18 ذوالحجہ(مظلوم مدینہ)
یوم شہادت خلیفہ سوئم سیدنا عثمان ؓ بن عفانؓ
تحریر عبدالستار سپرا
شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ جب باغیوں نے تیسرے خلیفہ راشد عثمان ؓ بن عفان ؓ کے گھر کا محاصرہ کیا تو کم و بیش 40 دن تک پانی بند رہا۔ اس دوران حضرت علی ؓ نے ایک دفعہ پانی پہنچایا۔ پانی پہنچانے کی کوشش میں بنو امیہ اور بنو ہاشم کے بہت سے لوگ زخمی ہو جاتے تھے۔ لیکن پھر یہ بھی بند کر دیا گیا۔ امیرالمومنین ؓ پانی کو ترستے رہے لیکن پانی نہ ملا۔ محاصرے کے شروع کے دنوں میں مسجد نبوی میں نماز کی اجازت تھی لیکن بعد میں بلوائیوں نے مسجد جانے سے بھی روک دیا۔
ایک دن حضرت عثمان ؓ اپنے گھر کی چھت پر چڑھے اور باغیوں کو مخاطب کیا،
“اے لوگوں! کیا تم جانتے ہو جب مسجد نبوی کی توسیع کے لئے جگہ درکار تھی تو نبیﷺ نے کہا کہ جو شخص مسجد کے لئے جگہ دے گا اسکے لئے میں جنت میں ایک گھر کا وعدہ کرتا ہوں تو میں نے اپنے خالص مال سے جگہ خرید کر مسجد کے لئے وقف کر دی تھی”
باغیوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہاں! ہم گواہ ہیں۔
تو حضرت عثمان ؓ نے کہا، ” آج تم مجھے اسی مسجد میں نماز بھی نہیں پڑھنے دیتے”
پھر حضرت عثمان ؓ نے کہا، “جب تمہارے باپ دادا نے ہجرت کی اور مدینہ آباد ہوئے تو پانی کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کیا میں نے ایک یہودی سے بئر رومہ نامی پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف نہیں کیا تھا؟
باغیوں نے کہا بلاشبہ وہ آپ ہی تھے تو آپ ؓ نے کہا کہ اب تم لوگ مجھے اس کنواں کا پانی بھی نہیں پینے دے رہے۔
پھر خلیفہ ؓ نے یاد دلایا کہ ایک دفعہ میں اپنے نبیﷺ کے ساتھ تھا اور ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی تھے۔ ہم پہاڑ پر چڑھے تو پہاڑ ہلنے لگا۔ تب نبیﷺ نے پہاڑ کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ، “تم ہلتے کیوں ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم پر ایک نبیﷺ، ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں”
یہ واقعہ سنانے کے بعد آپ ؓ نے تین دفعہ کہا، “خدا کی قسم میں شہید ہوں”
پھر آپ ؓ نیچے چلے گئے۔ بہت سے صحابہ ؓ نے آپ ؓ سے باغیوں کے خلاف جنگ کی اجازت مانگی لیکن آپ ؓ نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کلمہ گو کا خون بہے۔
18 ذوالحجہ کو چند باغی دیوار پھلانگ کر آپ ؓ کے گھر داخل ہوئے۔ آپ ؓ قران کی تلاوت کر رہے تھے۔ باغیوں کا وار روکنے کے لئے آپ ؓ کی بیوی نے ہاتھ آگے کیا تو انکی انگلیاں کٹ گئیں۔ آپ ؓ کی شہادت قران پڑھتے ہوئے ہوئی۔
یہ سب کاروائی اتنی خاموشی سے ہوئی کہ مدینہ کے لوگوں کو شہادت کا تب پتا چلا جب آپ ؓ کی بیوی نے چھت پر چڑھ کر اشعار پڑھے، جن کا ترجمہ ہے،
“لوگوں تم گھروں میں آرام سے بیٹھے ہو جبکہ اندر امیرالمومنین شہید کر دیئے گئے ہیں”
باغیوں کا مدینہ پر قبضہ ہو چکا تھا۔ آپ ؓ کے وارث آپ ؓ کو اپنے پہلے تین ساتھیوں (حضرت محمدﷺ، ابوبکر ؓ اور عمر ؓ) کے ساتھ دفن کرنا چاہتے تھے لیکن باغیوں کے خوف سے جنت البقیع میں دفن کیا۔
اسلام کے پہلے مظلوم شہید جن پر پانی اور خوراک کی فراہمی بند کر کے شہید کیا گیا۔ لیکن تاریخ دانوں اور ہمارے ملاوں نے اس سے بڑھ کر ظلم کیا جو آج کے مسلمان اس سانحہ سے بے خبر ہیں اور ہر سال آج کا دن 18 ذوالحجہ بہت خاموشی سے گزر جاتا ہے۔
نبیﷺ نے عثمان غنی ؓ کو جنت میں اپنا رفیق قرار دیا۔ اور دنیا میں اپنا داماد بنایا۔ سلام ہو آپ ؓ پر اور آپ ؓ کی عظمتوں پر۔(طالب دعا) عبد الستار سپرا












