امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ یوم وفات 21 اگست 1961
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عمرحیدری

انگریز کے باغی مسلمانوں کے قائد حریت تھے اپنی شخصیت میں کئی تحریکیں سمائے ہوئے تھے زندگی کے آخری ایام میں کسی نے پوچھا شاہ جی زندگی کیسی گزری فرمایا آدھی ریل میں آدھی جیل میں۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ جی کی سوانح حیات سے میں نے جو اندازہ لگایا

آپ نے تقریبا13سال جیل میں گزارے مختلف اوقات میں

تحریک ختم نبوت اور تحریک آزادی ہند میں بڑی جرات کے ساتھ قائدانہ صلاحیت سے قوم میں بیداری پیدا کرنے والے تھے

علامہ اقبالؒ اور بخاریؒ
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ سے جب لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں اپنے ہاتھ پر بیت کر لیجئے علامہ اقبال نے فرمایا جب قوم میں عطاءاللہ شاہ بخاری جیسے مرشد موجود ہوں تو علامہ اقبال اپنے ہاتھ پہ کسی کو بیعت نہیں کر سکتا

قرآن اور بخاریؒ
شاہ جی فرمایا کرتے تھے مجھے زندگی میں ایک چیز سے نفرت ہے اور ایک چیز سے پیار ہے
انگریز سے نفرت ہے اور قرآن سے پیار ہے
متحدہ ہندوستان میں آمنے سامنے کانگرس اور مسلم لیگ کے جلسے ہو رہے تھے شاہ جی رحمت اللہ علیہ جب تقریر شروع کرنے لگے تو حضرت کی عادت تھی کہ پہلے قرآن پاک کی تلاوت کرتے
مخالف سیاسی اور مذہبی اندرا گاندھی نے جب اعلان سنا کہ شاہ جی کا بیان شروع ہونے والا ہے تو اپنا جلسہ چھوڑ کے شاہ جی کے اسٹیج پر پہنچ گئے تمام لوگ حیران کہ اندرا گاندھی ہمارے سٹیج پہ کیسے آگیا شاہ جی نے خطبہ پڑھنا شروع کیا یہ قدموں میں بیٹھ کے قرآن سننے لگ گیا آدھا گھنٹہ تقریبا شاہ جی نے قرآن پاک کی تلاوت کی یہ مزے لے کے سنتا رہا پھر اٹھا اور کہنے لگا کہ
میں صرف شاہ جی کا قرآن سننے آیا تھا اور واپس اپنے جلسے میں چلا گیا
سر سید احمد خان کی علی گڑھ یونیورسٹی میں شاہ جی کی تقریر طے ہو گئی سٹوڈنٹس نے شور مچا دیا کہ ہم مولوی کا بیان نہیں ہونے دیں گے شاہ جی کو پتہ لگا فرمایا کہ مجھے جانے دو
شاہ جی پہنچے اسٹوڈنٹس سے ملے اور فرمایا تقریر نہیں سنتے تو نہ سنو قرآن تو سن لو میرا

تو سب سٹوڈنٹس مطمئن ہو گئے شاہ جی نے ایک گھنٹہ قرآن پڑھا قرآن کا جادو نوجوان سٹوڈنٹس کے دلوں پہ چل چکا تھا
پھر فرمایا اس کا ترجمہ بھی کہو تو سنا دوں!
سب نے کہا ضرور سنائیے شاہ جی نے دو گھنٹے کی تفصیلی تقریر فرمائی اور سارا مجمع لوٹ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حق گوئی۔۔۔۔۔۔۔۔
میانوالی کی جیل میں جب شاہ جی قید میں تھے انگریز کی بغاوت کرنے پر قوم کو ابھارنے کے جرم میں…
توجیلر شاہ جی رحمہ اللہ کے اعمال عبادات چہرے کی نورانیت اور کرامات کی وجہ سے بڑا متاثر ہوا کہنے لگا شاہ جی میں آپ کو چھوڑ تو نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کے علاوہ آپ کوئی میرے لائق خدمت کا حکم کریں میں تیار ہوں
شاہ جی نے فرمایا اگر میرے لیے کچھ کر سکتے ہو تو صرف اتنا کر لو کہ ہندوستان چھوڑ کے دفع ہو جاؤ یہ ہماری سرزمین ہے

پاکستان بننے سے پہلے مخالفت کا موقف
پاکستان بننے سے پہلے شاہ جی رحمہ اللہ کا موقف یہ تھا کہ مسٹر جناح جس خطے کو اسلام کے نام پہ الگ کر کے اس میں آزاد اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں وہ اس زمین کےنقشے پرنہیں بن سکتا اگر مسٹر جناح مجھے اپنا موقف سمجھا دے تو عطا اللہ شاہ بخاری اپنی پگڑی اتار کے مسٹر جناح کے قدموں میں رکھ دے گا اس لیے میرا موقف یہ ہے کہ متحدہ *ہندوستان مسلمانوں کی پراپرٹی ہے 800 سال مسلمانوں نے اس زمین پہ حکومت کی ہے انگریز کو یہاں سے نکال کے مسلمانوں کو اس پر حکومت کرنی چاہیے*

مگر جب پاکستان بن گیا تو شاہ جی نے اپنی آل اور مال اٹھایا اور ھجرت کر کے پاکستان کے شہر ملتان میں سکونت اختیار کر لی
اور ارشاد فرمایا
پاکستان بننے کی مخالفت۔ ۔۔۔بننے سے پہلے تھی اب پاکستان بن چکا ہے اب اس کی مخالفت کرنا میں جائز ہی نہیں سمجھتا مسٹر جناح مرد آہن ثابت ہوا
جو اس نے موقف پیش کیا اس کے اوپر ڈٹ گیا اور پاکستان بن گیا
اس وقت شاہ جی کی بہت ہی متحرک تحریک تھی
مجلس احرار اسلام
جنہوں نے آزادی ہند اور ختم نبوت کے عنوان پر ہزاروں جانیں قربان کی تھیں مقدمات برداشت کیے جیلیں کاٹی شاہ جی رحمہ اللہ نے اپنی تنظیم مجلس احرار اسلام کو تحلیل کر دیا اور فرمایا
میرے سارے کارکن پاک فوج میں بھرتی ہو جائیں
اب پاکستان کے ایک ایک شہر اور بستیوں کی حفاظت کرنا ہم اپنا قومی اور ایمانی فریضہ سمجھتے ہیں
تحریک ختم نبوت 1953اور شاہ جی
ایک بیان میں ارشاد فرمایا اگر *میاں جیﷺ* نے روز حشر مجھ سے پوچھا کہ بخاری میری ختم نبوت کے تحفظ کیلئے کیا کرکے آئے ہو؟
تو میں کہوں گا یارسول اللہﷺ
ایک دن میں لاہور میں 10ہزار* *نوجوانوں کی قربانی دے کے آیا ہوں
یہ چند باتیں دماغ کی میموری سے احباب کیلئے شئیر کردی ہیں تاکہ اللہ راضی ہو جاے اور ہمیں اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فرماے

کانوں میں رس گھولتے ہیں بخاری کے زمزمے
بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول ﷺ میں
والسلام
خاک پائے اصحاب و آل علیھم الرضوان21/08/2024

*پنجاب میں سائبر کرائم ایکٹ کا مسودہ تیار، 3 ماہ سے 14 سال تک قید تک ہوگی*

لاہور: پنجاب میں سائبر کرائم ایکٹ کا مسودہ تیار کرلیا گیا جس کے تحت 3 ماہ سے 14 سال تک قید کی سزا ہوسکے گی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں پہلی مرتبہ صوبائی سائبر کرائم ایجنسی بنانے کے لیے ’پنجاب سائبر کرائم کنٹرول ایکٹ 2024‘ کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جو ابتدائی منظوری کے لیے پنجاب کابینہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور قانون سازی میں پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق کرائم کنٹرول ایکٹ 2024 کے تحت سائبر ٹیررازم، چائلڈ پورنو گرافی، جنسی استحصال نا قابل ضمانت جرم ہونگے، متاثرہ شخص اورگواہ کو پروٹیکشن فراہم کی جائیگی، ایکٹ کے تحت سائبر کرائم ایجنسی بھی بنے گی جب کہ سائبر کرائم پر 3 ماہ سے 14سال تک قید کی سزا ہوگی۔

ایکٹ کے تحت ٹرائل کے لیے علیحدہ عدالتیں ہونگی، اس سے قبل سائبر کرائم کے حوالے سے وفاق نے ’پیکا ‘ ایکٹ بنایا تھا جو اس وقت نافذ العمل ہے۔

انتہائی معتبر ذرائع کا بتانا ہے کہ محکمہ داخلہ کے ماتحت اس سائبر کرائم ایجنسی اور قانون کا مقصد انفارمیشن سسٹم کے حوالے سے تمام ممنوعہ اقدامات سے بچاؤ ہے اور ایکٹ کے ذریعے صوبائی حکومت انفارمیشن سسٹم سے متعلقہ جرائم کی تحقیقات جب کہ پراسیکیوشن ٹرائل کرسکے گی۔

ذرائع کے مطابق یہ قانون کسی ڈیٹا یا انفارمیشن سسٹم تک غیر قانونی رسائی، بچوں کی جنسی حراسگی کے متعلق مواد، ڈارک ویب، ڈیٹا کو نقصان پہنچانے، الیکٹرانک اور فنانشل فراڈ، جنسی حوالے سے واضع طرز عمل، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، غیر قانونی انٹرسیپشن، غیر مطلوبہ معلومات تک رسائی، غیر قانونی طور پر ڈیٹا یا اس کی ٹرانسمیشن کی کاپی کرنے والوں پر لاگو ہوگا۔

اس کے علاوہ سائبر ٹیررازم، نفرت انگیز تقاریر، دہشتگردی کے لیے ریکروٹمنٹ، فنڈنگ اور پلاننگ، الیکٹرانک جعل سازی اور فراڈ، غیر قانونی طور پر موبائل سم کا اجرا، چائلڈ پورنو گرافی، بچوں کی تجارت اور ان کا جنسی استحصال، اغوا کے لیے معلومات کا استعمال، بچوں کی غیر قانونی اسمگلنگ، سائبر غنڈہ گردی، سائبر اسپیمنگ اور جعلسازی کرنے والوں پر بھی پنجاب سائبر کرائم ایکٹ 2024 لاگو ہوگا۔