سپریم_کورٹ_میں1974ء_کی_یاد_تازہ_ہوگئی
(اجالا)
کالم نگار عبدالقدوس محمدی
آج سپریم کورٹ میں حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے 1974ء اور حضرت مفتی محمود صاحب کی یاد تازہ کر دی اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے حضرت بنوری کا وارث ہونے کا حق ادا کر دیا-بلا شبہ آپ دونوں ہمارا قیمتی اثاثہ اور سرمایہ ہیں-
1974 ء میں حضرت اقدس سید محمد یوسف بنوری صاحب،حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب،حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صاحب اور پروفیسر غفور احمد صاحب سمیت دیگر زعماء ملت نے جو فرض کفایہ ادا کیا تھا آج کے دور کی قیادت نے بھی تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے الحمد لله اسی تاریخی تسلسل اور روایات کو برقرار رکھا-
1974ء میں بھی امت کا اجتماعی موقف مرتب کرنے کی سعادت آج کے صدر وفاق،شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور شہید اسلام حضرت مولانا سمیع الحق صاحب کے حصے میں آئ تھی اور آج بھی مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی طرف سے پیش کیے گئے موقف کو ہی پوری قوم کا موقف قرار دے کر نہ صرف مولانا نے اس کی تائید کی بلکہ تمام مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات نے سپریم کورٹ میں بیک آواز ہوکر جس طرح امت کا موقف پیش کیا وہ بلاشبہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔۔اجتماعی موقف کی تیاری اور سب اہم لوگوں کو ایک پیج پر لانے کے معاملے میں حضرت شیخ الاسلام صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خصوصی معاونت حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن صاحب اور حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے کی اور ان کے ساتھ اہلحدیث رہنما ڈاکٹر یاسین ظفر صاحب اور جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب نےہمیشہ کی طرح بہت بروقت،بہت مدلل،بہت متوازن اور حکمت و تدبر سے بھرپور موقف تیار کیا اور دیگر تمام اداروں نے اس مشترکہ موقف کی تائید و تصویب کی-عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ختم نبوت محاذ پر سرگرم عمل تمام جماعتوں اور افراد نے تاریخ کے اس اہم ترین موڑ پر اپنی ذمہ داریوں کو خوب نبھایا اور اسلام آباد راولپنڈی کے علماء کرام بالخصوص حضرت مولانا قاضی عبدالرشید صاحب،مولانا قاضی مشتاق صاحب،مولانا ظہوراحمد علوی صاحب اور مولانا نذیر فاروقی صاحب سمیت دیگر اہل مساجد و مدارس اور تمام مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات نے 19 اگست کا تاریخ ساز مظاہرہ کرکے پوری قوم کے جذبات و احساسات کی خوب نمائندگی کی۔ــــیہ ایک ٹیسٹ کیس ہے۔۔۔یہ تاریخ کا نازک ترین دوراہا ہے۔۔۔اللہ رب العزت کی رحمت سے امید ہے کہ کریم پروردگار اس موقع پر بھی اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کو سرخرو فرمائیں گے۔ان شاء اللہ۔۔۔اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مفتی محمد تقی عثمانی،مولانا فضل الرحمٰن،مولانا محمد حنیف جالندھری اور مفتی منیب الرحمن صاحب کے عہد میں جی رہے ہیں اور اس مبارک محنت میں کسی درجے میں شریک ہیں۔۔۔اللہ کریم اس کی برکت سے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور ان کا قرب عطا فرما دیں۔آمین










