سالگرہ مبارک سلطان احمد علی صاحب🌹

تحریر۔۔
۔ندیم بھابھہ

2008 کی کوئی شام تھی جب میں پہلی بار سلطان احمد علی صاحب سے ملا ، پہلی ملاقات لاہور میں ہوئی ٹھہراؤ سے بھرپور ایک مکمل مطمئن نوجوان میرے سامنے تھا ، جس کے بدن سے رجوع کی خوشبو آ رہی تھی مجھے قرآن کی آیت یاد آنے لگی ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً۔
یہ وہ دن تھے جب میں زندگی کی توڑ پھوڑ کا شکار تھا ، گناہ و ثواب میرے نزدیک بس واقعات تھے ، خیر اور شر ایک دوسرے کی ضد کے طور پر میرے سامنے رہتے تھے اور میں کائنات کو محض ایک سسٹم سمجھتا تھا جس میں تبدیلی ناممکن تھی یا کم از کم غیر ضروری تھی ، اس ملاقات میں زبان کم اور نگاہ زیادہ بول رہی تھی ، کچھ باتیں میں نے کیں جنہیں صاحبِ سماعت نے پوری توجہ سے سنا اور ضیافت کے بعد الوداعی کلمات کے ساتھ ہم جدا ہوگئے ، ایک واقعہ تھا جو ہو چکا ، میں اس کے بعد پھر سے زندگی کے ضروری و غیر ضروری معاملات میں کھو گیا مگر کوئی نہ کوئی جملہ یا کوئی نہ کوئی ادا مجھے مختلف مقامات پر یاد آتی رہی ۔
ایک دن طے کیا کہ اس نوجوان سے ملتے رہنا چاہئے سو ملاقاتوں کا بندوبست ہونے لگا ، بہت سی ملاقاتوں میں علم ہی نہ ہو سکا کہ یہ نوجوان کتنا بھرا ہوا ہے ، نہ کوئی عالمانہ رعب نہ کوئی پیرانہ اطوار بس ایک عام نوجوان جیسی شخصیت ، مجھے تو یہ بھی تب تک علم نہ تھا کہ موصوف کتنی بڑی گدی کے وارث ہیں ، تب تک مجھے بس یہی معلوم تھا کہ سلطان احمد علی کتابوں سے محبت کرتے ہیں ، شاعری کی روح کو سمجھتے ہیں اور اقبال کے افکار سے بہت متاثر ہیں ۔ ایک شاعر کے لیے یہی بہت ہے ۔
احباب ملاقاتیں ہوتی رہیں ، باتوں کا دورانیہ بڑھتا رہا اور آہستہ آہستہ میں گھائل ہوتا رہا ، گفتگو میں کبھی کبھی میں بے لگام ہو جاتا اور ایسی باتیں بھی ہو جاتیں جو نہیں ہونی چاہئیں تھی مگر کمال ظرف سے ان باتوں کو نظرانداز کیا جاتا تھا ، جس کا اندازہ مجھے بعد میں ہوتا ، شاید سلطان احمد علی ایک شاعر کی دماغی وارداتوں کو مکمل سمجھتے تھے اس کے اندر کی منفی و مثبت کشمکش کو پوری طرح جانتے تھے ۔
لب و رخسار کا گھائل شاعر آہستہ آہستہ نگاہ و زلف کا اسیر ہوتا رہا ، ہر وقت قافیہ ردیف کو دھیان میں رکھنے والا اب کائنات و ماورائے کائنات ، مکان و لامکاں کے معاملات میں کھونے لگا ، نہ جانے کب ہوا اور کیسے ہوا پر اب مجھے ہر بات ہر واقعے میں سلطان احمد علی یاد آنے لگے ، آخر ایک دن میں نے اپنی تمام تر گہرائیوں سے مان لیا کہ سلطان میرے لیے بہت ضروری ہیں کیونکہ مجھے ان سے محبت ہو چکی ہے ۔
گرمیوں کا موسم تھا میں سکیسر کی وادی سون میں تھا ، رات بھر بارش نے جگائے رکھا اگلے دن ایک اجتماع میں شریک ہونا تھا جہاں سلطان احمد علی نے تقریر کرنا تھی ، مرحوم سید امیر خان نیازی کے ساتھ میں پنڈال میں پہنچا ، میں جسے تقریروں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی محض مقرر کو دیکھنے وہاں موجود تھا اتنے میں سلطان احمد علی محوِ کلام ہوئے نہ چاہتے ہوئے لفظ میرے دماغ میں تصویریں بنانے لگے ، گفتگو عالمِ اسلام پر ہو رہی تھی اور ایک مقام ایسا آیا کہ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ سچی بات ہے میں پہلی بار شرمندہ ہوا کہ یہ کیا تم تقریر پر رو رہے تقریر جو کہ ایک فن ہے مگر شاید ایسا نہ تھا وہ تقریر نہ تھی اگر تقریر ہوتی تو اس میں کرامتیں سنائی جاتیں ، زہد و تقویٰ کی باتیں بتائی جاتیں ، فرض ، واجب ، سنت ، نفل کے درجات سمجھائے جاتے مگر وہاں تو عالمِ اسلام اور انسانیت کی باتیں کی جا رہی تھیں ، معاشرے میں رہنے کے سلیقے بتائے جا رہے تھے ، اسلاف کی عظمت کی وجوہات بیان کی جا رہی تھیں ، نہ تو نعروں کی سہولت تھی کہ مقرر تھوڑا سانس لے لے اور نہ ہی گریہ و بین تھے کہ بات عقل سے نکل کر جذبات میں ملفوف ہو کر اثر حاصل کرے ۔ دورانِ سماعت مجھے احساس ہوا کہ جیسے رات کی بارش کی نمی اور میرے آنسو آپس میں مل چکے ہیں ، میرے ساتھ ساتھ ہوا بھی سوگوار تھی ایک ایسا سوگ جس میں دکھ سے زیادہ خود سے بے خبری کی ندامت تھی ۔
سلطان احمد علی صاحب سے میں نے بہت کچھ سیکھا اب جو میں دکھائی دیتا ہوں یہ سلطان احمد علی ساختہ ندیم ہے اور اب تو میں یہ بھی بھول چکا ہوں کہ سلطان سے کیا سیکھا ۔ ہماری ہزاروں باتیں ہوئیں ہزاروں ملاقاتیں ہوئیں ، میں نے آج تک ایک جملہ ایسا نہیں سنا جو قابلِ گرفت ہو یا جس میں ادب و احترام موجود نہ ہو ۔
میں بوڑھا ہونے لگا اور سلطان احمد علی بزرگ ، مجھے بوڑھا ہی ہونا تھا وہ اس لیے بھی کہ میرا حوصلہ سلطان کو بننا تھا ، میرا سہارا سلطان ہیں یہ لوحِ محفوظ پر جیسے تحریر تھا ، زندگی کے معاملات پھیلنے لگے جو مشورے میں کبھی قبلہ والد صاحب کے ساتھ کرتا تھا ان کے وصال کے بعد اب وہی مشورے میں سلطان احمد علی سے کرتا ہوں ، محبت مودت میں بدلنے لگی ، عشق احترام میں ڈھلنے لگا ، علم روشنی ہونے لگا اور کلام دعا بننے لگا ۔
غالب نے فرمایا تھا ، بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے اور میں نے دیکھ لیا کہ واقعی یہ بازیچہ اطفال ہے ، سلطان احمد علی جب بھی میرے پاس تشریف لاتے ہیں ہم قبلہ خالد احمد کی شاعری پڑھتے ہیں اور مصرع مصرع بسر کرتے ہیں ، کیفیت یوں بنتی ہے کہ مجھے خالد احمدؒ صاحب سلطان احمد علی صاحب میں دکھائی دینے لگتے ہیں ۔
کیا ہویا بت اوڈھر ہویا دل ہرگز دور نہ تھیوے ھو
آج سلطان کی سالگرہ ہے گویا میرے ایمان کی سالگرہ ہے ، ایک ایسے عالم کی سالگرہ ہے جس کی تقریر نعروں سے ہٹ کر فکر کی دعوت دیتی ہے ، جس کا علم حجابات سے نکال کر نور کی وادیوں میں لے جاتا ہے ، جو کرامت سے زیادہ استقامت کی بات کرتا ہے ، جو جنت دوزخ سے نکال کر خدا کے خیمے میں لے جاتا ہے ، جو کل کے لیے آج کو خوبصورت بنانا سکھاتا ہے ، جو علم پڑھا کر عمل بنا دیتا ہے ، جو اسم ذات کے مطالعے کے ساتھ ساتھ انگریزی کتابوں کے مطالعے کی دعوت دیتا ہے ، جو انہونی کو سمجھنے کے لیے فزکس کو جاننے کی تبلیغ کرتا ہے ، جو مریدوں کو مریدانہ مبالغے سے نکال کر حقیقت کی گفتگو کی تلقین کرتا ہے ، جو سراپا ادب ہے جس کی پیشانی پر لاتخف کے انوار دکھائی دیتے ہیں ، جو مراقبوں سے زیادہ حرم کے درد کی درمانی سکھاتا ہے ، جو وحدتِ انسانیت کی بات کرتا ہے ۔
تصوف کے نام پر بک جانے والو تمہارے خریدار بہت ہیں اگر تمہیں یار چاہئے توایک بار سلطان سے ضرور ملو، سلطان تمہیں سلطان الفقر کی بارگاہ تک لے جائے گا وہی فقر جس میں فخر ہے ۔
میری یہ تحریر سلطان کے ساتھ گزرے ایک لمحے کا حق بھی ادا نہیں کر سکتی اگر صحیح معنوں میں آپ نے سلطان احمد علی کو سمجھنا ہے تو میری خاموشی کی تلاوت کیجے ۔

ندیم بھابھہ
Nadeem Bhabha