درست سمت میں بڑھتے قدموں کی آہٹ۔

تحریر حاجی غلام شبیر منہاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پرورش ہاسٹل کے ان ننھے فرشتوں، جن کے سروں پہ والدین کا سایہ شفقت نہیں۔۔۔ان میں سے پانچ بچوں کا پہلا منصوبہ تھا۔۔ابتدائی طور پہ پانچ بچے اس ریسرچ میں شامل تھے مگر ان میں سے تین بچے کچھ عرصہ بعد ہمت ہار گئے۔۔مگر ہمارے دو ہیروز لگے رہے۔۔۔یہاں تک کہ بالآخر وہ اپنا پرفیوم لانچ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔۔
ہوا کچھ یوں کہ بچے جب ہاسٹل سے باہر کھیل کیلئے جاتے تو ساون کے ماہ میں ہر طرف ہریالی تھی اور ان گنت جڑی بوٹیاں۔۔پانچ بچوں نے باہمی مشورہ کیا کہ ان جڑی بوٹیوں کا بھی کوئی مقصد ضرور ہو گا۔۔چنانچہ انہوں نے مختلف قسم کے چار پانچ جڑی بوٹیوں کو توڑا۔۔ہاسٹل لائے۔۔۔انہیں پیسا۔۔۔اس میں پانی ڈالا۔۔اور بوتل میں کچھ دنوں کیلئے رکھ دیا۔۔۔مطلوبہ مدت کے بعد جب کھولا تو انکا خیال تھا کہ یہ ایک خوشبو بن چکی ہو گی مگر انکشاف ہوا کہ یہ تو ناگوار بو بن چکی یے۔۔۔یوں تین بچوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔۔مگر احسن اور فاروق نے ہمت نہ ہاری۔۔۔یہ لگے رہے۔۔اور اس پہ تحقیق شروع کر دی کہ کونسی جڑی بوٹیاں بو پیدا کرتی ہیں اور کونسی سے خوشبو کشید کیجا سکتی ہے۔۔۔
بالآخر پرورش کے یہ دونوں ننھے سائنسدان اپنے اس منصوبہ میں کامیاب ہو گئے۔ اور ایک بہترین خوشبو بنا ڈالی۔۔۔
ہم لوگ اس مبارک ماہ میں اپنی اس خوشبو کو لانچ کرنا چاہ رہے تھے مگر ان ننھے فرشتوں کے فرسٹ ٹرم پیپرز شروع ہو گئے جسکی وجہ سے یہ منصوبہ التواء کا شکار ہو گیا۔۔
بہت جلد ان شاءاللہ پرورش کا پہلا شاہکار مارکیٹ میں ان ہو جایئگا۔۔جو ادارے کا بھی خودکفالت کیطرف پہلا عملی قدم ہو گا۔۔آپ جب بھی پرورش تشریف لایئں تو خوشبو لگانا مت بھولیے گا۔۔۔امید ہے ہمارے بچوں کی یہ تخلیق آپکو پسند آئےگی۔۔جو احساس محرومی، دکھ، غم ، زمانے کی ستم ظریفیوں، اپنوں کی بے رخیوں اور نامساعد حالات کی تپتی بھٹیوں سے گزرنے والے ان نونہالوں کیطرف سے آپ سب کیلئے ایک فرحت بخش تحفہ ہو گا۔۔
ہاں۔۔جانے سے پہلے اگر مناسب سمجھیں تو اس خوشبو کا نام تجویز کرنے میں بھی ہماری اور ہمارے ان بچوں کی مدد کرتے جایئں۔۔۔
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔آمین
پرورش ہاسٹل چک ملوک ضلع چکوال۔