گڑھ مہاراجہ کے سیال خاندان کا سیاسی سفر ۔
(پارٹ ٹو)
تحریر عمران مہدی
1979 میں نواب نوازش علی خان خان دارفانی سے کوچ کر گٸے۔۔ علاقہ کے سیاسی پنڈت گڑھ مہاراجہ کی سیاست کو ختم ہونے کا عندیہ دینے لگے۔ تب نواب مظفر علی خان لگ بھگ 20 سال کے تھے۔
پھر 1982 میں نواب مظفر علی خان کے گھر چاند جیسے بیٹے کی پیداٸش ہوٸی۔۔نواب عون عباس سیال مسکراہٹ بن کے ہر چہرے پہ نکھر گیا ۔
پھر 1985 کا الیکشن ہوا ۔۔ نواب ذوالفقار خان سیال کا مقابلہ احمد پور سیال سے صفدر سلیم سیال سے ہوا۔۔ بڑا کانٹے کا مقابلہ ہوا۔ 850 کے مارجن سے نواب ذوالفقار خان سیال کی جیت ہوٸی۔
ضیاالحق طیارے حادثے میں مالک حقیقی سے جا ملے پھر 1988 میں الیکشن ہوا ۔۔ نواب مظفر علی خان سیال اپنا پہلا الیکشن لڑ رہے تھے ۔۔ مقابلے میں صاحبزادہ سلطان خضر حیات پی پی کی ٹکٹ پہ الیکشن لڑ رہے تھے۔۔۔سلطان خضر حیات مظفر علی خان سے الیکشن جیت گٸے۔
1990کا الیکشن نواب مظفر علی خان سیال أیکبارپھر صاحبزادہ سلطان خضر حیات کے مد مقابل تھے اس بار نواب مظفر خان سیال واضح مارجن سےجیت کر پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔
1993 کا الیکشن مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے نواب مظفر علی خان کا مقابلہ اس بار صاحبزادہ طاہر سلطان سے تھا ۔۔۔ ساٸیکل کےنشان پہ الیکشن لڑا اور دوسری بار الیکشن جیت گٸے۔
1997کے الیکشن میں علاقے کی سیاست نے ایکبار پھر پلٹا کھایا ۔۔۔ نواب مظفر علی خان سیال صاحبزادہ طاہر سلطان کو اپنے پینل سے الیکشن لڑانے میں کامیاب ہوٸے۔۔ تو صاحبزادہ نذیر سلطان نے خود مظفر خان سیال کے مقابلے میں اترنے کا اعلان کر دیا ۔۔۔۔ بڑا دلچسپ انتخاب تھا ۔۔ بالآخر نواب مظفر علی خان صاحبزادہ نذیر سلطان سے الیکشن جیت گٸے ۔۔ صاحبزادہ طاہر سلطان اور نواب صاحب الیکشن جیت گٸے ۔
پھر 1999 میں پرویز مشرف نے اوور ٹیک کر لیا۔ بی اے ڈگری کو لازمی قرار دیا گیا۔۔ سیاست کے بڑے بڑے کھلاڑی میدن سیاست سے دور ہوٸے ۔ دوسری طرف صاحبزادہ محمد نذیر سلطان احمد پور سیال سے نجف عباس سیال کو میدان سیاست میں لے آٸے ۔سیاست میں وہی چال چلی جو نواب مظفر علی خان نے صاحبزادہ طاہر سلطان کو لے کے چلی تھی۔
پھر 2003 ,کے الیکشن میں کیا ہوا۔۔۔ انتظار کیجیے گا۔۔۔ ملتے ہیں کل شام پارٹ تھری میں ۔۔۔ سب بزرگ جانتے ہیں ۔۔مگر کمنگ جنریشن اور ینگ بلڈ کی ڈیمانڈ پہ سیال خاندان کا سیاسی سفر کی داستان جاری ہے۔
عمران مہدی۔۔۔۔۔۔۔۔سماجیات ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمودکوٹ









