انسان پریشان کیوں رہتا ہے؟
تحریر عبد الستار سپرا
ایک واقعے کے ذریعے سمجھئیے اصل حقیقت.
ايک بادشاہ نے اللّہ کے ولی کے سامنے اپنی پریشانی بیان کی کہ میرے پاس سب کچھ ہے لیکن میں پریشان رہتا ہوں ۔ اور میرا خادم جس کے پاس کچھ بھِی نہی ہے لیکن وہ بہت مطمئن اور خوش وخرم رہتاہے اسکی کیاوجہ ہے ۔
اللہ کے ولی نے کہا کہ بادشاہ سلامت یہ انسانی فطرت ہےکہ انسان کے پاس اللہ تعالٰی کی جو نعمت ہو تو اسے اس کا احساس نہی ہوتا اور جونعمت انسان کے پاس نہ ہو اس نعمت کے نہ ہونے کی وجہ انسان پریشان ہوجاتا ہے۔
آپکا خادم آپکی طرف اسے دی گئی مراعات پہ خوش ہے اور آپکا شکرگزار ہے اس وجہ سے وہ خوش و خرم رہتا ہے ۔
اور اگر آپ تجربہ کرناچاہے تو ایک تھیلی میں ننانوے اشرفیاں ڈال کر اس پہ سو اشرفیاں لکھ کر اپنے خادم کے راستے میں رکھ دیں اور پھر تماشہ دیکھیں ۔
بادشاہ نے تھیلی میں ننانوے اشرفیاں ڈال کر تھیلی خادم کے گھر کے راستے میں رکھ دی ۔ خادم جب رات کو گھر آنے لگا اور راستے میں اس تھیلی کو دیکھا تو بہت خوش ہوا گھر جاکر اس نے اشرفیاں گنی تو وہ ننانوے نکلی تو یہ خادم گھر سے باہر آیا اور ایک اشرفی ڈھونڈنے لگا کبھِی گھر جاتا کبھی باہر نکلتا پھر اس نے اپنے بچوں کو بھی اس ایک اشرفی کی تلاش میں لگا دیا اور رات دیر تک پریشان رہا یہانتکہ صبح جب بادشاہ کے دربار میں آیا تب بھی غمگین تھا ۔ جس کو دیکھ کر بادشاہ کو سبق ملا کہ واقعی انسان ننانوے نعمتوں کو جو اس کو اللہ نے دی ہوئی ہوتی ہے یاد نہی رکھتا لیکن ایک نعمت جو اسے نہی ملی ہوتی تو اسے یاد رکھتا ہے اسے نہی بھولتا؟











