بانی تحصیل نجف عباس خان سیال

تحریر۔عمران مہدی

مہر احمد خان سیال کی چوتھی پشت سے مہر نذر عباس سیال کے گھر 1959 میں ایک بچے کا جنم ہوا ۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس بچے کے ماتھے پہ احمدپور سیال کی قسمت لکھی تھی۔

بتاتے چلیں کہ مہر احمد خان سیال کہ نام پہ قصبہ احمد پور سیال رکھا گیا جو آج تحصیل احمدپورسیال ہے۔ مہر احمد خان سے مہر نصرت خان سیال ۔۔۔ مہر نصرت خان سیال سے مہر سلطان خان سیال ۔۔۔ مہر سلطان خان سیال سے۔۔۔ مہر غلام قاسم خان سیال ۔۔۔ مہر غلام قاسم خان سیال سے۔۔۔۔۔۔۔ مہر نذر عباس خان سیال کے ہاں بانی تحصیل نجف عباس خان سیال نے جنم لیا ۔۔

اپنی جنم بھومی میں ہی تعلیم حاصل کی اور تحصیل دار کے عہدے پہ فاٸز ہوۓ۔ ابتدا سے ہی علاقہ کی خدمت اور انسانیت سے محبت کا جذبہ تھا ۔ خاص طور پر وزیر اعلی پنجاب سردار عارف نکٸی کے دور میں اہلیان علاقہ کے کام آتے رہے۔ ان کے بیٹے سردار آصف نکٸی نجف عباس خان کے کلاس فیلو اور بہترین دوست تھے ۔ وزیر اعلی ہاوس میں کچھ عرصہ اپنے دوست کے ساتھ بھی رہے۔

اسی خدمت کے جذبہ کے تحت ملازمت سے مستفعی ہو کر عملی سیاست میں جلوہ گر ہوۓ۔ سلطان العارفین حضرت سلطان باہو کے خانوادے سے صاحبزادہ نذیر سلطان کی سیاسی حکمت عملی سے نجف عباس خان گڑھ مہاراجہ کے نواب خاندان کے مقابلے میں آۓ۔ کیونکہ نواب مظفر علی خان تین بار جیت چکے تھے ۔اور صاحبزادہ طاہرسلطان کو لانچ بھی کر چکے تھے ۔۔۔۔ ان کے توڑ کے لیے صاحبزادہ نذیر سلطان نے نجف عباس کو اپنے پینل سے سیاست میں لے آۓ۔

جنرل مشرف کےمارشل لا کے بعد2002 کے الیکشن میں قاٸد اعظم ق لیگ کی ٹکٹ سے صاحبزادہ محمد محبوب سلطان کے پینل سے حلقہ pp83 سے اپنے برادر نسبتی خان طالب رضا خان سیال کے مقابلے میں پہلا الیکشن لڑا ۔ صاحبزادہ گروپ کی محنت سے پہلی دفعہ ہی ایم پی اے بن گۓ۔۔ وہ ایم پی اے کیا بنے احمدپورسیال کی قسمت جاگ اٹھی ۔

چوہدری پرویز الہی وزیراعلی پنجاب بنے تو خانصاب کے ان کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے۔ صوباٸی وزارت کی آفر ہوٸی تو یہ کر ٹھکرا دی کہ مجھے وزارت نہیں مجھے تحصیل چاہیے۔

2004میں احمدپور سیال جیسے پسیماندہ قصبے کو تحصیل کا درجہ دلوا کرترقی کی راہ پہ گامزن کردیا ۔
تحصیل کا کیا بننا تھا کہ تمام محکموں کے دفاتر عدالتیں کالجز بننا شروع ہو گٸے۔

انتظار کیجیے گا ملتے ہیں کل اسی وقت باقی کالم سلسلہ وار آپ کی نظر