دنبہ یاد رہا گفتگو بھول گئ

تحریر عبد الستار سپرا

اللہ سے ایک بیٹے کے لیئے عرض کی اللہ نے بیٹا عطا کیا بڑھاپے کی عمر ہے باپ کی محبت عروج پر ہے اتنے میں حکم خداوندی آتا ہے اے خلیل اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں قربان کرو بیٹے کو علم ہوا عرض گزار ہوا ابا حضور کر گزریں جس کا حکم ہوا ہے مجھے صابرین میں سے پائیں گے بیٹے کو لٹایا اور فرمایا بیٹا میں بزرگ ھوں چھری چلاتے وقت ھلنانہیں تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کی باباجان قربان ھونا میرے بس ھے تڑپنا میرے بس میں آ پ رسی سے باندھ لیجئے تاکہ پریشانی نہ ھوگردن پر چھری چلائی اسماعیل علیہ السلام کی جگہ دنبہ کی گردن کٹی ایک محبوب چیز قربان کرتے ہوئے خلیل اللہ بنا دوسرا قربانی کے لیئے تیار ہوتے ہوئے ذبیح اللہ بنا ابراھیم علیہ السلام و اسماعیل علیہم السلام کی گفتگو و عمل سب بھول گئے بس گائے بکری دنبہ قربان کرنے میں لگ گئے دنبہ تو فدیہ کی حیثیت میں آیا اصل بات تو یہ سمجھانا تھی کہ اللہ سے محبت کی جائے تو پھر محبت ہو یا زندگی قربان کرتے سوچا نہی کرتے خلیل اللہ کا بڑھاپا ہے اسماعیل ہی سہارا ہے پھر بھی سوچنے کی مہلت نا مانگی نا کوئی شکوہ نا کوئی شکایت بس لخت جگر قربان کرنے کرنے کو تیار بیٹے کی سعادت مندی کہ باپ سے زیادہ جلدی اللہ کی راہ میں قربان ہونے کی عید قرباں پر فقط گائے بکری دنبہ قربان نا کیجیئے دل سے نفرت بغض و عداوت کا خاتمہ کیجیئے تاکہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت دل میں گھر کر سکے اور عظیم باپ بیٹے کی گفتگو کی اصل سمجھ آ سکے