دکھی انسانیت کا بے لوث سپاہی عمران مہدی

تحریر۔اسد فردوسی
جرنلسٹ ، سوشل ورکر ، لاء سٹوڈنٹ

جب بات ہو احمد پور سیال جھنگ میں فلاح انسانیت کی تو دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش بڑے بھاٸ عمران مہدی صاحب کو کیسے بھولا جا سکتا ہے
عمران مہدی بھاٸ احمد پور سیال جھنگ کا وہ ہیرہ ہیں جو تحصیل بھر میں محبتیں بانٹتیں پھر رہے ہیں
جہاں کہیں کوٸ خیر کا کام ہو رہا ہوتا ہے وہاں بھاٸ ہمیشہ دکھاٸ دیتے ہیں
جاب کے ساتھ انسانیت کیلۓ کام کرنا دوسروں کیلۓ وقت نکالنا یقیننا بہت مشکل ہے مگر عمران بھاٸ اپنے بچوں کا وقت سب کے بچوں کو دے رہے ہیں
خاکسار مالک دو جہاں کا شکر گزار ہے کہ بندہ حقیر کی خداوند ذوالجلال نے اپنے ناٸبین کی خدمت کرنے کی ذمہ داری لگاٸ جس میں خاکسار پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنی ٹیم کے ہمراہ اپنے حصے کی شمع روشن کر رہا ہے

جھنگ میں بندہ حقیر نے ویلفٸیر ورک کا باقاعدہ آغاز چھ ماہ قبل کیا تھا

ناچیز نے جب بھی عمران مہدی کو کال کی عمران مہدی سب سے پہلے پہنچے اور دکھی انسانیت کی خدمت میں بے روزگاروں کو روزگار دلوانے میں ہر ممکن کاوش کی جو وہ کر سکتے تھے

اتنا آسان نہیں جاب کے ساتھ وقت نکالنا دوسروں کیلۓ یقیننا یہ عمل چنی ہوٸ شخصیات کے حصے میں آتا ہے اور بڑے بھاٸ عمران مہدی صاحب چنی ہوٸ شخصیت ہیں جن کو اللہ پاک نے یہ توفیق دی ہے

مجھے پے پناہ محبت ہے ان شخصیات سے جب کبھی ملاقات ہو کال پہ بات ہو یا تصویر سامنے آۓ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میرے خاندان کے ایک فرد کا میں دیدار کر رہا ہوں

بڑے بھاٸ ظفر اقبال باجوہ صاحب بھاٸ عمران مہدی صاحب جیسی شخصیات کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہی نہیں ہونے پاتا کہ میرا کوٸ سگا بھاٸ نہیں ہے
کیونکہ جب بھی ان کو خاکسار نے آواز دی سگے بھاٸیوں کی طرح فورا پہنچے

ہمیشہ سلامت رہیں مسکراتے رہیں
مجھے آپ پہ فخر ہے

اسد فردوسی
جرنلسٹ ، سوشل ورکر ، لاء سٹوڈنٹ