور ترقیاتی لحاظ سے بمثل جنگل میں ایک نوجوان جو زندگی کا تیسواں جاڑا گزرتے دیکھ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ سال اس واسطے ایک شاندار مستقبل لائے گا اور وہ ہر ممکنہ کوشش کرے گا کہ اگلا جاڑا اس کو نوجوانوں سے نکال کر ذمہ دار افراد میں کھڑے کر چکا ہوگا۔ جاڑے کا موسم عموماً بڑا دلنشیں ہوتا ہے پیار کرنے والے اس کو دو طرح سے مناتے ہیں جو پیار حاصل کر لیتے وہ اس کو رنگین بناتے ہیں جو لاحاصل محبت کربیٹھتے وہ اس کو تلخیوں سسکیوں اور تنہائیوں میں گزار دیتے ہیں اور محنت کرنے والے اس کو دو طرح سے مناتے ہیں بامقصد محنت والے جاڑے کی تاریک راتوں میں جو دھند سے لپٹی ہوتی ہیں اس میں بھی چراغ جلائے منزل تلاش کر رہے ہعتے ہیں اور بے مقصد محنت یا فکر فاقہ والے شام ہوتے ہی گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور دھند سے لپٹی ہوئی تاریک راتوں میں گمنام ہوجاتے ہیں۔اور جو چراغ جلا کر بیٹھتے ہیں وہ ان تاریک راتوں میں جس میں انسانی دنیا دوسرے کو دیکھنے میں بھی مشکلات کا شکار ہوتی یے جگنو کی طرح جگمگا رہے ہوتے ہیں .یہ جاڑا اس نوجوان واسطے سالوں سے چراغ جلا کر بیٹھنے واسطے تھا مگر ہمت و سکت پہلے والی نا تھی جسم کی گرمی کو دنیا کے امتحان نے سرد کرنا شروع کر دیا تھا۔مگر نوجوان چاہتا تھا جو سفر بیس سال کی عمر میں شروع ہوا تھا وہ جاری رہے اور اس واسطے وہ خود سے لڑ رہا تھا اور جدوجہد کو اپنائے ہوئے تھا۔اس سال اس نے کافی کامیابیاں سمیٹیں ۔ایسے ساتھیوں کا ساتھ ملا جنھوں نے اس کو کی کمزوری ہو چھپا دیا اور دنیا کے سامنے دوگنی طاقت کے ساتھ کھڑے کر دیا۔وہ نوجوان جس کو دنیا کے ہجوم میں تمسخرانہ لہجے میں بولیاں سننا ہوتی تھیں کہ یہ پاگل ہوگیا ہے ۔اس کے پاس کیا یے۔اس کو فضول میں وقت ضائع کرنے کا شوق یے ۔اس واسطے اس کے ساتھی بنیاد بن گئے۔جب اس کے اپنے خونی اعتماد کھو رہے تھے انہوں نے اس کو نا صرف اعتماد دیا بلکہ چٹان بن گئے۔گرمی بہار خزاں کی طرح سال جہاں موسم کے نظارے دکھا رہا تھا وہیں زندگی بھی اسی طرز پر تھی مگر ساتھیوِں نے اس نوجوان کو ملک کے چاروں صوبوں میں ایک سنا جانے والا نام بنا دیا۔ حملے۔دھمکیاں۔پریشانیاں۔منافقتیں۔سازشیں اور دھوکے ہر موسمی طوفان کی طرح آتے گئے اور بےسروساماں نوجوان اپنے ساتھیوں کی طاقت سے اپنا آپ منوانے لگا۔ہر عمل کا ردعمل کام کی رفتار سے دیا جانے لگا۔اس سب میں اس نوجوان کے ساتھ اس کے شیخ مربی شیخ طریقت اور سرپرستوں کا خاصا کردار رہا جو مثبت انداز سے اچھی سمت کے چناو کا سبب بنے۔اس سال اچھے ساتھیوں کو اس نوجوان نے کھو بھی دیا۔جو ہمیشہ کے لئیے چل دئیے یا پھر وقتی غلط فہمیوں کے بنیاد پر دور ہوگئے۔جنوری 2024 کا جاڑا اس نوجوان کا جسم اب سردی محسوس کرنے لگا ہے ۔سخت جاڑے میں رات کے آخری پہروں میں سڑکوں پر اشہتار لگانے والا اور بغیر کچھ محسوس کئے آگے بڑھنے والا اب کمزوری محسوس کرنے لگا ہے۔مگر منزل تک پہنچنے کا جنون اس میں طاقت بھر دیتا ہے اور کمزور ہوتا جسم مضبوطی پکڑ جاتا ہے۔اب اس نوجوان پر ذمہ داریاں بھی بڑھ چکی ہیں اور اس سے وابستہ امیدیں بھی کافی ہو چکی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ 2025 کا جاڑا اس نوجوان کو کس طرح لیکر آئے گا۔یا یہ نوجوان سمت کھو چکا ہوگا۔سب اس نوجوان واسطے دعا کریں ۔اللہ خیر کا ذریعہ بنائے آمین
آپ سب کی دعاؤں کا منتظر
#مولانا_حافظ_محمد_عمیر_الغزالی










