خانیوال کی9 یونین کونسلوں میں سیاسی صورت حال
تحریر۔۔،منور اقبال تبسم
سرد موسم کے خاتمہ کیساتھ دھوپ نکلتے ہی سیاسی موسم میں بھی تیزی اچکی ہے ،سید گروپ ،مخدوم گروپ اور ہراج گروپ بھرپور محنت کررہے ہیں اور دن بدن سیاسی صورت حال بدل رہی ہے ،
سب سے جاندار شاندار اور منظم الیکشن کمپین مخدوم گروپ کی ہے اور مخدوم گروپ بہت محنت کررہا ہے اور بڑے پیمانے پر جوڑ توڑ میں مصروف ہے ،اگر عمران افتخار ہراج سے اختلافات نہ ہوتے تو آج پیر ناصر کمال شاہ بھی مخدوم گروپ میں ہوتے اور پھر ایک طویل سلسلہ بڑی بڑی شخصیات کی شمولیت کا شروع ہوجانا تھا ،مگر عمران افتخار کی علیحدگی کے بعد کچھ وقت کیلئے ایک جمود ہوا مگر پھر مخدوم گروپ نے حلقہ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے اور اس وقت مخدوم گروپ تین اہم شخصیات جن میں سابق ناظم درکھانہ چوہدری غفار گجر (سید گروپ ) مہر نذیر مرالی (سید گروپ )اور مہر سکندر دیراج (ہراج گروپ) کو ساتھ ملا چکا ہے ،مخدوم گروپ اس بار درکھانہ اور حویلی کورنگا میں ون پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے ،دریا پار کی چار یونین کونسلوں ،جڑالہ ،نو گھگھ ،کوٹ اسلام ،دادوانہ میں کانٹے دار پوزیشن پر ہے ،کچی آبادیوں اور غریب ووٹرز مخدوم گروپ کیساتھ دکھائی دے رہے مگر مخدوم مختار حسین شاہ کے سب صاحبزادے اور حاجی بابا کے صاحبزادے بھی فیلڈ میں دکھائی دیتے ہیں ،عام تاثر تو یہی ہے کہ مخدوم گروپ تیسرا بڑا حلقہ کا گروپ بن چکا ہے ،ون نہ بھی کرے تب بھی 20ہزار سے زائد ووٹ لینے کی صورت میں مخدوم گروپ مستقبل کی سیاست میں مرکزی کردار کرنے والا ہے
سید گروپ اقتدار کی راہ داریوں سے نکلا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر آزاد حیثیت سے میدان میں ہے ،الیکشن کے پہلے دن سے ہی سید گروپ اپنے کارکنوں کو منانے میں الجھا ہوا ہے ،ایک کو مناتا ہے تو دوسرا روٹھ جاتا ہے ۔اج حلقہ کی ایک بڑی ابادی سرائے سدھو کا سید گروپ کے ناظم راؤ طارق اقبال سید گروپ کو الوداع کہہ کر ہراج گروپ میں شمولیت کرنے جارہے ہیں جو کہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے سید گروپ کیلئے ،سید گروپ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود انہیں منانے میں ناکام رہا ہے ،2018کے انتخابات میں سید گروپ کو بڑی لیڈ سرائے سدھو سے ملی تھی مگر اب ان کا اپنا گروپ دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکا ہے ،ادھا گروپ ٹوٹ کر ہراج گروپ کیساتھ اج شمولیت کررہا ہے اس طرح سرائے سدھو میں فی الوقت ہراج گروپ کی پوزیشن بہتر اور واضح ہوچکی ہے ۔باگڑ سرگانہ میں سید گروپ کی لیڈ 15سو کے قریب تھی ،کیونکہ باگڑ کے سپوت ایڈمرل ر سعید سرگانہ قومی اسمبلی کے ن لیگ سے امیدوار تھے ،سعید سرگانہ کا تعلق ہراج گروپ سے رہ چکا ہے ،2018میں باگڑ سرگانہ سے ہراج گروپ کا 75 فیصد ووٹ میاں سعید سرگانہ لے گئے تھے مگر اس بار ان کے دست بردار ہونے سے ان کا بڑا گروپ ہراج گروپ میں واپس آچکا ہے ،مخدوم گروپ سے تعلق رکھنے والے میاں عثمان سرگانہ ہراج گروپ کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ جبکہ میان آفتاب سرگانہ کے بھانجے میاں فہیم سرگانہ مخدوم گروپ میں جاچکے ہیں ،حیدر سرگانہ کی صورت میں سید گروپ مضبوط ہوا ہے مگر میاں اجمل سرکانہ گروپ کے کچھ لوگ سادات کو چھوڑ چکے ہیں ،باگڑ سرگانہ میں کانٹے دار مقابلہ ہے ،کسی بھی گروپ کی جیت کا گراف 100/200ووٹوں سے زیادہ نظر نہیں آتا
یونین کونسل کوٹ اسلام کچھ روز پہلے سید گروپ کیلئے ون وے دکھائی دیتی تھی ،مگر سابق کونسلر چوہدری مزمل علی کی ہراج گروپ میں واپسی راشد محمود چوہدری ،نعیم۔احمد قریشی اور سابق کونسلر مہر حق نواز لوانہ کی سید گروپ چھوڑ کر ہراج گروپ میں شمولیت کے بعد اور عمران رفیق کی ہراج گروپ میں آمد کے بعد منظر نامہ بدل چکا ہے ۔
کوٹ اسلام یونین کونسل میں کانٹے دار مقابلہ ہے اور جوڑ توڑ جاری ہے ۔سید گروپ ہمیشہ یہاں سے جیتتا رہا ہے مگر اس بار نتیجہ شاید روایات سے مختلف نکلے ۔بلدیات میں سید گروپ کی طرف سے مہر سکندر حیات دوانہ جبکہ ہراج گروپ کیطرف سے مہر اظہر تھراج اور چوہدری رفیق آرائیں امیدوار تھے اس کے باوجود ہراج گروپ جیتا ،یہاں حاجی غلام جعفر سرگانہ اور عمران افتخار ہراج کا بھی خاصا اثر ورسوخ ہے ،
یونین کونسل دادوانہ میں تین بڑے گروپ ہیں جن میں عمران افتخار ہراج گروپ ،حاجی غلام رضا گروپ اور مہر امیر حیدر گروپ ، اس وقت مہر امیر حیدر گروپ مکمل طور پر سید گروپ کیساتھ کھڑا ہے جس میں سابق چیئرمین مہر آنصر دادوانہ بھی شامل ہیں ، الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے انجنیئر غلام صفدر دادوانہ کی سید گروپ میں واپسی ہوئی تھی مگر میاں غضنفر محبوب کے سید گروپ چھوڑنے سے وہ تبدیلی تقریبا برابر ہوچکی ہے ،مخدوم گروپ بھی یہاں فعال ہے ،اس یونین کونسل میں بھی کانٹے دار مقابلہ ہے اور کسی بھی گروپ کی جیت 100/200ووٹوں سے زیادہ نہیں ہوگی ،
یونین کونسل قتال پور سادات کا گھر ہے ،یہان سے تقریبا 6ہزار ووٹوں کی لیڈ سید گروپ کی بنتی ہے جبکہ یونین کونسل کنڈ سرگانہ میں ہراج گروپ کو حاجی غلام جعفر سرگانہ سابق ایم پی اے کی وجہ سے برتری حاصل رہتی ہے ،کنڈ سرگانہ سے ہراج گروپ کی لیڈ ایک ہزار سے دو ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے ، یوسی حویلی کورنگا میں ہراج گروپ ہمیشہ تیسرے نمبر پر رہتا ہے ،اس بار پہلے نمبر پر مخدوم گروپ کا امکان ہے جبکہ سادات دوسرے نمبر پر رہینگے ،یہان سے سادات کی لیڈ 2018کی نسبت اس اتنہائی کم ہوگی اس بار کیونکہ پیر ناصر کمال شاہ کے متعلقہ ووٹرز بھی حاجی بابا کیلئے چاہت رکھتے دکھائی دیتے ہیں ۔
یونین کونسل نو گھگھ کے تین بڑے گروپ ہیں جن میں سکندر دیراج گروپ ،مصطفی کوڈھن گروپ ،اور سید گروپ ،سکندر دیراج اس وقت مخدوم گروپ ،مصطفی کوڈھن ہراج گروپ کو سپورٹ کررہے ہیں ،اس یونین کونسل سے کسی بھی گروپ کی برتری 100/50ووٹوں سے زیادہ نہیں ہوگی
یونین کونسل جڑالہ میں سید گروپ بہتر پوزیشن میں ہے ،یہاں مخدوم گروپ بھی انتہائ مضبوط ہے مگر مقابلہ ہراج گروپ اور سید گروپ کے مابین ہے ،یہاں سے سید گروپ کی جیت نظر آرہی ہے جو کہ 200/300تک ہوسکتی ہے
یونین کونسل درکھانہ میں سید گروپ تیسری پوزیشن پر ہے ،اگرچہ سید ثمر عباس شاہ نے بہت سے روٹھے کارکنوں کو منالیا ہے مگر سید گروپ کے ناظم چوہدری عبدلغفار اور نائب ناظم رانا نیک محمد کی مکمل پینل سمیت سید گروپ چھوڑنے کے فیصلہ کے بعد اور سرکردہ شخصیات کی تیزی سے ہراج گروپ اور سید گروپ میں شمولیت کے بعد صورت حال یکسر بدلتی دکھائی دیتی ہے ،میرے تجزیہ کے مطابق ان 9یونین کونسلوں میں سرائے سدھو تک سید گروپ تقریبا 4/5ہزار کی لیڈ کیساتھ آگے رہے گا ،اس سے آگے دیگر پی پی 205کی 9یونین کونسلیں ہراج گروپ کا گڑھ سمجھی جاتی ہیں جہاں سے ہمیشہ ہراج گروپ کو برتری ملتی رہی ہے ،اگر سرائے سدھو پہنچنے تک ہراج گروپ کے پاس پانچ ہزار سے زیادہ لیڈ ہوئی تو فاتح اکبر حیات ہراج ہونگے اور اگر یہ لیڈ سید گروپ کی لیڈ سے کم ہوئی تو فتح کا جشن سید گروپ منائے گا ۔اور ڈاکٹر سید خاور علی شاہ کو جیت ملے گی ،اس الیکشن میں سید مرتضی حسین المعروف حاجی بابا مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے سید گروپ اور ہراج گروپ کے قریب ترین ہونگے
منور اقبال تبسم










