جماعت اسلامی بطور ایک مثال۔
تحریر حاجی غلام شبیر منہاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ دنوں حافظ نعیم الرحمان صاحب نے منصورہ میں بطور امیر جماعت اسلامی حلف اٹھایا۔ وہ بنا کسی پروٹوکول کے اپنا سفری بیگ اٹھائے کراچی سے لاہور آئے۔ جن سے پچھلے دو ادوار میں امیر جماعت رہنے والے سراج الحق صاحب نے حلف لیا اور وہ بھی بنا کسی پروٹوکول کے اپنا بیگ اٹھائے منصورہ سے نکل گئے۔۔۔یوں جماعت کی امارات میاں طفیل، قاضی حسین احمد اور سید منور حسن جیسے لوگوں سے ہوتی حافظ نعیم الرحمان تک آ پہنچی۔
جماعت اسلامی امیر کا انتخاب بڑے ہی دلچسپ انداز میں کرتی ہے۔ کسی کو ازخود بطور امیر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں بلکہ مرکزی شوری تین نام بطور (امیر) امیدوار تجویز کرتی ہے۔ جن کو رائے عامہ کے ہموار کرنے سے لابنگ تک کسی بات کی اجازت نہیں ہوتی۔۔البتہ ووٹر کسی چوتھے شخص کو بھی ووٹ ڈالنا چاہیں تو انکو اجازت ہوتی ہے۔۔یہ اتنا خوبصورت اور قابل تقلید عمل ہے کہ اس میں آج تک جتنے بھی امیر بنے ان پر ذمہ داری ڈالی گئی۔۔کوئی بھی خود سے کبھی بھی اس عہدے کو لینے کا خواہش مند نہیں رہا۔۔یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ باوقار طریقے سے آتے ہیں اور وقت مقررہ پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جایا کرتے ہیں۔۔۔ان میں کوئی بھی سرمایہ دار، جاگیردار یا شارٹ کٹ والا نہیں ہوا کرتا۔۔۔اس میں موروثیت کا دور دور تک بھی کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔۔جماعت وسائل کے اعتبار سے دولت مند یے جبکہ شخصیات غریب ہیں۔۔کیونکہ یہ تمام تر وسائل جماعت کی امانت ہوا کرتے ہیں۔۔اور ان پہ کسی شخصیت کا کوئی حق نہیں ہوتا ماسوائے اس کے جو دستور میں کہا گیا ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ “الخدمت” جیسے رفاعی اداروں کو چلانا آج تک جماعت اسلامی کا ہی خاصہ رہا یے۔۔
آپ جماعت اسلامی سے ہزار فکری و مسلکی اختلاف رکھیں۔۔مگر ان کے جس نظام کی آج میں بات کر رہا ہوں اس زاویہ سے اگر ہم سوچیں تو اس نتیجہ پہ پہنچیں گے کہ ان سے بہتر، منظم اور مربوط نظام رکھنے والی کوئی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت اس ارض پاک پہ ابھی تک موجود نہیں۔۔ یہی وجہ یے کہ ان کے پاس سید منور حسن جیسے لوگ بھی جب موجود تھے تو وہ بھی شورائی گرفت سے نہیں بچ پاتے تھے۔۔انہیں بھی امارت سے واپس جانا پڑا۔۔یہی وہ وصف ہے کہ اس جماعت کے پاس ضلعی اور ڈویژنل سطح پہ ایسے کثیر لوگ موجود ہیں جو باقی جماعتوں کے پاس ماسوائے اکا دکا کے مرکز میں بھی نہیں۔۔حافظ نعیم الرحمان اور سینیٹر مشتاق احمد جیسے ہیروں کو اسی سسٹم نے جنم دیا ہے۔۔ورنہ ان کے باپ دادا کو کوئی نہیں جانتا تھا۔۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، جماعت اسلامی کے بعد یہ ماڈل متعارف کروا رہی ہے۔ جس میں نوجوانوں کی بڑی کھیپ شامل ہو رہی یے۔۔اگر موجودہ پرفتن دور میں یہ اپنا تشخص اور ورک سٹال برقرار رکھ پائی تو کہا جا سکتا ہے کہ جماعت اسلامی کے بعد پاکستان میں یہ لوگ ہوں گے جو اس نااہلیت، اقرباء پروری اور موروثیت کے بے رحم و بے ثمر تھپیڑوں کے آگے روایات، اصول اور نظم وضبط کا باندھ باندھیں گے۔۔مگر ابھی تک جماعت اسلامی کا اس میدان میں کوئی ثانی نہیں۔۔
غلام شبیر منہاس










