حلقہ این اے110/نواب بابر علی خان سیال

تحریر امجد علی ڈھول

آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل نواب بابر علی خان سیال(سابق چیرمین ضلع کونسل جھنگ) بطور امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ این اے110 نمودار ہوئے ۔
نواب صاحب حلقہ کے اندر شب روز عوام کے دکھ اور سکھ میں بلاتفریق شرکت کرتے آ رہے ہیں،ظاہری بات ہے کہ جو شخص اسمبلی کا رکن نا ہو ،صرف امیدوار ہو تو وہ حلقہ کے ووٹرز کے دکھ سکھ میں شامل ہو کر انکے دلوں میں جگہ ہی بناتا ہے*
خوش قسمتی سے اس دوران پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہو جاتی ہے تو نواب صاحب بطور حکومتی نمائیندہ حلقہ میں سمجھے جاتے ہیں،پنجاب کی نگران حکومت کے دوران حلقہ دونوں تحصیلوں میں ترقیاتی کاموں کے سرخ فیتے کاٹتے نظر آتے ہیں*
نواب صاحب کی قد آور شخصیت کا اتنا اثر تھا کہ شورکوٹ سے تین امیدواران انکے دائیں بائیں کاندھوں شانہ بشانہ نظر آے*
نواب صاحب ایک کھرے اور سچے انسان ابھر کر سامنے آے جو کہ عوامی عمومی تاثر پیدا ہوا۔نواب صاحب احمد پور سیال کے ووٹرز کے ایسے دشوار کام بھی کئیے جنہیں حکومتی امیدوار امیر عباس خان سیال بھی نا کر سکے*

بدقسمتی سے نواب صاحب کو حلقہ این اے 110 میں لے آنے والی قوتیں انہیں عین موقع الیکشن تنہا چھوڑ دیا جس کے بعد نواب صاحب تا حال حلقہ کے امیدوار سمجھے جا رہے ہیں،جبکہ ضلع جھنگ میں ن لیگ کی سرپرستی مخدوم سید فیصل صالح حیات کر رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ نواب صاحب کو الیکشن سے سرنڈر کرنے پہ مجبور کر دیں*

بہر حال ایک مختصر وقت کے اندر نواب صاحب حلقہ کی عوام کے دلوں میں محبت بنا گئے بوجہ انکے عوامی دفتری کام،اخلاق اور ملنساری*
قسط جاری ہے*
اظہار خیال!امجد علی خان ڈھول ڈسڑکٹ رپورٹر میٹرو ون نیوز
03004144437