علم وادب کی توانا آواز
شیخ امتیاز

تحریر متین قیصرندیم

*کشید کرتے ہیں سبھی تارے روشنی

اکیلا چاند دیکھو کتنوں کا سہارا ہے*
باہو کی دھرتی کا سپوت جس نے لکھا بھی کمال بولا بھی کمال ۔صحافت کی شان محکمہ تعلیم کا چمکتا دمکتا آسمان و طرہ امتیاز شیخ امتیاز احمد رحمانی ۔دل آویز مسکراہٹ اور چہرے پر سنجیدگی لیے ہمہ وقت تعلیمی میدان میں فروغ تعلیم کیلے کوشاں ۔محکمانہ مسائل اور یونین فورم پر بے باک اور مستند آواز
جی ہاں صحافتی میدان میں گڑھ مہاراجہ پریس کلب کا قیام *سٹار نیوز*کے بانی جس نے سوشل میڈیا میں نمایاں مقام حاصل کرلیا .

*ضروری نہیں کہ ہم سب کو پسند أئیں
زنڈگی ایسی جیو کہ رب کو پسند أئے*
اچھے کالم نگار جن کا اسلوب تحریر موضوعاتی سنجیدگی ،حالات کی عکاسی اور عام فہم قارئین کے دل کو چھوتاہوا کالم ۔میرے جیسے درجن بھر صحافیوں کا استاد ،علاقہ کا معزز نمایاں نام علم دوست شخصیت سوشل ورکراور دینی و دنیاوی معلومات کا خزینہ حاضر جواب مقرر ،سماجی معاملات کا شاعر جس کے پیچھے ایوارڈ بھاگتے ہیں ۔ادبی و تعلیمی خدمات پر ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھنڈر کی جانب سے پارس ایوارڈ ان کی جیتی جاگتی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔قابل ٹیچر، اعلی منتظم اور بزم ادب کے پروگراموں کے ذریعے فنون ادب کے ہیرے تراشنے والی علمی وادبی شخصیت امتیاز رحمانی باہو کی دھرتی کا پوری آب و تاب سے چمکتا درخشندہ ستارہ ،مینارادب جو علاقہ بھر میں علم و ادب کے پیاسوں کیلے سمندر کی حیثیت رکھتے ہیں

*جس قوم میں استاد کی عزت نہیں ہوتی
اس قوم کو دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی
استاد سے بڑھ کر جو کرے راہ نمائی
ایسی کوئی دنیا میں قیادت نہیں ہوتی
اخلاق ہی ہوتے ہیں بلندی کی نشانی
دولت تو ترقی کی علامت نہیں ہوتی*
سٹار ایوارڈ ، میموریل تقریبات اور اجتماعی شادی کی تقریب ۔مشاعرہ ہو ۔سیمینار ہو ان کی شرکت بنا پروگرام ویران لگتے ہیں
“من لا يكتفي بك لا يستحقك”
“جو آپ سے مطمئن نہیں وہ آپ کے لائق نہیں
* میرے نظریات مجھے تنہا کرتے ہیں

منافق ہو جاؤں تو ابھی بھیڑ لگ جائے..
*میرا قدم قدم پر مدد گار ہے خدا
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ-

* جتنا بدل سکتا تھا بدل لیا خود کو
اب جس کو شکایت ہے وہ اپنا راستہ بدل لے*

خُـــوبصُورَت ہونا اَچھّا ہے…مگر!
اَچھّــــا ہونا بہت ہی خُوبصُورَت ہے

سلیوٹ میری دھرتی کے سپوت عزت و شہرت تیری قدم بوسی کرے آمین